خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیوں کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
انہوں نے یہ بات پشاور میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر پریس بریفنگ کے دوران اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
گورنر نے واضح طور پر کہا کہ ریاست، آئین اور قانون کو تسلیم نہ کرنے اور ہتھیار اٹھانے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہتھیار اٹھانے والوں کو اسی زبان میں جواب دیا جائے گا اور دہشت گردوں کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے سکیورٹی ضروریات کے لیے ایک سو ساٹھ ارب روپے طلب کیے تھے، جس کے لیے وفاقی حکومت نے تعاون کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پولیس کو جدید اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تنخواہیں بہتر کرنے اور شہداء کے خاندانوں کو امدادی پیکجز دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔