وفاقی حکومت نے کم قیمت اور الیکٹرک گاڑیوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے نئی آٹو پالیسی کا اعلان کیا ہے۔
صنعتوں اور پیداوار کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر خان نے آج اسلام آباد میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس میں پالیسی کے اہم نکات بتائے۔
ہارون اختر نے کہا کہ یہ پالیسی چھ بنیادی نکات پر مشتمل ہے، جن میں بالخصوص متوسط اور کم آمدن والے طبقے کے لیے سستی گاڑیاں، برآمدات میں اضافہ، الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ، مقامی پیداوار میں اضافہ، گاڑیوں کا تحفظ اور شفافیت شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی تیاری کی لاگت کم کرنے کے لیے درآمدی ڈیوٹیز میں کمی کی گئی ہے، جس سے مقامی طور پر تیار کردہ کم قیمت گاڑیاں بالخصوص کم آمدنی والے افراد کو دستیاب ہوں گی۔
ہارون اختر نے کہا کہ تیرہ سو سی سی سے کم گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنا وزیراعظم کی خصوصی ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی مقامی سطح پر تیاری اور ان کی برآمدات بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ پانچ سال کے دوران گاڑیوں کی برآمدات کے لیے چھ ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی مقامی گاڑیوں کی تیاری اور برآمدات کو فروغ دے گی، جس سے عام آدمی کو سستی، معیاری اور ماحول دوست گاڑیاں فراہم ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی کی تیاری کے دوران تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی گئی، تکنیکی اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا اور مختلف ملکوں میں رائج طریقۂ کار کا مطالعہ کرکے ان کا موازنہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے آٹو سیکٹر میں متوسط طبقے کے لیے سہولتیں پیدا کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لڑکیوں اور اسکول، کالج اور دفاتر جانے والی خواتین میں الیکٹرک اسکوٹرز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور اسکوٹرز کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے ملک کے بڑھتے ہوئے تیل کے درآمدی بل میں بھی کمی آئے گی، جس کا بوجھ بالآخر غریب عوام پر پڑتا ہے۔
انہوں نے نئی آٹو پالیسی کو ایک جامع پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے خصوصی مراعات دی گئی ہیں، جبکہ مقامی پیداوار کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ مقامی صنعت اس وقت تک مکمل فائدہ مند نہیں ہو سکتی جب تک گاڑیاں تیار کرکے برآمد نہ کی جائیں اور روزگار کے مواقع پیدا نہ ہوں۔