جَون ایلیا کا پہلا شعری مجموعہ “شاید” ۱۹۹۱ء میں منظرِ عام پر آیا۔ جَون اُس وقت ساٹھ برس کے ہوچکے تھے اور یہ اُن کی زندگی میں شائع ہونے والا اُن کا پہلا اور آخری شعری مجموعہ ثابت ہوا۔
“شاید” کے سرورق پر دراز زلفوں والے جَون کی ایک رومانوی سی مصورانہ شبیہ تھی۔ مجموعے کا نام بھی بڑا پُراسرار، سحرانگیز اور خود جَون کے مزاج کا آئینہ دار تھا: “شاید”—ایک ایسا لفظ جس میں نہ مکمل اقرار تھا، نہ صاف انکار؛ محض ایک احتمال تھا، جس میں جَون کی پوری شاعری، پوری شخصیت اور شاید اُن کی پوری زندگی سما سکتی تھی۔
یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ احمد فراز، منیر نیازی، قتیل شفائی، پروین شاکر، محسن نقوی، امجد اسلام امجد اور سلیم کوثر وغیرہ جیسے مقبول شُعرا کی موجودگی میں جَون نے اپنی “شاید” کی بنیاد پر دنیائے اُردو ادب میں کوئی بھونچال برپا کردیا تھا ۔ ہاں، اتنا ضرور ہوا کہ اُس زمانے کے نوجوانوں میں چیدہ چیدہ “ایلیائی” بننے لگے۔
یہ وہ نوجوان تھے جنہوں نے جَون ایلیا جیسی لٹیں دَھار لیں اور اپنے کمروں کی میز پر “شاید” کو باقی تمام کتابوں کے اُوپر رکھنے لگے۔ کسی مہمان کی آمد پر کتاب اٹھاتے، اس کے صفحات بار بار الٹتے اور پھر جَون کا کوئی شعر یا غزل پڑھ کر سنا دیتے—خواہ سننے والا اس کا متقاضی ہوتا یا نہ ہوتا۔
جَون کے انتقال کے بعد ان کے دوسرے شعری مجموعے یکے بعد دیگرے سامنے آئے: “یعنی” ۲۰۰۳ء میں، “گمان” ۲۰۰۴ء میں، “لیکن” ۲۰۰۶ء میں اور “گویا” ۲۰۰۸ء میں شائع ہوا۔ بعد کے برسوں میں ان کی شاعری اور نثر کی مزید کتابیں بھی منظرِ عام پر آئیں۔ ہر نئی کتاب کے ساتھ جَون کے قارئین کا حلقہ وسیع ہوتا گیا اور “ایلیائیوں” کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہونے لگا۔
جَون واقعی خوب صورت شعر کہتے تھے، مگر مشاعرے میں اس سے بھی کہیں زیادہ کج ادائی، ڈرامائیت اور دل فریب بے نیازی کے ساتھ اُنہیں پڑھتے تھے ؛ اور یہی اُن کا بڑا وصف تھا ۔ ایک مشاعرے میں اپنا شعر
تم نہیں بولتی ہو۔۔۔۔۔۔ مت بولو
ہم بھی اب تم سے نہیں بولیں گے
پڑھا اور پھر مائیک چھوڑ کر چلتے بنے ، ایسے جیسے کوئی خفا ہوکر محفل سے اُٹھ کر چلا جاتا ہے ۔
جس نے جَون کو مشاعرے میں شعر پڑھتے دیکھ لیا، وہ مستقل نہ سہی، وقتی طور پر ضرور ایلیائی ہوا؛ البتہ جس نے ان کے کسی چیدہ شعر کے ہاتھوں دل پر چوٹ کھائی، وہ آج بھی ایلیائی ہی ہے۔
جَون کی شہرت بڑھی تو ان کی دریافت کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ پڑھنے والوں نے اُن کی شاعری، شخصیت، عشق، تنہائی، انکار اور خود اذیتی کے پسِ پردہ چھپے کرداروں اور واقعات کو کھوجنا شروع کیا۔ ان دریافتوں کا پہلا بڑا معمہ “فَارِہہ” بنی۔
وہ فَارِہہ، جسے جَون نے کبھی اپنی جانِ جاں، کبھی نوائے جاوداں، کبھی داستانِ داستاں، کبھی نگارینہ، کبھی فروزینہ، کبھی اپنا خیال، کبھی نوشیں زباں، کبھی زمین و آسمان، کبھی بہارِ بے خزاں، کبھی مکانِ جاوداں، کبھی اپنے خوابوں کے بے جہان عالم کا آسمان اور کبھی اپنا ہندوستان کہا۔
“فروزینہ” کا لفظ آتش افروزی، چقماق اور آگ روشن کرنے والی شے کا مفہوم رکھتا ہے؛ گویا فَارِہہ ایک ایسا آتش گیر وجود تھی جسے دیکھیں تو خود خاکستر ہوجائیں۔
لیکن یہ تمام القاب محض کسی محبوبہ کے حسن کی تعریف نہیں کرتے۔ ان کے ذریعے فَارِہہ،محبوبہ سے بڑھ کر جَون کی زبان، کائنات، بہار، خواب، جائے پناہ اور کھوئے ہوئے وطن کی علامت بن جاتی ہے۔ اس ایک نام میں عورت، محبت، تخیل، زبان اور ہندوستان ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہوجاتے ہیں کہ انہیں الگ کرنا دشوار ہوجاتا ہے۔
سوال یہ تھا کہ فَارِہہ آخر تھی کون؟ امروہہ کی کوئی حقیقی لڑکی؟ جَون کی کوئی عزیزہ یا رشتہ دار؟ کسی قدیم عربی یا فارسی داستان کا کردار؟ یا پھر جَون کے تخیل میں مجسّم ہونے والا ایک ایسا مثالی وجود، جو تاریخ و تقویم کے کسی دن سرے سے پیدا ہی نہیں ہوا تھا؟
*حقیقی فَارِہہ کی تلاش:*
جَون کی حقیقی زندگی میں فَارِہہ کو تلاش کرنے والوں نے اسے کبھی امروہہ کے کسی خاندانی عشق کا فرضی نام قرار دیا اور کبھی ایک ایسی محبوبہ بتایا جس سے جَون اظہارِ محبت نہ کرسکے۔ جدید سوانحی تعارفوں میں یہ دعویٰ بار بار دہرایا ضرور گیا ہے، مگر کسی بیان کے ساتھ جَون، ان کی ہمشیرہ شاہ زنان نجفی یا خاندان کے کسی دوسرے فرد کا کوئی قابلِ تصدیق حوالہ موجود نہیں۔ جَون کی بھانجی ہما جمال رضوی کے دستیاب تفصیلی انٹرویو میں بھی فَارِہہ کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اس لیے فَارِہہ کو کسی حقیقی خاندانی لڑکی کا پردہ دار نام قرار دینا فی الحال ایک روایت تو ہے، ثابت شدہ سوانحی حقیقت نہیں۔
انگریزی روزنامے “دی ٹریبون” میں ۲۶ اگست ۲۰۱۸ء کو شائع ہونے والی رانا صدیقی زمان کی تحریر “اِن سرچ آف جَون ایلیا” میں بھی فَارِہہ کو جَون کی حقیقی محبوبہ قرار دیا گیا ہے۔ وہاں اسے “فاریہ نگارینہ” کہا گیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہ جَون سے اس لیے شادی نہ کرسکی کہ جَون ایک آوارہ منش اور بے ٹھکانہ شخص تھے۔ لیکن اس بیان میں نہ اس لڑکی کا اصل نام بتایا گیا، نہ اس کے خاندان، زمانے اور مقام کی کوئی تفصیل دی گئی اور نہ دعوے کا کوئی ماخذ پیش کیا گیا۔
مزید یہ کہ “فاریہ نگارینہ” خود جَون کی شعری لغت کے دو الفاظ—“فَارِہہ” اور “نگارینہ”—سے تشکیل پانے والا ایک شعری نام معلوم ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ بیان فَارِہہ کے حقیقی وجود کا ثبوت فراہم کرنے کے بجائے اسی سوانحی روایت کی ایک اور غیر مصدقہ کڑی بن جاتا ہے۔
فَارِہہ کا سراغ خارجی روایتوں کے بجائے خود جَون کی تحریروں میں تلاش کیا جائے تو معاملہ یکسر مختلف رُخ اختیار کرلیتا ہے۔
*جَون کا تخیلاتی محبوب تراشنے کا اعتراف:*
فارہہ کے وجود کے حقیقی یا غیر حقیقی ہونے پر کسی قسم کی بحث سے پہلے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اپنے پہلے شعری مجموعے “شاید” کے دیباچے میں جَون خود یہ راز آشکار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ انہیں خیالی محبوباؤں کو وجود بخشنے، ان سے مکالمہ کرنے اور پھر تخیلاتی وارداتوں کو حقیقی یادداشت کے انداز میں بیان کرنے کا شغف بچپن ہی سے تھا۔
وہ لکھتے ہیں کہ آٹھ برس کی عمر میں ان کی زندگی کا پہلا بڑا حادثہ پیش آیا اور وہ ایک “قَتّالہ لڑکی” کی محبت میں گرفتار ہوگئے۔ یوں قاری کو ایک حقیقی لڑکی، ایک متعین عمر اور بچپن کے ایک قابلِ تاریخ واقعے کا یقین دلایا جاتا ہے؛ لیکن اگلے ہی لمحے جَون خود اس واقعے کی تمام تاریخی بنیادیں منہدم کردیتے ہیں۔
جس دن یہ عشق شروع ہوا، وہ جَون کے بقول نہ ہفتے کے دنوں میں سے کوئی دن تھا، نہ مہینے کے دنوں میں سے، نہ سال کے تین سو پینسٹھ دنوں میں شامل تھا اور نہ تاریخ و تقویم کا کوئی دن؛ بلکہ وہ “زمانِ مطلق” یا “دَہر” کا کوئی دن تھا—اگر زمانِ مطلق یا دَہر کا کوئی دن “فرض” کیا جاسکتا ہو۔
لفظ “فرض” اس پوری واردات کا بھید کھول دیتا ہے۔ جَون جس واقعے کو پہلے اپنی آٹھ سالہ عمر کی حقیقی سرگزشت بنا کر پیش کرتے ہیں، وہ تاریخ اور عالمِ واقعہ کے بجائے جذبے اور تخیل کی سطح پر رونما ہوا تھا۔ اگلے صفحے پر وہ اسی لڑکی کے اپنے گھر آنے، اسے دیکھ کر فوراً لقمہ نگل لینے اور محبوب کے سامنے کھانا چبانے کو غیر جمالیاتی سمجھنے کا واقعہ ایسی روزمرّہ جزئیات کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ ایک فرضی کردار بھی جیتا جاگتا انسان دکھائی دینے لگتا ہے۔
بارہ برس کی عمر میں یہی تخلیقی عمل ایک اور صورت اختیار کرتا ہے۔ جَون بلغاریہ کی ایک خیالی محبوبہ “صوفیہ” کے نام خط لکھتے ہیں۔ ان خطوط میں صوفیہ کو محض نام نہیں دیا گیا؛ اس کے ساتھ ایک مکمل جذباتی تعلق، جغرافیہ، فاصلہ اور ایسی دوری بھی تخلیق کردی گئی جو بظاہر کسی حقیقی عشق کی یاد معلوم ہوتی ہے۔
*جَون کا عرب مصنفین اور مفکرین سے متاثر ہونے کا اعتراف*
جَون “شاید” کے دیباچے میں چند ایک عرب مفکرین ، شعراء اور فلاسفہ سے بھی متاثر ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ مثلا وہ چوتھی صدی ہجری کے عظیم عرب نثر نگار، فلسفی اور مفکر ابوحیّان توحیدی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں اُن جیسا بن جاؤں۔
ابوحیّان اپنے عہد کے اربابِ اقتدار کی بے اعتنائی، ناقدری، غربت اور مسلسل ناکامیوں سے اس قدر دل برداشتہ ہوئے کہ آخری عمر میں اپنی بہت سی تصنیفات کے مسودے جلا بیٹھے۔ عربی سوانحی روایت میں محفوظ یہ واقعہ جَون کے لیے محض ایک تاریخی اطلاع نہیں تھا؛ وہ ابوحیّان کی محرومی، زمانے سے بے زاری اور اپنی تخلیقات کو خود فنا کردینے کے عمل میں اپنی ہی اذیت اور خود تخریبی کا ایک قدیم عکس دیکھتے تھے۔
اسی دیباچے میں لبنانی نژاد عرب شاعر “ایلیا ابوماضی” کا ذکر ایک مختلف اور زیادہ معنی خیز انداز میں سامنے آتا ہے۔ جَون اپنی تخیلاتی محبوبہ “صوفیہ” کے نام فرضی خط میں لکھتے ہیں: “لیکن سیّدی ایلیا ابوماضی نے مجھے قاہرہ سے لکھا ہے کہ تمہارا خاندان قاہرہ منتقل ہوگیا ہے۔ اب میں یہ خط قاہرہ کے پتے پر لکھ رہا ہوں۔”
تاہم اس عبارت کے ساتھ دیا گیا حاشیہ خود اس تخلیقی عمل کی گرہ کھول دیتا ہے: “ظاہر ہے کہ یہاں مشہور لبنانی شاعر ایلیا ابوماضی کا نام محض زیبِ داستان کے طور پر استعمال ہوا ہے۔”
یہ مختصر سا حاشیہ جَون کے پورے تخلیقی طریقۂ کار کو سمجھنے میں غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایلیا ابوماضی ایک حقیقی عرب شاعر تھے، مگر جَون نے انہیں اپنی تخلیق کردہ عشقیہ سرگزشت میں داخل کرکے ایک خیالی خط کا واسطہ بنا دیا۔ صوفیہ، اس کا قاہرہ منتقل ہونا اور ابوماضی کا جَون کو وہاں سے خط لکھنا—سب عالمِ تخیل کے واقعات تھے؛ لیکن ان کے درمیان ایک حقیقی اور معروف ادبی شخصیت کو لا کھڑا کرنے سے پوری واردات کو تاریخی سچائی کا سا اعتبار حاصل ہوگیا۔
*فَارِہہ کی عربی مصادر میں تلاش:*
جن محققین کو عربی تذکرہ جات میں دلچسپی ہے ، وہ “فارہہ” کا کھوج ، اُس کے عربی نام کے سبب ، اہل عرب کی تحریروں سے لگانے کی بھی کوشش کرتے ہیں ۔ جب یہ بات خود جَون ایلیا کی تحریروں سے واضح ہوگئی کہ عرب مفکرین، نثر نگار اور شُعرا نہ صرف ان کے دائرۂ مطالعہ میں شامل تھے بلکہ ان کی شخصیت اور تخلیقی طریقۂ کار پر بھی اثرانداز ہوئے تھے، تو فَارِہہ کو کھوجنے کے عمل میں عربی مصادر سے رجوع کرنا کوئی خلافِ عقل، غیر متعلق یا بے بنیاد اقدام محسوس نہیں ہوتا۔
ابوحیّان توحیدی سے جَون کی فکری وابستگی اور ایلیا ابوماضی کو اپنی خیالی محبوبہ صوفیہ کی فرضی داستان میں شامل کرنے کا عمل پہلے ہی یہ امکان پیدا کرچکا تھا کہ ان کی فَارِہہ کے پسِ منظر میں بھی عربی ادب کا کوئی نام، لفظ، کردار یا حکایت موجود ہوسکتی ہے۔
چنانچہ فَارِہہ کی تلاش امروہہ کے پردہ دار گھروں، خاندانی روایتوں اور کسی نامعلوم حقیقی محبوبہ کے امکانات سے نکل کر قدیم عربی ادب کی لغوی، حکایتی اور سوانحی روایت تک پہنچی تو وہاں کسی “فَارِہہ” نامی معروف داستانی عورت کے بجائے تین باہم مربوط الفاظ سامنے آئے: “جاریہ”، “فَارِہہ” اور “کاملہ”۔ یہ الفاظ ایک ایسی کنیز کی حکایت میں جمع ہوئے تھے جو عربی متن میں “جاریۂ فَارِہہ” کہی گئی اور اپنے بے شمار کمالات کے باعث “کاملہ” کے نام سے مشہور ہوئی ۔
اس روایت کی مختلف صورتیں متعدد عربی کتابوں میں محفوظ ہیں؛ تاہم اس کی ایک نسبتاً مفصل صورت عَفیف الدین یافعی کی “مِرآۃُ الجِنان” میں ملتی ہے۔ اسی مقام پر تحقیق کا سوال بھی بدل جاتا ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ جَون کی فَارِہہ کوئی حقیقی لڑکی تھی یا نہیں؛ اصل سوال یہ بن جاتا ہے کہ کیا جَون نے عربی ادب کی اس “جاریۂ فَارِہہ، کاملہ” سے اپنی مثالی محبوبہ کا بنیادی پیکر اخذ کیا، اسے عالَمِ تخیّل میں نئے معنی دیے اور پھر سخن میں ایک مکمل شعری شخصیت کی صورت متجسّم کردیا؟
*مِرآۃُ الجِنان کا دروازہ:*
اگر یہ کہا جائے کہ امروہہ میں جَون کے مشرق رُویہ مکان، جس کا طرۂ دالان آخری شب سے آفتاب کا مراقبہ کیا کرتا تھا، میں “فَارِہہ” خود بخود چل کر نہیں آئی تھی بلکہ غالب امکان یہ ہے کہ “مِرآۃُ الجِنان” نے عالَمِ تخیّل سے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے لاکر جَون کے دروازے پر چھوڑ دیا، تو یہ کچھ غلط نہ ہوگا ۔
جَون کی اپنی تخیلاتی تقویم میں اس ورود کے لیے آٹھ برس کی عمر ہی سب سے موزوں دکھائی دیتی ہے۔ یہی وہ عمر تھی جس میں، ان کے بقول، وہ پہلی مرتبہ ایک “قَتّالہ لڑکی” کی محبت میں گرفتار ہوئے؛ مگر اس محبت کا دن تاریخ و تقویم کے کسی معلوم خانے میں موجود نہیں تھا۔ وہ ہفتے، مہینے اور سال کے دنوں سے باہر، “زمانِ مُطلَق” یا “دَہر” کا ایک فرض کیا ہوا دن تھا۔ گویا فَارِہہ کے وجود کا پہلا نقش عالَمِ واقعہ میں نہیں، جَون کے عالَمِ تخیّل میں قائم ہوا۔
“مِرْآةُ الجِنَانِ وَعِبْرَةُ الْيَقْظَانِ فِي مَعْرِفَةِ مَا يُعْتَبَرُ مِنْ حَوَادِثِ الزَّمَانِ” آٹھویں صدی ہجری کے صوفی، مؤرخ اور عالم عَفیف الدین ابومحمّد عبداللہ بن اسعد بن علی بن سلیمان الیافعی الیمنی المکی کی تصنیف ہے۔ یافعی ۷۰۰ھ کے لگ بھگ پیدا ہوئے اور ۷۶۸ھ/۱۳۶۷ء میں وفات پائی۔
انہوں نے اس کتاب میں مختلف زمانوں کے سیاسی و تاریخی واقعات، جنگوں، حکمرانوں، علما، صوفیہ، شُعرا اور دیگر مشاہیر کی وفیات کے ساتھ اخلاقی حکایات، ادبی لطائف، اشعار اور عبرت انگیز واقعات بھی جمع کیے ہیں۔
ریاستِ حیدرآباد دکن کے علمی ادارے “دائرۃُ المعارف النظامیہ” نے “مِرآۃُ الجِنان” کی چار جلدیں ۱۳۳۷ھ سے ۱۳۳۹ھ، یعنی تقریباً ۱۹۱۸ء سے ۱۹۲۱ء کے درمیان عربی متن کے ساتھ شائع کیں۔ کتاب کی پہلی جلد ۱۳۳۷ھ، یعنی ۱۹۱۸ء یا ۱۹۱۹ء میں مطبوعہ صورت میں آچکی تھی، جب کہ چاروں جلدوں کی اشاعت ۱۳۳۹ھ تک مکمل ہوگئی۔
جَون ایلیا کی پیدائش سے تقریباً دس سے تیرہ برس پہلے یہ کتاب ہندوستان ہی میں چھپ کر دستیاب ہوچکی تھی؛ اس لیے امروہہ کے کسی بڑے عربی و فارسی علمی گھرانے تک اس کا پہنچنا بعید از امکان نہیں۔ “شاید” کے دیباچے میں ابوحیّان توحیدی اور ایلیا ابوماضی کی موجودگی اس مفروضے کو ضروری مطالعاتی پس منظر بھی فراہم کردیتی ہے۔
جس ذہن میں ابوحیّان کی زندگی کا ایک مخصوص واقعہ محفوظ تھا اور جو ایلیا ابوماضی کو اپنی فرضی عشقیہ داستان میں واسطۂ مکالمہ بنا سکتا تھا، اس کے لیے عربی ادب کی کسی کتاب سے ایک معنی، صفت، حکایت یا کردار اخذ کرکے اسے اپنی شعری دنیا میں نئی زندگی دے دینا غیر فطری نہیں تھا۔
یہ تمام قرائن اس بات کا قطعی ثبوت نہیں کہ جَون نے “مِرآۃُ الجِنان” ضرور پڑھی تھی؛ البتہ اتنا ضرور ثابت کرتے ہیں کہ یہ کتاب اور اس نوع کی دوسری عربی تصانیف ان کے علمی ماحول اور مطالعاتی دسترس سے باہر نہیں تھیں۔ اس مفروضے کو اصل معنویت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب “مِرآۃُ الجِنان” میں عُبیداللہ بن مَعْمَر اور ایک “جاریۂ فَارِہہ” کی وہ حکایت سامنے آتی ہے جس کے متعدد بنیادی عناصر جَون کی فَارِہہ میں نئی شعری صورت کے ساتھ دوبارہ ظاہر ہوتے ہیں۔
یافعی نے یہ روایت حافظ ابوعبداللہ محمّد بن عمران اَلْمَرْزُبانی کی کتاب “اَلْمُقْتَبَس” کے حوالے سے نقل کی ہے۔ قصہ ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے:
“اِشْتَرَى عُبَيْدُ اللّٰهِ بْنُ مَعْمَرٍ جَارِيَةً فَارِهَةً بِعِشْرِينَ أَلْفَ دِينَارٍ، كَانَتْ تُسَمَّى الْكَامِلَةَ۔”
(ترجمہ: عُبیداللہ بن مَعْمَر نے بیس ہزار دینار کے عوض ایک فَارِہہ—حسین، خوش ادا اور صاحبِ کمال—کنیز خریدی، جو کاملہ کہلاتی تھی۔)
اس جاریۂ فَارِہہ کی پہلی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ وہ محض حسین نہیں، بے شمار فنون میں یکتا تھی۔ گائیکی، ساز نوازی، دھنوں اور سُروں کی شناخت، زبان، قرآن، شعر و شاعری، کتابت، فنونِ طباخی اور عطر سازی—کوئی ہنر ایسا نہ تھا جس میں اسے کمال حاصل نہ ہو۔ اسی جامع کمال کے باعث وہ “کاملہ” کہلاتی تھی۔
یہ تمام کمالات اس کنیز کو محض فطری یا اتفاقی طور پر حاصل نہیں ہوئے تھے۔ اس سے پہلے وہ ایک نوجوان کے پاس تھی، جس نے اسے اپنے لیے تعلیم و تربیت دے کر ان فنون میں ماہر بنایا تھا۔ وہ نوجوان اس کی قابلیت اور جمال پر فریفتہ اور اس کی محبت میں بری طرح گرفتار تھا۔
وہ اپنی کاملہ کو کامل تر بنانے کے لیے مسلسل اپنی دولت خرچ کرتا رہا، یہاں تک کہ اس کا تمام مال ختم ہوگیا اور وہ محتاج ہوگیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ اسے اپنے دوستوں اور بھائی بندوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنا پڑا۔ کچھ عرصہ دونوں نے سخت تنگ دستی، پریشانی اور تلخی میں گزارا۔ آخر ایک دن کنیز نے اپنے عاشق سے کہا:
“خدا کی قسم! مجھے تمہاری حالت پر ترس آتا ہے۔ میں تمہارے لیے فکرمند ہوں اور تمہیں اس تنگ دستی میں دیکھنا نہیں چاہتی۔ اگر تم مجھے فروخت کردو تو ایسی دولت حاصل کرسکتے ہو جو تمام عمر تمہارے لیے کافی ہوگی؛ پھر شاید اللہ ہمارے لیے کوئی بہتر صورت بھی پیدا کردے۔”
چنانچہ نوجوان اسے عُبیداللہ بن مَعْمَر کے پاس لے گیا۔ عُبیداللہ کو وہ بہت پسند آئی اور اس نے بیس ہزار دینار کے عوض اسے خرید لیا۔ جب نوجوان نے قیمت وصول کرلی اور جدائی کی گھڑی آئی تو عاشق اور کنیز ایک دوسرے کو دیکھ کر بے اختیار رو پڑے۔ کاملہ نے اپنے سابق مالک اور محبوب سے کہا:
مبارک ہو تمہیں یہ مال، جو اب تم نے پالیا
مرے ہاتھوں میں باقی ہے فقط سوچوں کا سرمایہ
مصیبت میں گھری اپنے دلِ مضطر سے کہتی ہوں
ذرا کم رو یا جی بھر کر—کہ اب محبوب رخصت ہے
جب کسی معاملے میں کوئی تدبیر باقی نہ رہے
اور صبر کے سوا کوئی چارہ نہ ہو، تو صبر ہی کرنا چاہیے
نوجوان نے جواب دیا:
اگر گردشِ زمانہ نے مجھے تمہارے معاملے میں بے بس نہ کردیا ہوتا
تو موت کے سوا دنیا کی کوئی چیز ہمیں جدا نہ کرسکتی—مجھے معاف کردینا
میں تمہاری جدائی کا ایسا دردناک غم اپنے ساتھ لیے جارہا ہوں
جس کا حال اپنے دیر تک سوچنے والے دل ہی سے کہتا رہوں گا
تم پر سلام ہو؛ اب ہمارے درمیان کوئی ملاقات نہیں ہوگی
اور نہ وصال ممکن ہے—مگر یہ کہ ابنِ مَعْمَر خود چاہے
یہ اشعار سن کر عُبیداللہ بن مَعْمَر کا دل دونوں کی حالت پر پسیج گیا۔ اس نے نوجوان سے کہا: “اس کا ہاتھ پکڑو اور دونوں بخیروخوبی واپس چلے جاؤ۔ میں نے اس کی قیمت میں جو مال تمہیں دیا ہے، وہ بھی اسی پر خرچ کرنا۔ خدا کی قسم! میں اس رقم میں سے ایک درہم بھی واپس نہیں لوں گا۔”
یوں عُبیداللہ بن مَعْمَر نے بیس ہزار دینار میں خریدی ہوئی کاملہ کو اس کے عاشق کے پاس واپس کردیا اور اس کی قیمت بھی نوجوان ہی کے پاس رہنے دی۔
یہاں ایک لسانی احتیاط ضروری ہے۔ عربی قواعد کی رُو سے “جاریہ”، “فَارِہہ” اور “کاملہ” اس عورت کی تین زمانی حالتیں نہیں ہیں: “جاریہ” اس کی معاشرتی حیثیت، “فَارِہہ” اس کی صفت اور “کاملہ” اس کا نام یا لقب ہے۔ لیکن تمثیلی سطح پر ان تینوں لفظوں کا باہمی تعلق ایک نہایت معنی خیز ترتیب ضرور بناتا ہے: ایک وجود “جاریہ” کی صورت سامنے آتا ہے، حسن، نغمگی، ہنر اور دوسری صفاتِ حسنہ اسے “فَارِہہ” بناتی ہیں اور ان تمام کمالات کا اجتماع اسے “کاملہ” کے مرتبے تک پہنچا دیتا ہے۔
یوں ایک بیش قیمت وجود پہلے ایک نوجوان کی محبت، تربیت، محنت اور دولت سے کمال تک پہنچا؛ پھر مال کے عوض کسی دوسرے شخص کے تصرّف میں آیا؛ اور بالآخر اس شخص نے اسے اپنے پاس رکھنے کے بجائے اس کے عاشق کو واپس لوٹا دیا۔
عربی حکایت یہاں ختم ہوجاتی ہے، مگر جَون کی فَارِہہ کا معمہ عین اسی مقام سے ایک نئی معنویت کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔
*عرب فَارِہہ اور جَون کی فَارِہہ میں مماثلت:*
سب سے پہلی مماثلت خود “فَارِہہ” کا لفظ ہے۔ عرب حکایت میں “فَارِہہ” عورت کا ذاتی نام نہیں بلکہ اس کی صفت تھی؛ وہ اپنے کمالات کی وجہ سے “کاملہ” کہلاتی تھی۔ جَون نے اسی صفت کو اسمِ خاص بنادیا اور اپنی تخیلاتی محبوبہ کا نام “فَارِہہ” رکھ دیا۔
عرب حکایت کی فَارِہہ گائیکی، ساز نوازی اور دُھنوں کی شناخت میں کامل تھی۔ جَون کی فَارِہہ بھی گنگنانے، ترنم، ترانے اور نوائے جاوداں سے پہچانی جاتی ہے:
میری جو نظمیں تمہارے نام ہیں
اب انہیں مت گنگنانا فَارِہہ۔۔
تھا فقط روحوں کے نالوں کی شکست
وہ ترنم، وہ ترانہ فَارِہہ۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نوائے جاودانِ جاں ہو، جاں
تم نوائے جاوداں تھیں فَارِہہ۔۔
قدیم حکایت کی فَارِہہ ایک کنیز تھی، مگر اپنے حسن، علم اور ہنر کے باعث دوسری کنیزوں سے ممتاز اور “کاملہ” تھی۔ جَون کی نظم میں بھی “کنیز” کا لفظ اسی معنوی مناسبت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ جَون اپنی فَارِہہ کو عام کنیزوں سے بلند کرکے ان سب کی ملکہ بنا دیتے ہیں:
سب کنیزیں تھیں تمہاری جانِ من
تم مری نورِ جہاں تھیں فَارِہہ۔۔۔
عرب فَارِہہ کی شخصیت ایک نوجوان کی باقاعدہ تعلیم، تربیت، محنت اور توجہ سے تشکیل پائی تھی۔ جَون بھی ایک بے جسم خیال کو سخن کے ذریعے صورت اور لباس دینے کی بات کرتے ہیں۔ قدیم حکایت کا نوجوان فَارِہہ کو فنون سے آراستہ کرتا ہے؛ جَون اپنے تخیلاتی وجود کو لفظوں میں بدن اور قبا عطا کرتے ہیں:
اس کے بدن کو دی نمود ہم نے سخن میں اور پھر
اس کے بدن کے واسطے ایک قبا بھی سی گئی۔۔۔
عرب حکایت میں دولت، قیمت اور نقصان بنیادی عناصر ہیں۔ نوجوان اپنی تمام دولت فَارِہہ کی تربیت پر خرچ کرکے محتاج ہوجاتا ہے اور پھر اسے بیس ہزار دینار میں فروخت کرتا ہے۔ جَون کی فَارِہہ کے گرد بھی قیمت، پیش کش اور زیاں کی زبان موجود ہے:
ہے شعورِ غم کی اک قیمت مگر
تم یہ قیمت مت چکانا فَارِہہ۔۔
پیش کش میں پھول کر لینا قبول
اب ستارے مت منگانا فَارِہہ۔۔
کیوں نہ تھوکا جائے اب خونِ جگر
یعنی تم میرا زیاں تھیں فَارِہہ۔۔۔
دونوں حکایتوں میں جدائی عاشقوں کی بے وفائی سے نہیں بلکہ حالات اور وقت کے جبر سے پیدا ہوتی ہے۔ عرب حکایت کا نوجوان کہتا ہے کہ گردشِ زمانہ نے اسے محبوبہ سے جدا ہونے پر مجبور کردیا؛ جَون بھی اپنی جدائی کو وقت کے جبر سے وابستہ کرتے ہیں:
وقت شاید اپنا جبر ہے۔۔
اس پہ کیا تہمت لگانا فَارِہہ
عرب حکایت میں کاملہ اپنے عاشق کو سمجھاتی ہے کہ جب کوئی تدبیر باقی نہ رہے تو صبر کرنا چاہیے۔ جَون بھی اپنی فَارِہہ کو حالات کے سامنے ہار قبول کرنے کی تلقین کرتے ہیں:
بحث کرنا کیا بھلا حالات سے
ہارنا ہے، ہار جانا فَارِہہ۔۔۔
عرب حکایت میں عاشق اور فَارِہہ جدائی کی گھڑی میں ایک دوسرے کو اشعار سناتے ہیں۔ جَون کی “بنامِ فَارِہہ” بھی ایک طویل الوداعی خطاب ہے۔ وہاں محبوبہ ایک دوسرے شخص کے تصرّف میں جارہی ہے؛ یہاں جَون دور بیٹھے فَارِہہ کی شادی کا گیت سن رہے ہیں:
سُن رہا ہوں منزلِ غربت سے دُور
بج رہا ہے شادیانہ فَارِہہ۔۔۔۔۔۔
ہو مبارک رسمِ تقریبِ شباب
بر مرادِ خسروانہ فَارِہہ۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا گر زندگی کی راہ میں
ہم نہیں شانہ بہ شانہ فَارِہہ
عرب حکایت کی آخری اور سب سے اہم حرکت فَارِہہ کو واپس لوٹانا ہے۔ عُبیداللہ بن مَعْمَر کاملہ کو اپنے پاس رکھنے کے بجائے اس کے عاشق کے پاس واپس بھیج دیتا ہے۔ جَون کی نظم میں بعینہٖ یہی واقعہ پیش نہیں آتا، لیکن اختتامی حرکت ایک ہی نوع کی ہے :
ساری باتیں بھول جانا فَارِہہ۔۔
تھا وہ سب کچھ اک فسانہ فَارِہہ
یوں عرب حکایت اور جَون کی نظم میں نام، نغمگی، کنیز، کمال، تربیت، قیمت، زیاں، جبرِ وقت، جدائی کے اشعار، شادیانے اور آخرکار آزادی و واپسی کی ایک مسلسل مماثلت قائم ہوتی ہے۔ یہ مماثلتیں براہِ راست اخذ کا قطعی ثبوت نہیں، مگر دونوں فَارِہاؤں کے تعلق کو محض اتفاق سمجھنا بھی مشکل بنادیتی ہیں۔
*آخر وہ جَون کی فارہہ کیا ہوئی ؟*
جَون ایلیا اُردو شاعری کا ایک منفرد، مستند اور معتبر حوالہ مانے جاتے ہیں، اور ان کی سادہ، بے تکلف مگر گہری پُرتاثیر شاعری میں ابھرنے والا فَارِہہ کا کردار اس اَمر کا متقاضی تھا—اور اب بھی ہے—کہ اس کے ادبی ماخذ اور تخلیقی پس منظر کو تلاش کیا جائے۔
اگر اس جستجو کا ایک دُور افتادہ سرا “مِرآۃُ الجِنان” پر جاکر ٹھہرتا ہے تو اس میں استغراب یا مزاحمت کی کوئی وجہ نہیں، کیوں کہ جَون خود عرب مفکرین، نثر نگاروں اور شُعرا سے متاثر دکھائی دیتے ہیں اور حقیقی عرب شخصیات و روایتوں کو اپنے عالَمِ تخیّل میں نئی صورت دینے کا اعتراف بھی کرچکے ہیں۔ “مِرآۃُ الجِنان” اور جَون کے درمیان یہ تعلق ابھی ایک مضبوط ادبی امکان ہے، کوئی آخری تاریخی فیصلہ نہیں؛ مگر موجود قرائن اسے محض اتفاق بھی نہیں رہنے دیتے۔
جَون اب عالَمِ وجود سے عالَمِ عدم کی طرف نقل کرچکے ہیں، مگر فَارِہہ—جو شاید کبھی عالَمِ واقعہ میں موجود ہی نہ تھی—ان کے سخن میں آج بھی زندہ اور موجود ہے۔ ان دونوں کے اسی عجیب، غیر زمانی اور وجود و عدم کے درمیان معلّق تعلق پر خود جَون ہی کا یہ شعر سب سے زیادہ صادق آتا ہے:
کیا بھلا میرا وجود اور کیا عدم ۔۔۔
تم نہیں تھیں اور ہاں تھیں فَارِہہ !
(نوٹ: یہ تحقیقی مضمون بالخصوص دو حلقوں کے لیے لکھا گیا ہے: ایک اُردو ادب کے اُن طالب علموں اور قارئین کے لیے جو جَون ایلیا کی شخصیت، شاعری اور ان کے تخلیقی سرچشموں سے دل چسپی رکھتے ہیں؛ اور دوسرے عربی ادب کے اُن طالب علموں اور محققین کے لیے جو عرب داستانوں، قصّوں، حکایتوں اور تذکروں کے دنیا کی دوسری زبانوں اور اُن کے ادبیات پر اثرات کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ اسی دوہری دل چسپی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس مضمون میں اُردو شاعری اور قدیم عربی حکایتی روایت کے درمیان ایک ممکنہ تخلیقی رشتے کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ “جاریۂ فَارِہہ، کاملہ” کی یہ حکایت “مِرآۃُ الجِنان” کے علاوہ “نُورُ القَبَس، اَلْمُخْتَصَر مِنَ الْمُقْتَبَس” ، “اَلْکَشْکُول” اور “شَذَراتُ الذَّهَب فِی أَخْبَارِ مَنْ ذَهَب” میں بھی نقل ہوئی ہے ۔)
تحریر: سعید احمد شیخ : ڈی جی ریڈیو پاکستان