افغان میڈیا اور دیگر رپورٹس کے مطابق افغانستان کے مختلف صوبوں، خصوصا بدخشان، میں طالبان مخالف مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ طالبان کی مرکزی قیادت اور مقامی دھڑوں کے درمیان اختلافات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق سپاہیانِ میہن نامی ایک نئے مسلح گروہ نے بدخشان کے ضلع یفتلی سفلی میں اپنی موجودگی کا اعلان کرتے ہوئے علاقے پر کنٹرول کا دعوی کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس گروہ میں سابق سیکیورٹی اہلکاروں اور مقامی افراد سمیت مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
ساتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اور جمعہ خان فاتح کے درمیان اختلافات برقرار ہیں اور بدخشان میں ان کے حامیوں اور طالبان قیادت کے درمیان کشیدگی کم نہیں ہوئی۔
افغان میڈیا کے مطابق بدخشان میں مقرر کیے گئے ضلعی گورنر قاری مطیع الرحمان کو تقرری کے محض ایک ہفتے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا، جسے مبصرین طالبان کے اندرونی اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور افغانستان فریڈم فرنٹ سمیت طالبان مخالف گروہ بدخشان سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں میں سرگرم ہیں۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں مزاحمتی جنگجوں کو ایک علاقے میں گشت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق بدخشان میں انتظامی تبدیلیاں اور طالبان مخالف سرگرمیوں میں اضافہ افغانستان میں طالبان حکومت کو درپیش داخلی چیلنجز کی عکاسی کرتے ہیں۔