ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے کے تناظر میں پاکستان کے سفارتی کردار پر اسرائیل اور بھارت کے بعض حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے۔
بھارت میں تعینات اسرائیلی سفیر نے ایک بھارتی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل پاکستان کو مذاکراتی عمل میں ایک مثبت فریق کے طور پر نہیں دیکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل امن عمل میں دیگر ممالک کا کردار دیکھنا چاہتا ہے اور پاکستان کو ان ممالک میں شامل نہیں سمجھتا جنہیں وہ اس عمل کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔
دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے فروغ کے لیے پاکستان نے اہم سفارتی کوششیں کیں۔ بین الاقوامی امور کے ماہر عمر کریم کے مطابق پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان پیغام رسانی میں مرکزی کردار ادا کیا اور انہیں مذاکرات کی میز تک لانے میں معاونت فراہم کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کاوشوں نے خطے میں استحکام کے فروغ اور کشیدگی میں کمی کے لیے مثبت کردار ادا کیا، جبکہ اس پیش رفت پر مختلف علاقائی فریقوں کے ردعمل نے نئی سفارتی بحث کو جنم دیا ہے۔