بھارت میں پیپر لیک اور مودی کی نااہلی کے باعث بیرون ملک سخت ویزا پالیسی کے وجہ سے بھارتی طلباء کا مستقبل تاریک ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ بھارت کی کمزور کرنسی، سخت ویزا شرائط اور امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن نے دنیا بھر میں بھارتی طلباء کا مستقبل تباہ کر دیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق 2 سال میں برطانیہ اور امریکہ جانے والے بھارتی طلباء کے کی تعداد میں 20 فیصد کمی ہوئی اور آئندہ مزید 15 فیصد کمی متوقع ہے۔ امریکی تحقیقی ادارے کی ڈائریکٹر بھارتی سیاستدانوں کی سرپرستی میں جعلی ڈگریوں اور رشوت خوری کے باعث سخت ویزا پالیسی کی نشاندہی کر چکی ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ برطانیہ میں 76 فیصد یونیورسٹیوں نے جنوری کے داخلوں میں بھارتی طلباء کی تعداد میں کمی کر دی ہے۔ بھارتی روپے کی قدر میں تیزی سے کمی نے بیرونِ ملک زیرِ تعلیم بھارتی طلباء کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ 2019 کے بعد سے بھارتی روپیہ بڑے تعلیمی ممالک کی کرنسیوں کے مقابلے میں 35 سے 47 فیصد تک قدر کھو چکا ہے۔
گلوبل سٹوڈنٹ فلوز رپورٹ 2026 کے مطابق امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھارتی طلباء کے داخلوں میں 2030 تک اوسطاً سالانہ 0.5 فیصد کمی متوقع ہے۔
بھارتی ماہرِ معاشیات رتھن رائے کا کہنا ہے کہ بھارت میں مینوفیکچرنگ کی تباہی اور کمزور معیشت کا بوجھ بھارتی نوجوان نسل کے مستقبل کو نگل رہا ہے۔ مودی کے زیر اقتدار بھارتی طلباء کو ملک میں بدترین تعلیمی نظام اور بیرون ملک سخت ویزا پالیسیوں نے بری طرح جکڑ لیا ہے۔