پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی برآمدات میں اضافے کے لیے مشترکہ ایکسپورٹ ایکسیلیریٹر پروگرام شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ اتفاق رائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے وزیر احسن اقبال اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر ماساتو کانڈا کے درمیان آج منگولیا میں کیئرک وزارتی کانفرنس کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں ہوا۔
احسن اقبال نے ایشیائی ترقیاتی بینک پر زور دیا کہ وہ موجودہ ملکی مختص رقوم سے ہٹ کر انتہائی خطرے سے دوچار ممالک میں موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اور ماحولیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے بینک کی جانب سے ایک مخصوص مالیاتی سہولت بھی قائم کرے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں کو ابھرتے ہوئے چیلنجز، خصوصاً موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے جنگ کے بعد تعمیر نو کے روایتی فریم ورک سے آگے بڑھنا ہوگا۔
احسن اقبال نے ایم ایل ون ریلوے منصوبے کی تزویراتی اہمیت پر زور دیا اور وزیر اعظم شہباز شریف کا پیغام پہنچایا کہ تمام ضروری تقاضے تیزی سے پورے کیے جائیں تاکہ جلد از جلد اِس کا سنگ بنیاد رکھا جائے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر نے یقین دہانی کرائی کہ اے ڈی بی، ایم ایل ون کے لیے ایک اہم منصوبے کی حیثیت سے مکمل تعاون جاری رکھے گا اور اسے آگے بڑھانے کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کرے گا۔
احسن اقبال نے کہا کہ ریلوے اور سڑکوں کے مربوط نیٹ ورک کے ذریعے علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، خصوصاً ترکمانستان، افغانستان اور پاکستان کو آپس میں ملانے سے CAREC ممالک کو گوادر بندرگاہ تک زیادہ رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔