Wednesday, 01 July 2026, 12:29:08 am
 
پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تقدس کے تحفظ کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کرے گا:عطا اللہ تارڑ
June 30, 2026

پاکستان کے آبی حقوق اُجاگر کرنے کیلئے سندھ طاس معاہدے پر ایک بین الاقوامی سیمینار اسلام آباد میں جاری ہے۔

سیمینار میں مقررین سندھ طاس معاہدے کے مختلف پہلوئوں پر غور و خوض کر رہے ہیں۔

اطلاعات و نشریات کے وزیر عطا اللہ تارڑ نے سیمینار کی افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تقدس کے تحفظ کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کے آبی نظام پر پاکستان کے چوبیس کروڑ عوام کے ناقابلِ تنسیخ حق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔

وزیرِ اطلاعات نے کہا یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اس آبی نظام کو آئندہ نسلوں کیلئے امن اور مشترکہ خوشحالی کی علامت بنائیں۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ طور پر نہ تو ترمیم کی جا سکتی ہے اور نہ اسے منسوخ، معطل یا غیر موثر کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے اتفاقِ رائے سے ہوا تھا اور اس میں کسی بھی قسم کی ترمیم صرف باہمی اتفاقِ رائے سے ممکن ہے۔

وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا یا طے شدہ معاہدے یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش خطے کے امن و استحکام اوربین الاقوامی قانون کے وسیع تر نظام کو نقصان پہنچائے گی۔

وزیرِ موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی معیشت، زراعت اور غذائی تحفظ کے لیے دریائے سندھ کے آبی نظام کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور افسوس کا اظہار کیا کہ ہمسایہ ملک پانی کے بہائو میں رد و بدل کر رہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک ایسا بین الاقوامی معاہدہ ہونا چاہیے جس کے تحت پانی کے بہا ئومیں رد و بدل کر کے زیریں دھارے کے ممالک کو نقصان پہنچانے والے ممالک کے خلاف معاشی، سیاسی اور سفارتی اقدامات کیے جا سکیں۔

ماسکو کی یونیورسٹی آف ورلڈ سولائزیشن کے سائنٹیفک سینٹر برائے بین الاقوامی و تزویراتی مطالعات کی سربراہ Roxolana Zigon نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ذریعے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ نے سندھ طاس معاہدے کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کو تنازعات کی روک تھام کا ایک موثر نظام سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ امن کے قیام کیلئے ایک مضبوط نظام ہے جسے بھارت یکطرفہ طور پر معطل نہیں کرسکتا۔

پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر نے کہا کہ پاکستان صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ اس بین الاقوامی نظام کو ذمہ داری کے ساتھ بروئے کار لا رہا ہے۔