Wednesday, 01 July 2026, 12:28:14 am
 
نائب وزیر اعظم نے سندھ طاس معاہدے کو زیرالتوا رکھنے کے بھارت کے یکطرفہ اعلان کو مسترد کر دیا
June 30, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ محض پانی کی تقسیم کا انتظام نہیں ہے بلکہ یہ علاقائی امن، استحکام اور تعاون کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

وہ آج اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ مشترکہ پانی کو ملکوں کے درمیان ایک پل بننا چاہیے، جو تعاون، مکالمے اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے ذریعے موجودہ اور آنے والی نسلوں کے فائدے کیلئے استعمال ہونا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات افسوسناک ہے کہ اس تاریخی معاہدے کو اب سنگین چیلنج کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے یا بین الاقوامی قانون کے تحت بھارت کو یکطرفہ طور پر معاہدہ ملتوی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اعلان کو مسترد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ قابل عمل، قابل ِ پابندی اور فعال ہے۔

نائب وزیراعظم نے تمام تصفیہ طلب مسائل حل کرکے جنوبی ایشیا میں امن کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اختلافات کو مسلسل مذاکرات، سفارت کاری اور دونوں فریقوں کے متفقہ معاہدے پر مبنی طریق کار کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔

دریں اثنا، سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے جائز پانی کو روکنے، اس کا رخ موڑنے یا کنٹرول کرنے کے کسی بھی اقدام کو معمول کی کارروائی نہیں سمجھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا اورنہ ہی اس معاہدے کو ہٹ دھرمی سے معطل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دریا کو ہتھیار نہیں بنایا جا سکتا اور ہمسایہ ملک کیلئے بچوں کی پیاس کو اپنی پالیسی بنانا غیرمناسب ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کبھی بھی اپنے پانیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پانی کو ہتھیار بنا کر بھارت نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے بلکہ جنوبی ایشیا کو سٹریٹجک تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان اپنے دریاؤں کا پانی روکنے کو فوجی حملے کے طور پر دیکھتا ہے تو اسے اس حملے کا عسکری طور پر جواب دینا ہوگا۔