وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے COP31 ایکشن ایجنڈے کیلئے پاکستان کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے موسمیاتی منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد پر زور دیا ہے۔
وہ نیویارک میں COP31 ایکشن ایجنڈے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیر خزانہ نے پاکستان کو درپیش شدید موسمیاتی خطرات کو اجاگر کرتے ہوئے صاف توانائی اور بجلی کے استعمال میں توسیع، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، توانائی کے مؤثر استعمال پر مبنی عمارتوں، موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ شہروں، موسمیاتی تعلیم اور عوامی آگاہی، غذائی تحفظ اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط زراعت کو مشترکہ ترجیحات قرار دیا۔
انہوں نے ورلڈ اکنامک فورم کے "فنانسنگ پلینٹ اینڈ پراسپیریٹی" اجلاس میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام، ابتدائی انتباہی نظام اور لاگت پر مبنی موسمیاتی سرمایہ کاری منصوبوں کو مضبوط بنانے کیلئے حکومت کی کوششوں سے آگاہ کیا اور اس امر پر زور دیا کہ بیرونی معاونت کے ساتھ ملکی وسائل اور مالیاتی گنجائش کو بھی بروئے کار لانا ضروری ہے۔
محمد اورنگزیب نے "اقوام متحدہ ڈیجیٹل تعاون ڈے ـ2026 بلاک چین اور ٹوکنائزڈ مستقبل: نیکسٹ جنریشن ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کیلئے خودمختار انتخاب اور حفاظتی اقدامات" سے افتتاحی خطاب میں پاکستان میں ریگولیٹڈ ورچوئل اثاثہ جات کے فریم ورک کی جانب پیش رفت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ نجی شعبے میں جدت کو مضبوط ریاستی حفاظتی اقدامات، جامع ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے فروغ دیا جانا چاہئے، جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کو عالمی معیارات کی تشکیل میں مکمل طور پر شامل کیا جانا ضروری ہے۔