بھارت میں ہندوتوا انتہاپسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف مبینہ تعصب اور ہراسانی کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے، جہاں مسلم سرکاری افسران بھی اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔
بھارتی جریدے مکتوب میڈیا کے مطابق، اسلامی جملے استعمال کرنے پر مسلم آئی پی ایس افسر بشری بانو کو ہندوتوا انتہاپسندوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد ان کا تبادلہ کردیا گیا۔
جریدے کے مطابق بشری بانو کے "السلام علیکم" اور "جزاک اللہ" کہنے پر انتہاپسند ہندو گروہوں نے ان کے خلاف مہم چلائی۔
مکتوب میڈیا کے مطابق انتہاپسند تنظیم ہندو لیگل فنڈز نے ہوم سیکریٹری کو مسلم آئی پی ایس افسر بشری بانو کے خلاف شکایت بھی درج کرائی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوتوا سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہندو پولیس افسر انوج چودھری کو ترقی جبکہ مسلم افسر کے تبادلے کا معاملہ مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کے الزامات کو تقویت دیتا ہے۔