Wednesday, 16 September 2026, 02:55:16 pm
 
نام نہاد سیکولر بھارت کا پردہ چاک، مسلم سرکاری افسران بھی ہندوتوا انتہاپسندوں کے نشانہ پر
September 16, 2026

بھارت میں ہندوتوا انتہاپسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف مبینہ تعصب اور ہراسانی کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے، جہاں مسلم سرکاری افسران بھی اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔

بھارتی جریدے مکتوب میڈیا کے مطابق، اسلامی جملے استعمال کرنے پر مسلم آئی پی ایس افسر بشری بانو کو ہندوتوا انتہاپسندوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد ان کا تبادلہ کردیا گیا۔

جریدے کے مطابق بشری بانو کے "السلام علیکم" اور "جزاک اللہ" کہنے پر انتہاپسند ہندو گروہوں نے ان کے خلاف مہم چلائی۔

مکتوب میڈیا کے مطابق انتہاپسند تنظیم ہندو لیگل فنڈز نے ہوم سیکریٹری کو مسلم آئی پی ایس افسر بشری بانو کے خلاف شکایت بھی درج کرائی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوتوا سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہندو پولیس افسر انوج چودھری کو ترقی جبکہ مسلم افسر کے تبادلے کا معاملہ مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کے الزامات کو تقویت دیتا ہے۔