افغان طالبان کے وار میوزیم سے متعلق اسکائی نیوز کی رپورٹ پر صحافتی اصولوں کو نظرانداز کرنے اور طالبان کے اقدامات کا یکطرفہ پہلو اجاگر کرنے کے حوالے سے تنقید کی گئی ہے۔
سری لنکن جریدے سری لنکا گارڈین کے مطابق مسئلہ میوزیم دکھانے کا نہیں بلکہ طالبان کی شدت پسند تاریخ کو ادھورے حقائق کے ساتھ پیش کرنے کا ہے۔
جریدے کے مطابق طالبان کے ہتھیاروں کی نمائش کے پیچھے عام شہریوں کی ہلاکتوں اور تباہ حال خاندانوں کی تلخ حقیقت کو نظرانداز کیا گیا۔
افغان میڈیا آمو ٹی وی کے مطابق بلخ اور دایکندی کے خاندان طالبان کے میوزیم کو فتح کی علامت کے بجائے اپنے پیاروں کے قتل اور خونریز ماضی کی تلخ یادگار قرار دیتے ہیں۔
افغان میڈیا کابل ناو کے مطابق مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ میوزیم میں خودکش حملوں کو قابلِ فخر بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جس سے خوف اور تشدد کے رجحان کو تقویت ملتی ہے۔
کابل ناو کے مطابق طالبان کی جانب سے ہتھیاروں کی نمائش کے باعث بعض تعلیمی اداروں نے میوزیم کے دورے بھی معطل کر دیے ہیں۔
جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد القاعدہ کے ساتھ تعاون کے باعث پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔
ماہرینِ سکیورٹی امور کے مطابق اسکائی نیوز کی رپورٹ میں طالبان کے میوزیم اور ہتھیاروں کو تو دکھایا گیا، تاہم ان ہتھیاروں سے عام افغان شہریوں اور بچوں کو پہنچنے والے نقصانات کو نظرانداز کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق افغان خواتین پر عائد پابندیوں اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی جیسے اہم معاملات کو رپورٹ کے آخر میں محض معمولی اعتراضات تک محدود رکھا گیا۔