وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے چینی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کو پاکستان میں جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ مذبحہ خانے اور گوشت پروسیسنگ کے جدید پلانٹس قائم کرنے کی دعوت دی ہے۔
وہ اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، جس میں لائیو سٹاک کے شعبے میں پاک چین دوطرفہ تعاون کے فروغ، بالخصوص پاکستان سے چین کو گوشت کی برآمدات بڑھانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
چینی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اپنے وسیع مویشیوں کے ذخیرے کی بدولت، جغرافیائی محل وقوع اور معیاری حلال گوشت کی پیداوار کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کے باعث لائیو سٹاک کے شعبے میں بے پناہ استعداد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لائیو سٹاک پاکستان کی زرعی معیشت کا ایک اہم ستون ہے، جو زرعی شعبے میں ویلیو ایڈیشن، دیہی روزگار اور قومی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ چین دنیا میں گوشت استعمال کرنے اور درآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں شامل ہے، جو پاکستان کے لیے گوشت کی برآمدات میں نمایاں اضافے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے چینی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان میں جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ سلاٹر ہاؤسز اور جدید گوشت پروسیسنگ پلانٹس قائم کریں، جو بین الاقوامی حفظانِ صحت کے معیارات، کولڈ چین انفراسٹرکچر اور ٹریس ایبلٹی سسٹم سے لیس ہوں تاکہ اعلیٰ معیار کا حلال گوشت تیار کرکے چین سمیت عالمی منڈیوں کو برآمد کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سازگار کاروباری ماحول، مؤثر پالیسی معاونت اور ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
چینی وفد نے پاکستان کے لائیو سٹاک سیکٹر کی استعداد کو سراہتے ہوئے گوشت کی پروسیسنگ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، معیار کی یقین دہانی اور برآمدات پر مبنی انفراسٹرکچر کے قیام میں تعاون میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ گوشت کی برآمدات میں اضافے کے لیے تکنیکی تعاون، کاروباری روابط کے فروغ اور ریگولیٹری و سینیٹری تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے باہمی اشتراک کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔