وزیراعظم محمد شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
وہ اسلام آباد میں خطے میں کشیدگی کے ملکی معیشت پر اثرات کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی صورتحال میں غیر یقینی برقرار ہے، اس لیے ہر ممکنہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ملکی معیشت مستحکم ہے، اور ہدایت کی کہ ضرورت پڑنے پر بروقت اقدامات کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔
شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ سادگی اور کفایت شعاری مہم میں عوام نے بھرپور کردار ادا کیا، جس پر وہ تہہ دل سے عوام کے مشکور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بروقت اور مؤثر حکومتی حکمتِ عملی کے باعث ملک میں ایندھن کی فراہمی کی صورتحال کا بہترین انداز میں انتظام کیا گیا ہے۔ حکومت نے عام آدمی، موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کو تحفظ فراہم کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دی گئی سبسڈی کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے منفی اثرات سے ملکی معیشت پر مستقبل میں اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔ جس طرح گزشتہ کفایت شعاری مہم میں عوام نے بھرپور ساتھ دیا، اسی طرح کفایت شعاری کو قومی سطح پر اپنانا ہوگا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملکی ضروریات کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور مستقبل کے لیے ان کی فراہمی بھی یقینی بنا دی گئی ہے۔