وزیراعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی ملاقات ہوئی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا خیرمقدم کیا۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے منشور، کثیرالجہتی نظام، بین الاقوامی قانون، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے سیکرٹری جنرل کے اصولی عزم کو سراہا۔ انہوں نے اپنے دورِ منصب کے دوران عالمی امن و سلامتی کے لیے سیکرٹری جنرل کی نمایاں خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے مؤثر، جامع اور نمائندہ اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب کثیرالجہتی نظام کو اہم چیلنجز درپیش ہیں، اقوام متحدہ کا مؤثر کردار مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل کے UN80 اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے زور دیا کہ اقوام متحدہ میں اصلاحات ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات کے مطابق ہونی چاہئیں، جبکہ تنازعات کی روک تھام، تنازعات کے پرامن حل اور قیامِ امن کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کے لیے پاکستان کے دیرینہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی امن و سلامتی کے قیام کے لیے پاکستان کی مسلسل خدمات کو بھی اجاگر کیا۔
وزیراعظم نے مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کیا، جن میں امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں پاکستان کا کردار بھی شامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تنازعات کے حل اور کشیدگی میں اضافے کی روک تھام کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
وزیراعظم نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے تنازع کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق پُرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے اور اسے یکطرفہ طور پر التوا میں رکھنے کا بھارت کا فیصلہ کسی قانونی بنیاد کا حامل نہیں۔
وزیراعظم نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی اور افغان سرزمین پر دہشتگرد گروہوں کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور انکی ریاست کے قیام کے حق کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے غزہ امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عملدرآمد کے لیے پاکستان کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے ترقی پذیر ممالک کو ترقی اور موسمیاتی لچک کے فروغ کے لیے کم لاگت اور رعایتی مالی وسائل تک زیادہ سے زیادہ رسائی فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ اور عالمی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی دیرینہ خدمات کو سراہا، جن میں اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کا اہم کردار اور سلامتی کونسل میں اس کی تعمیری شمولیت شامل ہے۔
سیکرٹری جنرل نے مکالمے، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا اور کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کے لیے پاکستان کے مسلسل عزم کا خیرمقدم کیا۔
بعد ازاں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور ان کے وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔