افغان طالبان کی جانب سے عام معافی کے دعوے ایک بار پھر شدید تنقید اور سوالات کی زد میں ہیں کیونکہ سابقہ حکومت کے سکیورٹی اہلکاروں پر تشدد، بدسلوکی اور ٹارگٹ کلنگ کی اطلاعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
افغان جریدے''افغانستان انٹرنیشنل''کے مطابق گزشتہ ہفتے صوبہ بدخشاں میں ایک مسلح حملے میں نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کے سابق ڈپٹی چیف عبدالجمیل جویا کو قتل کر دیا گیا جبکہ گزشتہ ہفتے صوبہ پروان سے سابق افغان فوجی کمانڈر حشمت اللہ کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا۔
کابل ناؤ کے مطابق، گزشتہ بدھ کو صوبہ پکتیکا کے ضلع جانی خیل میں نامعلوم مسلح افراد نے سابق پولیس افسر محمد عمر کو قتل کر دیا۔
دوسری جانب، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں سابق سرکاری ملازمین اورسکیورٹی اہلکاروں کے قتل، گرفتاریوں اور بدسلوکی کے واقعات مسلسل جاری ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، افغان طالبان سابق سکیورٹی اہلکاروں اور فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھ سکیں اور ابھرتی ہوئی مزاحمتی تحریکوں کو دبا سکیں۔