مودی حکومت کی سرپرستی میں اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی پامالی جاری ہے۔ ان پر بہیمانہ تشدد اورعبادت گاہوں کی مسماری معمول بن چکی ہے۔
ہندوستان گزٹ کے مطابق بی جے پی کے زیراقتدار بھارتی ریاست گجرات کے ضلع کچھ میں چند روز کے دوران 3 مساجد اور متعدد مزارات مسمار کردیئے گئے۔
مقامی رہائشیوں اور کمیونٹی کے مطابق کارروائی سے قبل کوئی پیشگی نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔ مساجد و مزارات کی مسماری پر وضاحت طلب کرنے والے مسلمانوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ مسماری کی کارروائی کے خلاف احتجاج کرنے والے 25 نوجوانوں کو گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا گیا۔
انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ کے مطابق بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیلئے بی جے پی حکومتی مشینری کواستعمال کررہی ہے۔
ہندوتوا ایجنڈے پر کاربند مودی حکومت اقلیتوں کی شناخت، تاریخ اورعبادت گاہوں پر حملے کرکے بھارت سے ان کا وجود ختم کرنے کے درپے ہے۔