Wednesday, 22 July 2026, 05:49:06 pm
 
پاکستان چین کے ساتھ اپنی دیرینہ اور مثالی دوستی کو انتہائی اہمیت دیتا ہے: رانا تنویر
July 22, 2026

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنی دیرینہ اور مثالی دوستی کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور پاکستان کی معیشت اور زرعی شعبے پر چینی کمپنیوں کے اعتماد کو خوش آئند سمجھتا ہے۔

یہ بات وفاقی وزیر نے فامسن (FAMSUN) گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مسٹر جیک چن کی قیادت میں آئے ہوئے وفد کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے فامسن گروپ کو پاکستان میں زرعی سرمایہ کاری اور جدید اناج ذخیرہ گاہوں کے قیام کی دعوت دے دی۔

اجلاس میں پاکستان میں زرعی شعبے کی جدید خطوط پر ترقی، اناج ذخیرہ کرنے کے جدید نظام، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاک چین تعاون اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ساتھ ساتھ زرعی ترقی، صنعت کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، جدت اور ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

رانا تنویر حسین نے پاکستان کے زرعی و غذائی شعبے میں فامسن گروپ کی گزشتہ دو دہائیوں پر محیط خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے فیڈ ملنگ، اناج کی ہینڈلنگ اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں کی ترقی میں قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کمپنی کو پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری اور تعاون کو مزید وسعت دینے کی دعوت دی۔

وفاقی وزیر نے ملک میں جدید سائنسی بنیادوں پر اناج ذخیرہ کرنے کی سہولیات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فامسن گروپ کو پاکستان میں جدید ہائی ٹیک سائلوز (Grain Silos) کے قیام میں تعاون کی دعوت دی۔  انہوں نے کہا کہ جدید ذخیرہ گاہوں کے قیام سے فصلوں کے بعد ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی آئے گی، غذائی تحفظ مضبوط ہوگا، زرعی سپلائی چین مزید موثر بنے گی اور اناج کو محفوظ انداز میں ذخیرہ کرنا ممکن ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ایسا دیرپا اشتراک چاہتا ہے جو صرف بنیادی ڈھانچے کی تعمیر تک محدود نہ ہو بلکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی سطح پر زرعی مشینری کی تیاری، استعداد کار میں اضافہ، تحقیق اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر بھی مشتمل ہو۔

انہوں نے فامسن گروپ کو پاکستان میں جدید زرعی مشینری اور آلات کی مقامی مینوفیکچرنگ اور اسمبلی کے امکانات کا جائزہ لینے کی بھی دعوت دی۔

اجلاس میں جدید اناج ذخیرہ کرنے کے نظام، زرعی پراسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، لائیو سٹاک فیڈ انڈسٹری کی جدید خطوط پر ترقی اور جدید زرعی ٹیکنالوجیز کے فروغ سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (PARC) میں جدید سائلو کے ایک پائلٹ ڈیمانسٹریشن منصوبے کے قیام کی تجویز بھی زیر غور آئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ منصوبہ جدید ٹیکنالوجی کے عملی مظاہرے، تحقیقی سرگرمیوں اور ماہرین و محققین کی تربیت کے لیے ایک مثالی مرکز ثابت ہو سکتا ہے۔

رانا تنویر حسین نے انسانی وسائل کی ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سائنس دانوں، محققین، تکنیکی ماہرین اور زرعی گریجویٹس کے لیے چین کے تحقیقی اداروں اور زرعی جامعات میں تربیت اور علمی تعاون کے مزید مواقع پیدا کیے جانے چاہئیں تاکہ پاکستان میں زرعی تحقیق، جدت اور جدید مہارتوں کو فروغ دیا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے فامسن گروپ سے کہا کہ وہ اپنی تکنیکی ٹیم کو پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (PARC) کا دورہ کروائے، وہاں موجود تحقیقی سہولیات کا جائزہ لے اور مستقبل میں تحقیق اور تکنیکی تعاون کو مزید موثر بنانے کے لیے سفارشات پیش کرے۔

فامسن گروپ کے وفد نے پاکستان میں زرعی شعبے کی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے حکومت کے عزم کو سراہا اور جدید زرعی ٹیکنالوجی، سمارٹ ایگریکلچر اور اناج ذخیرہ کرنے کے شعبوں میں اپنے عالمی تجربات سے آگاہ کیا۔

وفد نے پاکستان کے ساتھ باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

اجلاس کے اختتام پر دونوں فریقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ باہمی رابطوں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ زرعی تحقیق، جدت، ٹیکنالوجی کی منتقلی، استعداد کار میں اضافے اور پائیدار زرعی ترقی کے لیے مشترکہ منصوبوں کو عملی شکل دی جا سکے۔

وفاقی وزیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ آج کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان زرعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو نئی جہت فراہم کرے گی۔