وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان میں سرکاری ملکیتی اداروں کی اصلاحات مسائل کی نشاندہی سے آگے بڑھ کر بہتر نگرانی، زیادہ شفافیت اور عملی اقدامات کی جانب بڑھ رہی ہیں۔
انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران سرکاری ملکیتی اداروں کی کارکردگی کے حالیہ جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ منافع کمانے والے سرکاری ملکیتی اداروں نے مجموعی طور پر چار سو تئیس ارب روپے سے زائد منافع حاصل کیا، جبکہ خسارے میں جانے والے اداروں کو تین سو بیالیس اعشاریہ آٹھ ارب روپے کا نقصان ہوا۔
خرم شہزاد نے کہا کہ حکومت انفرادی اداروں کی تجارتی حیثیت اور تزویراتی اہمیت کی بنیاد پر انہیں بند کرنے، ازسرنو تشکیل دینے اور نجکاری کے ذریعے سرکاری ملکیتی اداروں کے دائرہ کار کو محدود کر رہی ہے۔
مشیر نے کہا کہ سرکاری ملکیتی اداروں کی اصلاحات کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ یہ ادارے ٹیکس دہندگان پر بوجھ بننے کے بجائے اپنی قدر پیدا کریں۔