وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی آئین کے مطابق نافذ کی گئی ہے اور اس کا واحد مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
آج سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تفصیلی غور و خوض کیا گیا کہ آئین کی کسی شق کی خلاف ورزی نہ ہو۔
محسن نقوی نے کہا کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا شہدا کے خلاف تقاریر کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔
دریں اثنا نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سنگین سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ آئین کے مطابق ہے۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل دو سو بتیس سنگین خطرات کی صورت میں ایمرجنسی کے اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایمرجنسی کے اعلان کی منظوری کے لیے اسے دس روز کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کیا جائے گا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت سیاسی مفاہمت کے لیے پرعزم ہے، تاہم دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے پر فوری توجہ اور اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے دہشت گردی کے خلاف کوششوں کے لیے این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو مختص اضافی فنڈز کے استعمال کے حوالے سے جوابدہی کا مطالبہ بھی کیا۔
ایوان کا اجلاس اب کل سہ پہر چار بجے ہوگا۔