وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ ملک کی اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے یہ بات وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور خزانے کے وزیرمملکت بلال اظہر کیانی کے ہمراہ آج اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وزیرخزانہ نے مختلف حلقوں کی جانب سے بجٹ پر مثبت ردعمل پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ردعمل اس بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک اب اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔
محمداورنگزیب نے کہا کہ بجٹ میں ایسے اقدامات شامل کیے گئے ہیں جن کا مقصد برآمدات پر مبنی ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سپر ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس سے متعلق فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایکسپورٹ ری فنانس سکیم کو وسعت دی گئی ہے تاکہ برآمد کنندگان کو ساڑھے چارفیصد کی رعایتی شرح پر فنڈز کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ملکی برآمدات کی مسابقت بڑھانے کے لیے نیم تیار شدہ مال اور خام مال کی لاگت کم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت زرعی شعبے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ وزیرخزانہ نے بتایا کہ زرعی فنانسنگ دو ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ زراعت کے شعبے میں جدید مشینری کے استعمال کو فروغ دینے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے زرعی آلات اور مشینری کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹیز، ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹیز اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
وزیرخزانہ نے تنخواہ دار طبقے اور تعمیراتی شعبے کو دیے گئے ٹیکس ریلیف کا بھی ذکر کیا۔
وزیراطلاعات نے کہا کہ اگلے مالی سال کا بجٹ ہمہ گیر اور ریلیف پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا وزیرِ اعظم نے معاشرے کے مختلف طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کا اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں ملک بھر کے پسماندہ علاقوں میں واقع تعلیمی اداروں کے لیے خصوصی فنڈمختص کیے گئے ہیں۔