بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد پر مودی حکومت کی کارروائیوں کے باعث انسانی حقوق کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انتہا پسند مودی حکومت بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف سخت اقدامات کے ذریعے اپنی داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
عالمی جریدے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی سرحدی فورسز نے بنگلہ دیشی خواتین اور بچوں کو خوراک اور پانی کی سہولیات کے بغیر سرحدی علاقوں میں چھوڑ دیا۔
رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ متعدد بنگلہ دیشی مہاجرین کو گیارہ روز تک حراست میں رکھنے کے بعد رات کی تاریکی میں سرحد پر منتقل کر دیا گیا۔
الجزیرہ کے مطابق بھارتی حکام نے ایسے افراد کو بھی سرحد پار بھیجا جن کے پاس قانونی دستاویزات موجود تھیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت نے بنگلہ دیشی سرحد پر نئی خاردار تار نصب کی ہے جسے بعض حلقے دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔
عالمی ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی پالیسیاں بھارت کے بین الاقوامی تشخص کو متاثر کر رہی ہیں اور نفرت و تقسیم کے رجحانات کو فروغ دے رہی ہیں۔