وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے لائیو اسٹاک شعبے کی برآمدات میں اضافے کے لیے درآمد شدہ مویشیوں کی خصوصی فارم ہاؤسز میں نشوونما کر کے انہیں برآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
وزیر اعظم کی زیرِ صدارت لائیو اسٹاک کے شعبے کی جاری اصلاحات پر اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
وزیر اعظم نے لائیو اسٹاک کے شعبے کو کارپوریٹ خطوط پر استوار کرنے اور شعبے میں نجی شعبے کے ماہرین کے ذریعے اصلاحات کی تیاری و نفاذ کی بھی منظوری دے دی۔
انہوں نے کہا کہ مویشیوں کی برآمد کیلئے خصوصی فارم ہاؤسز کا قیام عمل میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ان خصوصی فارم ہاؤسز میں اعلیٰ نسل کے زیادہ پیداوار کے حامل مویشیوں کو درآمد کرکے ان کی برآمدات کے لیے نشوونما کی جائے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ان خصوصی فارم ہاؤسز میں مویشیوں کی درآمد کو ڈیوٹی فری کیا جائے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کہ مذکورہ فارمز میں نشوونما کردہ مویشی برآمد کیے جائیں، مویشیوں کی ٹیگنگ کا جدید نظام متعارف کروایا جائے۔
وزیر اعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ لائیو اسٹاک شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اس کی کارپوریٹ طرز پر تنظیمِ نو کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے شعبے میں نجی ماہرین کے تجربے سے استفادہ کیا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملکی زرعی شعبے کا 60 فیصد سے زائد لائیو اسٹاک پر مبنی ہے، شعبے میں برآمدات کی بھرپور استعداد موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک سے منہ کھر کی بیماری کے خاتمے کیلئے مقررہ اہداف کے ساتھ لائحہ عمل آئندہ دو ہفتے میں مرتب کرکے پیش کیا جائے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ملک بھر میں قائم مذبح خانوں کی بین لاقوامی سرٹیفیکیشن یقینی بنائی جائے اور مذبح خانوں کے بین الاقوامی معیار کو یقینی بنانے کیلئے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ لائیو اسٹاک میں بیماریوں کے خاتمے کیلئے وزارت قومی غذائی تحفظ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گوشت اور لائیو اسٹاک کی برآمدی صنعت کی مزید ترقی کیلئے پوری ویلیو چین کی بہتری پر کام کیا جائے۔
شہباز شریف نے گوشت، لائیو اسٹاک اور اس سے منسلک برآمدات کے اہداف متعین کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو لائیو اسٹاک شعبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور شعبے کی ترقی و برآمدات میں اضافے کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز پیش کی گئیں۔
اجلاس میں پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبے کی مجموعی استعداد کے حوالے سے بتایا گیا کہ ملک میں تقریباً 245 ملین مویشی موجود ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 5.5 کھرب روپے بنتی ہے۔ لائیو اسٹاک شعبہ قومی معیشت میں 14.97 فیصد اور زرعی معیشت میں 63.6 فیصد حصہ رکھتا ہے، جبکہ سالانہ تقریبا 74.69 ملین ٹن دودھ اور 6.31 ملین ٹن گوشت پیدا ہوتا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کے تقریباً 80 لاکھ دیہی خاندان لائیو اسٹاک سے وابستہ ہیں، تاہم چھوٹے پیمانے پر مویشی پالنے کا رجحان اور بکھری ہوئی سپلائی چین برآمدی استعداد سے بھرپور استفادے میں رکاوٹ ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان کے گوشت کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ مالی سال 26-2025 میں گوشت کی برآمدات تقریباً 530 ملین ڈالر رہیں، جبکہ موجودہ برآمدات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک کو جاتا ہے، جن میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت اور قطر شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملائیشیا، سعودی عرب، چین اور دیگر ممالک نئی اور توسیعی منڈیوں کے طور پر نمایاں امکانات رکھتے ہیں۔
اجلاس میں لائیو اسٹاک اور گوشت کی برآمدات بڑھانے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا، جن میں قومی پروگرام برائے حیوانی بیماریوں کی نگرانی، ان سے تحفظ اور جانوروں کی ٹریس ایبلٹی، منہ کھر کی بیماری سے پاک زونز اور کمپارٹمنٹس کا قیام، ویکسینیشن و بیماریوں کی ڈیجیٹل نگرانی، ایکسپورٹ گریڈ فارمز اور بین الاقوامی صحت و حلال سرٹیفکیشن کا نظام شامل ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت فیڈ لاٹ فارمنگ، کولڈ چین، ڈی-بوننگ، ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور برآمدی انفراسٹرکچر کو فروغ دینے پر بھی توجہ دے رہی ہے، جبکہ 2028 تک گوشت کی برآمدات میں مزید اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔