Tuesday, 29 September 2026, 03:39:03 am
 
احسن اقبال کا پاکستان کی تجارت اور علاقائی رابطوں کے استحکام کے لیے ایم ایل ون کی مکمل اپ گریڈیشن پر زور
September 28, 2026

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے پاکستان ریلوے کی مرکزی ریلوے لائن ون کی مکمل اپ گریڈیشن کو تجارت کے فروغ، مال برداری کی استعداد میں اضافے اور علاقائی رابطوں کے استحکام کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے منگولیا میں وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون پروگرام کانفرنس کے موقع پر تجارت، سیاحت اور علاقائی مسابقت کے فروغ کے موضوع پر ترقیاتی شراکت داروں کے مکالمے میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

وفاقی وزیر نے مکالمے کے دوران ایم ایل ون منصوبے پر اہم پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے تفصیلی پریزنٹیشن دی اور کراچی، روہڑی حصے کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے ترقیاتی شراکت داروں کو آگاہ کیا۔ وفاقی وزیر نے وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون ادارے اور ازبکستان کے وفد سے بھی ملاقاتیں کیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ ایم ایل ون پاکستان کے ریلوے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جو کراچی سے پشاور تک ایک ہزار 726 کلومیٹر پر محیط ہے اور ریلوے کے 76 فیصد مسافر ٹریک اور 98 فیصد مال برداری کو سنبھالتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بنیادی ڈھانچے کی مشکلات کے باوجود ایم ایل ون ملک کی تجارت اور معاشی سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن محض ریلوے کا منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی اور تجارتی استعداد سے براہ راست منسلک قومی ترجیح ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن سے ریلوے لائن کی گنجائش 34 سے بڑھا کر 120  ٹرین جوڑوں تک جا سکے گی جبکہ مسافر ٹرینوں کی رفتار 160 کلو میٹر فی گھنٹہ تک جبکہ مال بردار ٹرینوں کی رفتار 30 سے بڑھا کر 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی جائے گی۔ کراچی سے روہڑی تک سفر کا دورانیہ بھی تقریباً آٹھ گھنٹے سے کم ہو کر ساڑھے چار گھنٹے رہ جائے گا۔ احسن اقبال نے کہا کہ اپ گریڈ شدہ ریلوے راہداری بڑھتی ہوئی مال برداری کی ضروریات پوری کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی، جبکہ 2035ء تک سالانہ مال برداری کی طلب تقریباً دو کروڑ دس لاکھ ٹن تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔

کراچی، روہڑی حصے پر پیش رفت کے حوالے سے وفاقی وزیر نے بتایا کہ تقریباً دو ارب 50 کروڑ ڈالر مالیت کا یہ منصوبہ ایم ایل ون کا سب سے زیادہ پیش رفت کرنے والا حصہ ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اس منصوبے کے لیے مالی معاونت کی قیادت کر رہا ہے جبکہ ایشیائی بنیادی ڈھانچہ سرمایہ کاری بینک، عالمی بینک، اسلامی ترقیاتی بینک اور یورپی سرمایہ کاری بینک بھی معاونت فراہم کرنے والے شراکت داروں میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی، روہڑی منصوبہ ابتدائی مرحلے سے آگے بڑھ چکا ہے، منصوبے کی تیاری کے لیے مالی معاونت حاصل ہو چکی ہے، انجینئرنگ کے کام پر پیش رفت ہوئی ہے جبکہ خریداری اور مالی معاونت کے مراحل بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان کا مقصد کراچی، روہڑی کو ایک الگ منصوبے تک محدود رکھنا نہیں بلکہ اسے کراچی سے پشاور تک ایم ایل ون کی مکمل اپ گریڈیشن کی جانب پہلا قدم بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت روہڑی سے پشاور تک باقی حصوں کے لیے بھی مالی معاونت کے انتظام پر بیک وقت کام کر رہی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ اب بنیادی سوال یہ نہیں رہا کہ ایم ایل ون کو اپ گریڈیشن کی ضرورت ہے یا نہیں، ضرورت واضح ہے۔ اب ترجیح یہ ہے کہ کراچی، روہڑی پر ہونے والی پیش رفت کو عملی طور پر منصوبے کے نفاذ میں تبدیل کیا جائے، جبکہ بقیہ راہداری کے لیے بھی بیک وقت مالی معاونت کا انتظام کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن سے پاکستان کو زیادہ گنجائش رکھنے والی ریلوے راہداری میسر آئے گی، جو بڑھتی ہوئی مسافر اور مال برداری کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی تجارت اور رابطوں کو بھی مضبوط بنائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اب ہماری توجہ منصوبے پر عملدرآمد، مالی معاونت کے تسلسل اور ایم ایل ون کو کراچی سے پشاور تک ایک مربوط ریلوے راہداری کے طور پر مکمل کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے۔

وفاقی وزیر کی وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون پروگرام کانفرنس میں شرکت پاکستان کی جانب سے بنیادی ڈھانچے، تجارت، سیاحت اور علاقائی رابطوں کے فروغ کے لیے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل تعاون اور روابط کا حصہ ہے۔