وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی شعبے کے استحکام اور اصلاحاتی عمل کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ملکی اور بین الاقوامی نجی سرمائے کیلئے مزید گنجائش پیدا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
وہ لندن میں جے پی مورگن (J.P. Morgan) کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اب مقصد اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ معاشی استحکام کو پائیدار اور ترقی کے ایک ایسے مختلف ماڈل کو بنیاد بنایا جائے جو قلیل مدتی کھپت پر مبنی توسیع کے بجائے تیزی سے سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور برآمدات اور نجی شعبے کی سرگرمیوں کو تقویت دے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایک نیشنل پرائیویٹ ایکویٹی فریم ورک بھی تشکیل دے رہی ہے، جس کا مقصد ادارہ جاتی سرمائے کو کاروباری اداروں اور منصوبوں کی جانب راغب کرنا اور پرائیویٹ ایکویٹی و وینچر کیپیٹل کیلئے سازگار ماحول کو مضبوط بنانا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں، زراعت اور ہائوسنگ کے شعبوں میں بھی مالی وسائل تک رسائی کو وسعت دی جا رہی ہے، تاکہ میکرو اکنامک استحکام کو زیادہ سے زیادہ کریڈٹ، سرمایہ کاری اور پیداواری سرگرمیوں میں تبدیل کیا جا سکے۔ بیرونی معاشی روابط کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان روایتی طور پر امداد پر انحصار سے آگے بڑھتے ہوئے تجارت اور سرمایہ کاری کے مضبوط روابط کی جانب فیصلہ کن پیشرفت کر رہا ہے۔ انہوں نے دوطرفہ شراکت داری کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اشیاء اور خدمات کی تجارت کو مزید فروغ دینے اور باہمی مفاد پر مبنی معاشی تعلقات کے ذریعے طویل مدتی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان، جمیل احمد نے پاکستان کی بیرونی پوزیشن میں بہتری کو اجاگر کرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے، ذخائر میں ہونے والے اضافے کے معیار، ترسیلاتِ زر میں بڑھتے ہوئے رجحان اور بیرونی شعبے کے بنیادی اشاریوں میں بہتری پر روشنی ڈالی۔