ستمبر 1965 کی جنگ کے گیارہویں روز بھارتی فوج کو ابتدائی حملوں میں شکست دینے کے بعد پاک افواج کے حوصلے اور عزم مزید بلند ہوگئے اور وہ منظم ہوکر دشمن کے خلاف جوابی کارروائیوں اور بھرپور حملوں کے لیے مکمل طور پر تیار ہوگئیں۔
پاکستان کی مسلح افواج کے یکے بعد دیگرے کامیاب حملوں سے بھارتی فوج کے سینئر افسران کے قدم ڈگمگا گئے اور وہ پست حوصلوں کے ساتھ اس کشمکش میں مبتلا ہوگئے کہ محض کشمیر کو جواز بنا کر اتنی بڑی جنگ شروع کرنے کا مقصد کیا ہے۔
بھارتی فوج کے 4th Mountain Division، 2nd Independent Armoured Brigade Group اور ایک اضافی ٹینک رجمنٹ نے کھیم کرن کے علاقے سے پاکستانی شہر قصور پر حملہ کیا۔
پاکستانی افواج نے اس حملے کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بھارتی فوج کو پسپائی پر مجبور کیا اور کھیم کرن پر قبضہ کرلیا۔
گھمسان کی جنگ کے بعد پاکستان نے بھارتی فوج کو بھاری نقصان پہنچایا۔
قصور میں پاکستانی فوج نے لاہور کی طرف بھارتی پیش قدمی روکی اور کھیم کرن کو چھڑانے کی بھارتی کوشش ناکام بنا دی۔
لاہور سیکٹر میں بھارتی فوج ہریکے برکی روڈ تک پہنچی، جس کے بعد اسے بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔
سیالکوٹ سیکٹر میں پاک فوج نے ٹینکوں سے بڑا حملہ کرکے 36 بھارتی ٹینک تباہ کردیئے۔
چھمب سیکٹر میں پاکستانی فوج نے دیوا کے شمال میں موجود بھارتی فوجی چوکی پر قبضہ کرلیا۔
سندھ راجستھان سیکٹر میں بھی پاکستانی فوج نے مزید کامیابیاں حاصل کیں۔ پاک فوج نے شمال کی جانب برق رفتاری سے پیش قدمی کرتے ہوئے گدرو میں مزید بھارتی چوکیوں پر قبضہ کیا۔
پاک فضائیہ نے ہلواڑہ کے مقام پر مگ طیاروں کی فارمیشن کو مکمل طور پر تباہ کردیا جبکہ دو مزید بھارتی بمبار طیاروں کو مغربی بنگال کے باغ ڈوگرا ایئربیس پر تباہ کردیا۔
دوراکا آپریشن کے بعد پاک بحریہ نے بحیرہ عرب میں اپنی بالادستی برقرار رکھی۔