اقوام متحدہ نے افغانستان میں انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امدادی سرگرمیوں میں مداخلت کے باعث ملک میں انسانی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور(اوچا) کی رپورٹ کے مطابق، طالبان کی مداخلت کے باعث جولائی میں افغانستان میں اٹھارہ امدادی پروگرام معطل رہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امدادی پروگراموں کے نفاذ میں مداخلت اور منظوری میں تاخیر کے باعث ضرورت مند افراد تک امداد کی فراہمی شدید متاثر ہوئی۔
اوچا کے مطابق خواتین پر عائد پابندیاں بھی انسانی امدادی سرگرمیوں میں سنگین رکاوٹ کا باعث بن رہی ہیں اور جولائی میں ایسے گیارہ واقعات رپورٹ ہوئے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جولائی کے دوران امدادی کارکنوں اور امدادی اثاثوں کے خلاف تشدد کے بارہ واقعات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ بارہ امدادی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔
ماہرین کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں مداخلت، رکاوٹیں اور خواتین امدادی کارکنوں پر پابندیاں افغانستان میں جاری انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امدادی سرگرمیوں میں غیر ضروری مداخلت اور پابندیاں افغان عوام کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔