پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ کسی کو بھی آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے، افراتفری یا بے یقینی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے سیاسی رہنماؤں سردار عتیق احمد خان اور نبیلہ ایوب کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کو بات چیت سے حل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے اڑتیس میں سے پینتیس مطالبات پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے اور حکومت باقی ماندہ مطالبات پر بھی بات کرنے کو تیار ہے۔
کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص اسمبلی کی بارہ نشستوں کو ختم کرنے کے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبے کے بارے میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت نے کمیٹی سے درخواست کی ہے کہ یہ معاملہ آل پارٹیز کانفرنس میں لیکر جائیں، آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں بحث کرائیں، آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرے یا 9 جون کو احتجاج کی کال ملتوی کر دی جائے لیکن بدقسمتی سے کمیٹی نے ان تمام تجاویز کو مسترد کر دیا۔
پہلے سے نافذ معاہدے کی شقوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت نے تقریباً ایک سو ستر ایف آئی آر واپس لیں، پرتشدد مظاہروں میں حصہ لینے والے معطل سرکاری ملازمین کو بحال کیا، منگلا ڈیم کے متاثرین کے بجلی کے بل معاف کیے اور بجلی کے میٹرز کیلئے آن لائن ٹینڈر کا عمل بھی شروع کیا۔
انہوں نے کہا کہ کہوٹہ آزاد پتن روڈ کے قابل عمل ہونے کی جائزہ رپورٹ مکمل کر لی گئی ہے جبکہ آٹے کا معیار اور انٹرنیٹ سروسز بہتر بنانے سے متعلق شقوں پر بھی عملدرآمد ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچرا اٹھانے کے موثر نظام کیلئے پی سی ون مکمل ہو گیا ہے جس پر دو ارب سترکروڑ روپے لاگت آئی ہے اور آزاد کشمیر کابینہ نے لوکل گورنمنٹ قوانین میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پانچ کلو واٹ لوڈ والے صارفین کے لیے رعایتی ٹیرف کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے بجلی چوری کی روک تھام میں حکومت کی مدد کیلئے ابھی طریق کار تجویز کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ بینک آف آزاد جموں و کشمیر کی شیڈولنگ اور پونچھ ڈویژن اور مظفر آباد میں دو نئے فیڈرل بورڈز کے قیام کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیئے گئے ہیں۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف پہلے ہی آزاد کشمیر، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں صحت کارڈ سکیم شروع کرنے کی ہدایت کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں ایم آر آئی اور سی ٹی سکین مشینوں کی تنصیب کا کام تکمیل کے قریب ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بجلی کے نظام کی اپ گریڈیشن کیلئے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام دوہزار چھبیس ۔ستائیس کے تحت دس ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرپور ایئرپورٹ کو فعال کرنے کیلئے بھی کوششیں جاری ہیں۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کابینہ اور سرکاری محکموں کا حجم کم کرنے کا مطالبہ بھی پورا ہو گیا ہے۔
پینتیس مطالبات پر عمل درآمد کو سراہتے ہوئے سردار عتیق احمد خان نے اس بات پر زور دیا کہ باقی مسائل کے حل کیلئے بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چوبیس اکتوبر انیس سو سینتالیس کو مسلم کانفرنس کی تشکیل کردہ آزاد کشمیر کی پہلی کابینہ کے چھ ارکان میں سے پانچ مہاجرین تھے۔
سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ پاکستان نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی مسلسل حمایت کی ہے اور مہاجرین کے لئے اس حق سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مہاجرین کے حقوق کو پامال کرنے کی کوئی بھی کوشش بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو بری طرح متاثر کرے گی۔
نبیلہ ایوب نے کہا کہ آزاد کشمیر اور پاکستان کے عوام کا رشتہ مضبوط اور پائیدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی پریشر گروپ کو یہ تعلقات کمزور نہیں کرنے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے آزاد کشمیر کے عوام پر زور دیا کہ وہ کسی ایسے غیر ارادی عمل کا حصہ نہ بنیں جس سے کشمیر کے نصب العین کو نقصان پہنچے۔