Saturday, 22 August 2026, 06:28:09 am
 
رابعہ بنت کعب قُزداری
August 21, 2026

رابعہ بنت کعب قُزداری

فارسی کی پہلی معلوم شاعرہ، جس کی نسبت خُضدار (بلوچستان) سے جوڑی جاتی ہے۔

تُرکی کے تاریخی شہر اِستنبول کا ایک ضلع ’فَاتِح‘ کے نام سے موسوم ہے۔ صدیوں سے آباد اِس علاقے میں کئی عمارتیں سَلطَنَتِ عُثمانیہ کے زمانے کی تعمیر کردہ ہیں، جبکہ کئی اِس سے قبل کے بازَنطینی دَور کی یادگار ہیں۔ اپنے مُنفرد طَرزِ تعمیر کے سبب یہ تاریخی عمارتیں دُنیا بھر کے سَیّاحوں کی دلچسپی کا مرکز سمجھی جاتی ہیں۔

اِنہی قدیم عمارتوں میں سے ایک “سلیمانیہ مسجد” بھی ہے جسے سُلطان سُلیمان سےتقریباً پونے پانچ سو برس قبل مشہور تُرک معمار ’سِنان‘ نے بنوایا تھا۔ اس مسجد کے احاطے میں سُلیمانیہ مَخطوطات کُتُب خانہ بھی قائم ہے، جہاں سینکڑوں برس پُرانی، قَلَم اور سِیاہی کی مدد سے ہاتھ سے لکھی گئی ہزاروں قدیم کتابوں کو بڑی مہارت کے ساتھ محفوظ کیا گیا ہے۔

چھاپہ خانہ، یعنی پِرنٹنگ پریس، کی ایجاد سے پہلے کتابیں خُوش نَویس اور کاتِب، قَلَم اور سِیاہی کی مدد سے، ایک ایک لفظ ہاتھ سے نقل کرکے تیار کرتے تھے۔ یہ ایک مشکل اور وقت طلب کام تھا؛کسی بڑی کتاب کا ایک نُسخہ تیار کرنے میں کئی ماہ اور بعض صورتوں میں برسوں بھی لگ جاتے تھے۔ ہاتھ سے لکھی ہوئی ایسی کتابوں کو ’’مَخطوطات‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

اِس کُتُب خانے میں محفوظ ہزاروں مَخطوطات میں فارسی زبان کی ایک قدیم کتاب ’’تَرجُمانُ البَلاغَہ‘‘ بھی شامل ہے، جس کے محفوظ نُسخے پر سَنِ کِتابَت ۵۰۷ ہِجری، یعنی ۱۱۱۴ء درج ہے۔ کتاب کے مُصَنِّف مُحَمَّد بن عُمَر رادُویانی ہیں۔

فارسی زبان و اَدب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ’’تَرجُمانُ البَلاغَہ‘‘ اِس وجہ سے خاص اہمیت رکھتی ہے کہ رادُویانی نے اِس میں فارسی شاعری کی خوبیاں اور شِعری صَنعتیں سمجھاتے ہوئے مُتعدّد فارسی شاعروں کے اَشعار بطورِ مثال نقل کیے ہیں۔

رادُویانی کی “تَرجُمانُ البَلاغَہ” کا سب سے دلچسپ حصّہ ایک خاتون شاعرہ کا تذکرہ ہے، جس کا نام اُس نے ’بِنتِ کَعب‘ لکھا ہے، یعنی کَعب کی بیٹی۔ اور عِلمِ عَروض کی ایک بَحر، ’بَحرِ مُنسَرِح‘کے نمونے کے طور پر رادُویانی نے اِس خاتون شاعرہ کے یہ دو اَشعار بھی نقل کیے ہیں:

کاشَک تَنَم باز یافتی خَبَرِ دِل۔۔۔

کاشَک دِلَم باز یافتی خَبَرِ تَن۔۔۔۔

کاشَک مَن اَز تُو بَرَستَمی بِہ سَلامَت

اَی فَسوسا، کُجا تَوانَم رَستَن۔۔۔۔

تَرجمہ: اے کاش! میرا جِسم میرے دِل کی خبر پا سکتا۔ اے کاش! میرا دِل میرے جِسم کی خبر پا سکتا۔ اے کاش! میں تُجھ سے صحیح سلامت رہائی پا سکتی۔ ہائے اَفسوس! میں تُجھ سے کہاں رہائی پا سکتی ہوں۔

گو کہ رادُویانی کی اپنی زندگی کے حالات بہت کم معلوم ہیں، لیکن اُن کی کتاب “تَرجُمانُ البَلاغَہ” میں ایک خاتون شاعرہ کا یوں سامنے آنا اِس لیے اچنبھے کی بات معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانے میں عورتوں کے لیے باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے، شعر و سُخن کی طرف آنے اور علمی و اَدبی میدان میں اپنی پہچان بنانے کے مواقع نہایت محدود تھے۔

آج سے نو سو برس کے زمانے میں ایک عورت اپنے عِلم و فَضل اور فَنِّ شعر گوئی میں اِس قدر معتبر کیسے ٹھہری کہ ایک مُحقِّق اور نَقّاد کو اُس کے اَشعار اپنی کتاب میں بطورِ نمونہ نقل کرنا پڑے؟

’بِنتِ کَعب‘کے معاملے میں حیرت اِس لیے دوچند ہوجاتی ہے کہ رادُویانی نے اُن کا شعر محض کسی قصّے یا روایت کے طور پر محفوظ نہیں کیا، بلکہ فارسی شاعری میں استعمال ہونے والی ایک باقاعدہ بَحر، ’بَحرِ مُنسَرِح‘کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔ گویا رادُویانی کے نزدیک اِس شاعرہ کا کلام اِس قابل تھا کہ شعر کے فن کو سمجھانے کے لیے اُسے نمونے کے طور پر پیش کیا جاسکے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ رادُویانی نے اِس شاعرہ کے حالاتِ زندگی، اُس کے زمانے یا وطن کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ اُس کے ہاں وہ صرف ’’بِنتِ کَعب‘‘ ہے—ایک ایسی شاعرہ جس کی شناخت اُس کے حالات سے نہیں، اُس کے شعر سے ہمارے سامنے آتی ہے۔

اِس شوخ گفتار شاعرہ کا تذکرہ صرف رادُویانی کی ’’تَرجُمانُ البَلاغَہ‘‘ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اِس کتاب سے قریب قریب ایک صدی بعد، یعنی ۶۱۸ ہجری بمطابق ۱۲۲۱ء میں تألیف ہونے والی مُحَمَّد عَوفی کی فارسی کتاب ’’لُبابُ الاَلباب‘‘ میں بھی اِس کا ذکر دکھائی دیتا ہے۔

تاہم عَوفی اس شاعرہ کو ’’بِنتِ کَعب‘‘ کہنے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس مبہم نام ( یعنی “فلاں کی بیٹی” والے نام ) کا معمہ کھولتے ہوئے اِس کا اصل نام ’’رابِعَہ‘‘ لکھتے ہیں اور اُس پر ’’القُزداری‘‘ کی نسبت بھی لگاتے ہیں۔ یوں ۱۲۲۱ء میں دستیاب مآخذ میں پہلی مرتبہ اِس باکمال شاعرہ کا نسبتاً مکمل نام دنیا کے سامنے آتا ہے: ’’رابِعَہ بِنتِ کَعب القُزداری‘‘۔

صرف یہی نہیں، عَوفی لکھتے ہیں کہ اِس شاعرہ کو ’’مَگَسِ رُوئین‘‘ بھی کہا جاتا تھا اور اِس نام کی وجہ اُس کے کہے ہوئے یہ دو شعر تھے:

خَبَر دِهَند کہ بارید بَر سَرِ اَیّوب

ز آسِمان مَلَخان و سَرِ ہَمہ زَرّین

اَگَر بِبارَد زَرّین مَلَخ بَر اُو اَز صَبر

سَزَد کہ بارَد بَر مَن یَکی مَگَسِ رُوئین

تَرجمہ: روایت ہے کہ حضرت اَیّوبؑ کو اُن کے صبر کے صلے میں آسمان سے بڑی تعداد میں سُنہری ٹِڈّیاں عطا ہوئیں۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ اگر حضرت اَیّوبؑ کے صبر کا صلہ سُنہری ٹِڈّیاں ہوسکتی ہیں تو میرے صبر کے صلے میں کم از کم ایک ’’مَگَسِ رُوئین‘‘، یعنی ایک تانبے کی شہد کی مکھی ہی میرے حصے میں آجائے۔

یہاں ’’مَگَسِ رُوئین‘‘ کی ترکیب بھی خاصی دلچسپ ہے۔ فارسی کی قدیم اَدبی زبان میں ’’مَگَس‘‘ کا لفظ شہد کی مکھی کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، جبکہ ’’رُوئین‘‘ تانبے یا کانسی جیسی دھات کے مفہوم میں آتا ہے، جو ظاہر ہے سونے کے مقابلے میں کم مایہ ہوتی تھیں۔ یوں رابِعَہ نے ’’مَلَخِ زَرّین‘‘ یعنی سُنہری ٹِڈّی کے مقابلے میں ’’مَگَسِ رُوئین‘‘ کا ایسا دلچسپ اور اچھوتا تقابل پیدا کیا کہ عَوفی کے مطابق یہی ترکیب اُس شاعرہ کا لقب بن گئی۔ ’’لُغَت نامۂ دِہخُدا‘‘ میں بھی ’’لُبابُ الاَلباب‘‘ کے حوالے سے یہی روایت نقل ہوئی ہے۔

اور یوں ’’لُبابُ الاَلباب‘‘ کی اہمیت صرف یہ نہیں رہتی کہ عَوفی نے قریب قریب ایک صدی بعد اِس شاعرہ کے مزید اَشعار محفوظ کردیے، بلکہ وہ ایک ایسی بات بھی بتاتے ہیں جو رادُویانی نے نہیں بتائی تھی: اِس شاعرہ کا نام ’’رابِعَہ‘‘ تھا اور اُس کے نام کے ساتھ ’’قُزداری‘‘ کی نسبت تھی۔

اب یہاں ایک نیا سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ’’قُزدار‘‘ کہاں تھا، جس کی نسبت سے فارسی زبان کی اِس قدیم شاعرہ کو ’’قُزداری‘‘ کہا گیا۔

کئی مُحقِّقین نے ’’قُزدار‘‘ کی شناخت موجودہ خُضدار، بلوچستان سے کی ہے؛ عربی اور فارسی مآخذ میں یہ لفظ مختلف اِملائی صورتوں، قُزدار، قُصدار اور قَضدار وغیرہ کی شکل میں لکھا ملتا ہے۔ (بِحوالہ: وِمِن پوئٹس اِرانیکا، ڈیجیٹل ایڈیشن)

دسویں صدی کے مشہور مُسلم جُغرافیہ نگار شَمسُ الدِّین مُقَدَّسی نے اپنی معروف کتاب ’’اَحسَنُ التَّقاسِیم فِی مَعرِفَۃِ الاَقالِیم‘‘ میں قُزدار کو تُوران کا مرکزی شہر قرار دیا ہے، تاہم یہ وَسطی ایشیا کا وہ تُوران نہیں جو فِردوسی کے ’’شاہنامہ‘‘ میں ملتا ہے بلکہ موجودہ بلوچستان میں قَلات اور خُضدار کے آس پاس کا علاقہ مراد ہے۔

(بِحوالہ: وِمِن پوئٹس اِرانیکا، ڈیجیٹل ایڈیشن؛ مُقَدَّسی، ’’اَحسَنُ التَّقاسِیم‘‘، فارسی ترجمہ، جلد دوم، ص ۷۰۴؛ نیز اِنسائیکلوپیڈیا اِرانیکا، ذیلِ ’’تُوران‘‘)

اِسی دور کے معروف جُغرافیہ نگار اَبو اِسحاق اِصطَخری بھی اپنی کتاب ’’المَسالِک وَالمَمالِک‘‘ میں قُزدار کا ذکر کرتے ہیں اور اسے سِندھ اور مَکران سے ملنے والے اِسی جُغرافیائی خطّے میں رکھتے ہیں۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ قُزدار کوئی نامعلوم یا فرضی مقام نہیں تھا بلکہ قُرونِ وُسطیٰ کے مُسلم جُغرافیہ نگار اِس شہر اور اِس کے مَحلِّ وُقوع سے واقف تھے۔ (بِحوالہ: اَبو اِسحاق اِصطَخری، ’’المَسالِک وَالمَمالِک‘‘، ص ۱۷۱، ۱۷۷)

جدید دور کے ممتاز ایران شناس وِلادیمیر فِیودورووِچ مینورسکی (۱۸۷۷ء–۱۹۶۶ء) نے بھی قدیم جُغرافیائی مآخذ کی تحقیق کرتے ہوئے قُزدار کی شناخت موجودہ بلوچستان کے خُضدار سے کی ہے۔ مینورسکی ایرانی اور وَسطی ایشیائی تاریخی جُغرافیے کے بڑے مُحقِّقین میں شمار ہوتے ہیں۔

قدیم فارسی جُغرافیائی کتاب ’’حُدودُ العالَم‘‘ کے اَنگریزی ترجمے اور تحقیقی حواشی میں بھی وِلادیمیر فِیودورووِچ مینورسکی نے اِس خطّے کے قدیم مقامات کی شناخت پر تفصیلی کام کیا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا بھی حدود العالم کے مینورسکی ترجمے کے ص ۱۲۳ اور ان کے حواشی کے ص ۳۷۳ کا حوالہ دیتے ہوئے اسی تُوران اور قُصدار/قُزدار کا ذکر کرتا ہے۔

یوں مُحَمَّد عَوفی کا رابِعَہ کو ’’قُزداری‘‘ کہنا محض ایک مُبہم نسبت نہیں رہتا۔ یہ ایک ایسے تاریخی شہر کی طرف اِشارہ کرتا ہے جس کی شناخت آج پاکستان کے صوبۂ بلوچستان کے خُضدار سے کی جاتی ہے۔

رابِعَہ کی ’’قُزداری‘‘ نسبت کی کم از کم دو ممکنہ صورتیں ہوسکتی ہیں: ایک یہ کہ اُن کی پیدائش قُزدار میں ہوئی ہو، اور دوسری یہ کہ اُن کا خاندان کبھی قُزدار میں مُقیم رہا ہو۔ عربی اور فارسی میں کسی شخص کے نام کے ساتھ آنے والی جُغرافیائی نسبت ہمیشہ اُس کی جائے پیدائش ہی نہیں بتاتی بلکہ اُس کے خاندان، آبائی وطن یا کسی مقام سے مضبوط تعلق کی نشان دہی بھی کرسکتی ہے۔

تاہم کچھ مُحقِّقین نے رابِعَہ کو بَلخ کی باسی قرار دے کر اُن کا نام ’’رابِعَہ بَلخی‘‘ بھی لکھا ہے، جبکہ بعض روایات میں اُنہیں ’’اَمیرِ بَلخ کی دُختر‘‘ تک قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اِس روایت کو ثابت شدہ تاریخی حقیقت سمجھنے میں ایک مشکل یہ ہے کہ دستیاب ہَم عَصر تاریخی شہادتیں اِس بارے میں خاموش ہیں۔ جدید تحقیق میں معروف جرمن مُستشرِق ہِلمُٹ رِٹَر نے بھی کَعب کے حاکمِ بَلخ ہونے کی روایت پر شبہ ظاہر کیا ہے۔ (بِحوالہ: ہِلمُٹ رِٹَر، ’’دَریائے جان‘‘ [دِی اوشَن آف دَ سول]، جلد دوم، ص ۲۰)

رابِعَہ بِنتِ کَعب قُزداری کی شاعری کا ذکر بعد کے فارسی مآخذ میں بھی ملتا ہے۔ ساتویں صدی ہجری، یعنی تیرھویں صدی عیسوی کے معروف فارسی اَدیب، نقّاد اور عَروض دان شَمسُ الدِّین مُحَمَّد بن قَیس رازی نے اپنی مشہور کتاب ’’اَلمُعجَم فی مَعاییرِ اَشعارِ العَجَم‘‘ میں بھی ’’دُخترِ کَعب‘‘ کا شعر نقل کیا ہے۔ شَمسِ قَیس نے اِس کتاب کی تصنیف تقریباً ۱۲۱۸ء میں شروع کی اور اِسے قریب قریب ۶۳۰ ہجری، یعنی ۱۲۳۰ء کے آس پاس مکمل کیا۔

شَمسِ قَیس رازی فارسی شاعری کے اَوزان، بُحور، قافیہ اور فَنِّ شعر پر گفتگو کرتے ہوئے دُخترِ کَعب کا یہ شعر نقل کرتے ہیں:

تُرک اَز دَرَم دَرآمَد، خَندانَک

آں خُوب رُوئے چابُک، مِہمانَک

تَرجمہ: وہ تُرک میرے دروازے سے ہنستا مسکراتا اندر آیا؛ وہ خُوب رُو، چُست و چالاک سا مہمان۔

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ رابِعَہ بِنتِ کَعب قُزداری کی شخصیت محض تذکروں اور عِلمِ عَروض کی کتابوں تک محدود نہ رہی، بلکہ قریب قریب دو تین صدیوں بعد فارسی اَدب میں اُس کی شخصیت نے ایک داستانی اور افسانوی رُوپ بھی اختیار کرنا شروع کردیا۔

اِس رُوپ کا ایک پہلو رابِعَہ کے حُسن و جَمال سے متعلق تھا۔ چھٹی صدی ہجری کے اَدیب ظَہیری سَمَرقَندی کی مشہور کتاب ’’سِندباد نامہ‘‘ میں رابِعَہ کی زندگی کا کوئی قصّہ تو بیان نہیں ہوا، البتہ اُس کا نام عورت کے غیر معمولی حُسن کی مثال بن کر سامنے آتا ہے۔ کتاب کے ایک قصّے میں ایک نہایت مکار اور فریب کار بوڑھی عورت کا ذکر کرتے ہوئے مصنّف اُسے ’’رابِعَہ صورتی، زُوبَعَہ سیرتی‘‘ کہتا ہے، یعنی صورت رابِعَہ جیسی اور سیرت زُوبَعَہ جیسی۔ دہخدا بھی سندباد نامہ کے حوالے سے یہی ترکیب نقل کرتا ہے۔

یہاں ’’زُوبَعَہ‘‘ عربی و فارسی روایت میں ایک شیطان یا سرکش جِن کے نام کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ گویا مصنّف ایک ایسی عورت کی تصویر کھینچ رہا ہے جس کی صورت رابِعَہ کی طرح حَسین، مگر سیرت نہایت مکار اور فریب کار ہے۔

اِس تشبیہ کی اصل اہمیت ہمارے لیے یہ ہے کہ چھٹی صدی ہجری تک رابِعَہ کا حُسن فارسی اَدب میں اِس قدر معروف ہوچکا تھا کہ مصنّف کو اُس کے حُسن کی الگ سے وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی؛ محض ’’رابِعَہ صورتی‘‘ کہہ دینا قاری کے لیے کافی تھا۔ (بِحوالہ: ظَہیری سَمَرقَندی، ’’سِندباد نامہ‘‘، تصحیح اَحمد آتش؛ نیز لُغَت نامۂ دِہخُدا، ذیلِ ’’رابِعَہ صورت‘‘)

لیکن رابِعَہ کی شخصیت کو سب سے مفصّل داستانی رُوپ فارسی کے عظیم صوفی شاعر فَریدُالدِّین عَطّار نیشاپوری نے دیا۔ عَطّار نے اپنی معروف مثنوی ’’اِلٰہی نامہ‘‘ کے اکیسویں مقالے میں ’’حکایتِ اَمیرِ بَلخ و عاشق شدنِ دُخترِ اُو‘‘ کے عنوان سے رابِعَہ سے منسوب ایک طویل داستان بیان کی ہے۔ یہ داستان موجودہ متن میں ۴۰۸ اَشعار پر مشتمل ہے۔

عَطّار کی روایت میں رابِعَہ کے والد کَعب بَلخ کی سرحد پر ایک اَمیر ہیں، اُن کا بیٹا حارِث ہے اور حارِث کا ایک خُوب رُو غلام بَکتاش ہے۔ عَطّار رابِعَہ کو یہاں نام سے نہیں بلکہ ’’دُخترِ کَعب‘‘ اور ’’زَینُ العَرَب‘‘ کے نام سے پیش کرتے ہیں۔ داستان کے مطابق رابِعَہ بَکتاش کو دیکھ کر اُس کی محبت میں گرفتار ہوجاتی ہے اور اپنے جذبات اَشعار اور خطوط کی صورت میں اُس تک پہنچاتی رہتی ہے۔

بعد میں رابِعَہ کے اَشعار اور بَکتاش کے ساتھ اُس کے تعلق کا راز اُس کے بھائی حارِث پر کھل جاتا ہے۔ عَطّار کی داستان کے مطابق حارِث پہلے بَکتاش کو قید کرواتا ہے اور پھر رابِعَہ کو ایک گرم حمّام میں بند کروا کر اُس کے دونوں ہاتھوں کی رگیں کٹوا دیتا ہے۔ رابِعَہ اپنے بہتے ہوئے خون سے حمّام کی دیواروں پر اَشعار لکھتی رہتی ہے اور وہیں اُس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ بعد میں بَکتاش قید سے نکل کر حارِث کو قتل کرتا اور پھر رابِعَہ کی قبر پر جاکر اپنی جان لے لیتا ہے۔ یہ تمام واقعات عطار کی مذکورہ حکایت میں موجود ہیں۔

لیکن یہاں تاریخ اور داستان کے درمیان حد قائم رکھنا ضروری ہے۔ رادُویانی، عَوفی اور شَمسِ قَیس جیسے نسبتاً قدیم مآخذ رابِعَہ کو ایک شاعرہ کی حیثیت سے ہمارے سامنے لاتے ہیں؛ بَکتاش کے ساتھ عشق، حارِث کا انتقام، حمّام میں قتل اور خون سے شعر لکھنے کی یہ مفصّل داستان عَطّار کے ’’اِلٰہی نامہ‘‘ میں سامنے آتی ہے۔

اِس لیے عَطّار کے بیان کو رابِعَہ کی ثابت شدہ سوانح کے بجائے اُس سے وابستہ بعد کی اَدبی و صوفیانہ تمثیلی روایت کے طور پر پڑھنا زیادہ محتاط طرزِ تحقیق ہے۔

عَطّار کا مقصد بھی محض ایک ناکام دُنیوی عشق کی داستان سنانا نہیں تھا۔ ’’اِلٰہی نامہ‘‘ بنیادی طور پر ایک صوفیانہ مثنوی ہے۔ خود اِسی حکایت میں عَطّار اَبو سَعید اَبوالخیر سے منسوب ایک قول نقل کرتے ہوئے رابِعَہ کے اَشعار کو محض کسی ’’مَعشوقِ مَجازی‘‘ کے عشق کا نتیجہ قرار نہیں دیتے بلکہ لکھتے ہیں کہ اُس کا اصل معاملہ حق کے ساتھ تھا اور بَکتاش اُس راہ میں محض ایک بہانہ تھا۔ یوں عَطّار کی داستان میں دُنیوی محبت بالآخر ایک وسیلے اور تمثیل کی صورت اختیار کرتی ہے اور رابِعَہ ایک عارفہ شخصیت کے رُوپ میں سامنے آتی ہے۔ (بحوالہ: فَریدُالدِّین عَطّار نیشاپوری، ’’اِلٰہی نامہ‘‘، مقالۂ بیست و یکم، ’’حکایتِ اَمیرِ بَلخ و عاشق شدنِ دُخترِ اُو‘‘؛ نیز وِمِن پوئٹس اِرانیکا، ڈیجیٹل ایڈیشن)

شاید پاکستان میں رہنے والے بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ فارسی زبان کی اولین معلوم شاعرہ کی نسبت اُس سرزمین سے جڑتی ہے جو آج پاکستان کا حصّہ ہے۔ قریب قریب ایک ہزار برس پہلے فارسی شعر کہنے والی اِس خاتون کو قدیم مآخذ ’’رابِعَہ بِنتِ کَعب قُزداری‘‘ کے نام سے محفوظ کرتے ہیں، اور تاریخی جُغرافیے کی تحقیق اِسی قُزدار کی شناخت موجودہ خُضدار، بلوچستان سے کرتی ہے۔

یوں خُضدار کی نسبت رکھنے والی ایک عورت نے اُس زمانے میں فارسی شعر میں اپنی آواز محفوظ کرادی جب اِس زبان کی عظیم شعری روایت ابھی اپنے ابتدائی زمانے میں تھی۔ ایک ہزار برس گزر گئے، سلطنتیں مٹ گئیں، شہر بدلے، قُزدار کا نام خُضدار ہوگیا، مگر ’’بِنتِ کَعب‘‘ کے چند شعر وقت کی گرد سے نکل کر آج بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔

اور شاید رابِعَہ قُزداری کی سب سے بڑی اَدبی فتح بھی یہی ہے۔

خُضدار کے انہی سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان، ریڈیو پاکستان اپنے نشریاتی نظام کو جدید خطوط پر اُستوار کرنے کے لئے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے ایک منصوبے کے تحت ایک جدید ڈیجیٹل ٹرانسمیٹر کی تنصیب کرنے جا رہا ہے۔ اور کیا ہی خوب ہو کہ جس روز ریڈیو پاکستان خُضدار کا نیا ڈیجیٹل ٹرانسمیٹر اپنی نشریات کا آغاز کرے، اُس روز خُضدار کے اسٹوڈیو سے قریب قریب ایک ہزار برس پہلے اِسی سرزمین سے نسبت رکھنے والی رابِعَہ قُزداری سے منسوب یہ غزل بھی نشر ہو:

ز بَس گُل کہ دَر باغ مَأویٰ گِرِفت

چَمَن رَنگِ اَرتَنگِ مانی گِرِفت۔۔۔

صَبا نافَۂ مُشکِ تِبَّت نَداشت۔۔۔

جَہاں بُویِ مُشک اَز چہ مَعنی گِرِفت

مَگَر چَشمِ مَجنوں بہ اَبر اَندَر اَست۔

کہ گُل رَنگِ رُخسارِ لَیلیٰ گِرِفت۔۔۔

بِمَے مانَد اَندَر عَقیقین قَدَح۔۔۔۔۔

سِرِشکی کہ دَر لالہ مَأویٰ گِرِفت۔۔۔

قَدَح گیر چَندی و دُنیا مَگیر۔۔۔۔۔

کہ بَدبَخت شُد آن کہ دُنیا گِرِفت۔

سَرِ نَرگِسِ تازہ اَز زَرّ و سیم۔۔۔

نِشانِ سَرِ تاجِ کِسریٰ گِرِفت۔۔۔

چُو رُہبان شُد اَندَر لِباسِ کَبود۔۔

بَنَفشہ مَگَر دینِ تَرسی گِرِفت۔۔۔

(تَرجمہ: باغ میں اِس کثرت سے پھول کھلے ہیں کہ سارا چَمَن مانی کی رنگین تصویروں کی کتاب کی مانند ہوگیا ہے۔ صَبا اپنے ساتھ تِبَّت کے مُشک کی کوئی نافہ تو نہیں لائی، پھر یہ سارا جَہان مُشک کی خوشبو سے کیسے مہک اُٹھا ہے؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ مَجنوں کی آنکھیں بادل بن گئی ہیں اور اُن سے برسنے والے آنسوؤں نے پھولوں کو لَیلیٰ کے رُخسار کا رنگ دے دیا ہے؟ لالہ کے اندر ٹھہرا ہوا شبنم کا قطرہ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے سُرخ عقیق کے پیالے میں شراب بھری ہو۔

کچھ دیر جام تھام لو، مگر دُنیا کو تھامنے کی آرزو نہ کرو، کیونکہ جس نے دُنیا کو اپنا بنانا چاہا وہ آخرکار بَدبخت ہوا۔ تازہ نَرگِس کا پھول اپنے سُنہری اور نُقرئی رنگوں کے ساتھ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اُس نے کِسریٰ کے شاہی تاج کا نشان اپنے سَر پر سجا لیا ہو۔ اور نیلے لباس میں لپٹا بَنَفشہ کسی راہب کی مانند دکھائی دیتا ہے، جیسے اُس نے عیسائی راہبوں کا دین اختیار کرلیا ہو۔)

(بِحوالہ: لُغَت نامۂ دِہخُدا، ذیلِ ’’رابِعَہ قُزداری‘‘؛ نیز سَعید نَفیسی، ’’اَحوال و اَشعارِ رُودَکی‘‘، جلد دوم، ص ۶۳۰ — غزل رابِعَہ قُزداری سے منسوب)

اور یوں، اگر نئے ٹرانسمیٹر کی پہلی نشریات میں رابِعَہ قُزداری کا کلام خُضدار ہی کی فضا میں دوبارہ گونجے تو یہ محض ایک شاعرہ کو خَراجِ عقیدت نہیں ہوگا؛ یہ قریب قریب ایک ہزار برس بعد خُضدار کی ایک آواز کا اپنے ہی دیس میں لوٹ آنا ہوگا۔

اور شاید یہ رابِعَہ بِنتِ کَعب قُزداری کی ایک اور بڑی اَدبی فتح ہوگی۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان