Saturday, 22 August 2026, 06:30:05 am
 
تسلیم فاضلی, شبدوں سے تصویریں بنانے والا شاعر
August 17, 2026

تسلیم فاضلی ۔ شبدوں سے تصویریں بنانے والا شاعر

“وہ آیا، اُس نے دیکھا اور فتح کرلیا” کی اگر کوئی عملی تجسیم دیکھنی ہو تو تسلیم فاضلی کو دیکھ لیجیے۔ وہ صرف پینتیس برس جیا، مگر کئی طویل العمر شُعرا پر بازی لے گیا۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک بے مثال شاعر تھا؛ شَبدوں سے تصویریں بنانے اور صنائع و بدائع سے اُن میں رنگ بھرنے والا قلم کار۔

زُود گو ایسا کہ ایک سگریٹ سلگانے اور بُجھانے کے درمیانی وقفے ہی میں کوئی لازوال نغمہ تخلیق کرلیتا؛ ذہین ایسا کہ فلم ساز کے ہونٹوں کی جنبش ہی سے فلمی صورتِ حال بھانپ لیتا اور ایک اَچھوتا گیت کاغذ پر لکھ کے اُس کے ہاتھ میں تھما دیتا؛ لفظوں کا جادوگر ایسا کہ جہاں چاہتا، اپنے شَبدوں سے معانی و نغمگی کی پُھلجھڑیاں کشید کرلیتا۔

جب اُس نے محض اکیس برس کی عمر میں “آپ کو بھول جائیں ہم، اتنے تو بے وفا نہیں” جیسا لازوال گیت لکھا تو بڑے بڑے جغادریوں کو بھی یہ کہنا پڑا کہ تسلیم کو ’تسلیم‘ کرلینے ہی میں عافیت ہے۔

پاکستانی فلمی صنعت کو تسلیم فاضلی جیسا گیت نگار شاید ہی دوبارہ مل سکے؛ وہ اپنی مثال آپ تھا۔ وہ ایسا ’فاضلی‘ تھا جسے اُس کی مختصر سی زندگی میں بھی دل کھول کر ’تسلیم‘ کیا گیا اور آج، اُسے کراچی کے سخی حسن قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے چوالیس برس گزر جانے کے باوجود، اُس کی فنی عظمت بدستور تسلیم کی جارہی ہے۔

آج اُسی بے مثال نغمہ نگار تسلیم فاضلی کی ۴۴ویں برسی ہے۔

تَسلیم فاضِلی کا اَصل نام اِظہار اَنور تھا۔ وہ ۱۹۴۷ء میں دِہلی کے ایک کَشمیری، عِلمی و اَدبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد سیّد مُرتضیٰ حُسین، جو ’دُعا ڈِبائیوی‘ کے قَلمی نام سے معروف تھے، اُردو کے نام وَر شاعر تھے۔ ’ڈِبائیوی‘ اُن کے آبائی قصبے ڈِبائی کی نِسبت تھی، جو موجودہ بھارتی ریاست اُترپردیش کے ضلع بُلند شہر میں واقع ہے۔

تَسلیم فاضِلی کے بڑے بھائی نِدا فاضِلی اور صَبا فاضِلی نے بھی شعر و اَدب اور فُنونِ لَطیفہ میں نام پیدا کیا۔ تَسلیم فاضِلی بَہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے، اِس لیے گھر بھر کے لاڈلے بھی تھے۔ یوں شعر و سُخن کا ذَوق اُنہیں کسی خارجی وَسیلے سے نہیں ملا، بلکہ گویا اُن کے خُون میں شامل تھا۔

تَسلیم فاضِلی کے والد کے حَلقۂ اَحباب میں جِگر مُرادآبادی، شکیل بَدایونی اور جاں نِثار اَختر جیسے نام وَر شُعرا شامل تھے۔ وہ اپنے والد اور بڑے بھائیوں کے ساتھ مُشاعروں اور اَدبی مَحفِلوں میں شریک ہوتے تو اِن بُلند پایہ سُخن وَروں کو قریب سے دیکھنے اور سُننے کا موقع ملتا۔ اِسی اَدبی ماحول نے بَچپن ہی میں اُن کے اندر چُھپے شاعر کو بیدار کردیا اور وہ کَم عُمری ہی میں شعر کہنے لگے۔

اگرچہ تَسلیم فاضِلی کی جائے پَیدائش دِہلی تھی، تاہم اُن کا بَچپن اور اِبتدائی تَعلیمی زمانہ زیادہ تر گَوالیار میں گُزرا۔ اُنہوں نے گَوالیار کے وِکٹوریہ ہائی اِسکول سے مَیٹرک کا اِمتحان پاس کیا اور اِس کے بعد بھی کچھ عرصہ وہیں مُقیم رہے۔ گَوالیار کے وسطِ ساٹھ کی دہائی کے فِرقہ وارانہ فَسادات کے بعد، ۱۹۶۵ء میں، اُن کے والد نے خاندان سمیت پاکستان ہِجرت کا فیصلہ کیا۔ خاندان نے پہلے لاہور اور بعداَزاں کراچی میں سُکونت اِختیار کی، جب کہ اُن کے بڑے بھائی نِدا فاضِلی ہندوستان ہی میں رہ گئے۔

تَسلیم فاضِلی کی والدہ چاہتی تھیں کہ ذَہین اور ہونہار اِظہار اَنور ڈاکٹر یا اِنجینئر بنے، لیکن اُن کا دِل نِصابی کِتابوں سے زیادہ شعر و سُخن کی دُنیا میں لگتا تھا۔ اُنہوں نے گورنمنٹ کالج ناظم آباد، کراچی سے ایف ایس سی کا اِمتحان پاس کیا اور بعداَزاں اپنی پُوری تَوَجُّہ شعر و سُخن پر مَرکوز کردی۔

جب اُنہوں نے تَسلیم فاضِلی کے قَلمی نام سے فِلمی صَنعت کا رُخ کیا تو وہاں قَتیل شِفائی، سَیفُ الدّین سَیف، تَنویر نَقوی، فَیّاض ہاشمی، اَحمد راہی، حِمایت علی شاعِر اور مَسرور اَنور جیسے نام وَر اور مُستند فِلمی نَغمہ نِگاروں کا طُوطی بول رہا تھا۔ تاہم تَسلیم فاضِلی نے ’ہِمّتِ مَرداں، مَددِ خُدا‘ کے مِصداق، ۱۹۶۸ء میں نُمائش پذیر ہونے والی فِلم ’عاشق‘ کے نَغمات لکھ کر اپنے باقاعدہ فِلمی سَفر کا آغاز کیا۔

یوں تقریباً اِکیس برس کی عُمر میں تَسلیم فاضِلی پاکستانی فِلمی دُنیا میں داخل ہوئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان کی فِلمی نَغمہ نِگاری کی صَفِ اَوّل میں شامل ہوگئے۔ گویا وہ عین عالم شباب ہی میں “وہ آیا، اُس نے دیکھا اور فتح کرلیا” کے قول کی عملی تَجسیم بن گئے۔

تَسلیم فاضِلی کی نَغمہ نِگاری کا اِمتیاز اُن کی سادہ، سَلیس اور عام فَہم زبان، جذبے کی شِدّت، تراکیب کی تازگی اور نَغمے کی صُورتِ حال سے غیرمعمولی مُطابقت تھی۔ وہ فِلمی ضرورت کے مُطابق رُومان، ہِجر، وَفا، بے وَفائی، حَسرت، مَحرومی اور اِنسانی جذبات کو ایسے مُترنّم اَلفاظ میں ڈھالتے کہ نَغمہ فِلم سے نِکل کر سامعین کی ذاتی واردات بن جاتا۔

دَستیاب فِلمی فِہرستوں کے مُطابق اُنہوں نے ۱۵۴ فِلموں کے لیے ۳۰۹ گیت تَحریر کیے۔ اُن کی نُمایاں فِلموں میں ’ایک رات‘، ’ہِل اِسٹیشن‘، ’اِک نگینہ‘، ’اِک سَپیرا‘، ’اَفشاں‘، ’تُم مِلے پیار مِلا‘، ’جَلے نہ کیوں پَروانہ‘، ’اِنصاف اور قانون‘، ’مَن کی جیت‘، ’شَمع‘، ’شَبانہ‘، ’میرا نام ہے مُحبّت‘، ’دامَن اور چِنگاری‘، ’آئینہ‘، ’بَندش‘، ’طَلاق‘، ’میرے حُضور‘، ’سوسائٹی گِرل‘، ’نیا راستہ‘، ’بِہشت‘، ’آبرو‘ اور ’سِہرے کے پُھول‘ شامل ہیں۔

فِلم ’زینت‘ کے لیے لکھی گئی اُن کی غزل:

’رَفتہ رَفتہ وہ میری ہَستی کا ساماں ہوگئے

پہلے جاں، پھر جانِ جاں، پھر جانِ جاناں ہوگئے‘

نے مَقبولیت کی ایک نئی تاریخ رَقم کی۔

’یہ دُنیا رہے نہ رہے میرے ہَمدم‘، ’ہماری سانسوں میں آج تک وہ حِنا کی خُوشبو مَہک رہی ہے‘، ’ہمارے دِل سے مَت کھیلو، کِھلونا ٹُوٹ جائے گا‘، ’آپ کو بُھول جائیں ہم، اِتنے تو بے وَفا نہیں‘ اور ’خُدا کرے کہ مُحبّت میں وہ مَقام آئے‘ جیسے گیت تَسلیم فاضِلی کی پہچان بنے۔

’دِل نہیں تو کوئی شیشہ، کوئی پَتّھر ہی مِلے‘، ’کسی مِہرباں نے آکے مِری زِندگی سَجا دی‘، ’وَعدے کرکے صَنم کیوں نہ آئے‘، ’جو دَرد مِلا، اَپنوں سے مِلا‘، ’تُجھے دِل میں بَسا لُوں‘، ’بِن تِرے رات تو کیا، ہم سے کَٹے دِن بھی نہیں‘، ’تیرے بِنا دُنیا میں‘، ’آج تک یاد ہے وہ پیار کا مَنظر‘، ’دِل توڑ کے مَت جائیو‘ اور ’تیرے قَدموں میں بِکھر جانے کو‘ جیسے نَغمات آج بھی اُن کے فَن کی تازگی اور اَثر آفرینی کی گواہی دیتے ہیں۔

’دِنوا دِنوا مَیں گِنوں، کب آئیں گے سانوریا‘ کی غیرمعمولی مَقبولیت نے تو گویا اُن پر فِلموں کی بَرسات کردی اور لاہور کی فِلمی صَنعت میں ہر طرف اُن کے نام کا چَرچا ہونے لگا۔

ناشاد، نِثار بَزمی، ایم اَشرف اور رُوبن گھوش جیسے باکمال موسیقاروں نے اُن کے اَلفاظ کو اپنی دُھنوں سے آراستہ کیا، جب کہ نُورجہاں، مَہدی حَسن، اَحمد رُشدی، مِہناز، اے نَیّر، نَیّرہ نُور اور ناہید اَختر جیسے عظیم گلوکاروں نے اُن کے نَغمات کو اپنی آوازوں میں ہمیشہ کے لیے مَحفوظ کردیا۔

فِلموں ’شَبانہ‘، ’آئینہ‘ اور ’بَندش‘ کے نَغمات پر اُنہیں تین مرتبہ نِگار اَیوارڈ سے نوازا گیا۔

تَسلیم فاضِلی مَحض فِلمی گیت نِگار نہیں تھے؛ اُنہوں نے غزل، حَمد، نَعت، مَنقبت اور مَرثیے سمیت دیگر اَصنافِ سُخن میں بھی طَبع آزمائی کی۔ اُن کے مذہبی کلام کی ایک نُمایاں مثال ۱۹۷۵ء کی فِلم ’صُورت اور سیرت‘ میں شامل وہ حَمدیہ و مُناجاتی نَغمہ ہے جسے ایم اَشرف نے موسیقی سے آراستہ کیا اور شَہنشاہِ غزل مَہدی حَسن نے اپنی پُرسوز آواز میں گایا:

’بَندہ تو گُنہ گار ہے، رَحمٰن ہے مَولا

بَندے پہ کَرَم کرنا تِری شان ہے مَولا‘

یہ کلام بھی تَسلیم فاضِلی کی زبان کی سادگی، جذبے کی سچائی اور عام فَہم اَلفاظ میں گہری کیفیت پیدا کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت کا آئینہ دار ہے۔ بعض تَذکروں میں اُن کی نَعتوں، مَنقبتوں اور مَرثیوں کا ذِکر بھی مِلتا ہے؛ یوں اُنہوں نے اپنی شاعرانہ اِستعداد کو محض فِلمی نَغمہ نِگاری کی حُدود تک محدود نہیں رہنے دیا۔

اپنی شُہرت کے عُروج پر تَسلیم فاضِلی نے پاکستان کی معروف اَداکارہ نِشو (اصل نام: بلقیس بیگم) سے شادی کی۔ اُن کے ہاں ایک بیٹی، عائشہ فاضِلی، پیدا ہوئیں، جن کی شادی بعداَزاں پاکستان کی نام وَر فِلمی اَداکارہ فِردوس بیگم کے صاحب زادے علی رضا خاں سے ہوئی۔

تَسلیم فاضِلی کے ہم عَصروں کے مُطابق وہ نہایت سادہ، نَرم مِزاج، خُوش اَخلاق، دوست نواز اور بے نیاز اِنسان تھے۔ شُہرت کی بُلندیوں پر پہنچنے کے باوُجود اُن میں تَکبّر یا فَنّی اَنا پیدا نہ ہوئی۔ وہ دُوسروں کی بات تَحمُّل سے سُنتے اور کوئی مَعقول دَلیل سامنے آتی تو اُسے فوراً تَسلیم کرلیتے تھے۔

تَسلیم فاضِلی کی مُختصر مگر غیرمعمولی طور پر ثَمَرآور زِندگی بے اِختیار اَنگریزی کے عظیم رُومانوی شاعر جان کیٹس کی یاد دِلاتی ہے، جو صِرف پچّیس برس کی عُمر میں وَفات پاگیا تھا، مگر اپنے مُختصر تَخلیقی سَفر میں ایسا لازوال شِعری سَرمایہ چھوڑ گیا کہ آج اُس کا شُمار اَنگریزی زبان کے عظیم ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔

تَسلیم فاضِلی بھی لَگ بھگ پَینتیس برس زِندہ رہے، مگر اِس مُختصر مُہلت میں ایسے اَن مِٹ نَغمات تَخلیق کرگئے جو نِصف صَدی گُزرنے کے باوُجود اپنی تازگی، نَغمگی اور اَثر آفرینی بَرقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اِس فَنّی مُماثلت کی بِنا پر اگر اُنہیں پاکستانی فِلمی نَغمہ نِگاری کا ’کیٹس‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

تَسلیم فاضِلی ۱۷ اَگست ۱۹۸۲ء کو کراچی میں دِل کا دَورہ پڑنے سے وَفات پاگئے۔ زیادہ تر حوالوں میں اُن کا سَنِ پَیدائش ۱۹۴۷ء دَرج ہے، جس کے مُطابق وَفات کے وقت اُن کی عُمر تقریباً پَینتیس برس بنتی ہے؛ تاہم بَعض تَذکروں میں اُن کی عُمر بَتّیس برس لکھی گئی ہے، جسے دُرست مانا جائے تو اُن کا سَنِ پَیدائش ۱۹۵۰ء کے لَگ بھگ قرار پاتا ہے۔ اُنہیں کراچی کے سخی حَسن قَبرستان میں سُپردِ خاک کیا گیا۔

تَسلیم فاضِلی کی ۴۴ویں بَرسی کے موقع پر ریڈیو پاکستان کراچی کا ایک نُمائندہ وَفد آج سخی حَسن قَبرستان میں اُن کی قَبر پر حاضری دے گا، پُھول چڑھائے گا اور اُس جَواں مَرگ شاعر کو خراجِ عَقیدت پیش کرے گا جس نے پاکستان کی فِلمی موسیقی کو ایسے لازوال گیت عطا کیے جنہیں نہ صِرف پاکستان بلکہ دُنیا بھر میں پسندیدگی کی نِگاہ سے دیکھا اور سُنا گیا۔

زِندگی نے اگرچہ تَسلیم فاضِلی کو اپنی صَلاحیتوں کے مُکمّل اِظہار کے لیے زیادہ مُہلت نہ دی، مگر اُنہوں نے اِس مُختصر زِندگی کو اپنے فَن سے ایسی وُسعت عطا کردی جو طَویل عُمروں کو بھی کم ہی نَصیب ہوتی ہے۔ آج وہ سخی حَسن قَبرستان میں آسودۂ خاک ہیں، لیکن اُن کے نَغمات بَدستور فَضاؤں میں گُونج رہے ہیں اور ہر نئی نَسل کو یہ باوَر کرا رہے ہیں کہ فَن کار رُخصت ہوجاتا ہے، مگر سچّا فَن وقت کی دَست بُرد سے مَحفوظ رہتا ہے۔

سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان