Saturday, 22 August 2026, 06:30:06 am
 
"ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو کہ ہم کو تِتلیوں کے جُگنوؤں کے دیس جانا ہے"
August 20, 2026

“ہمیں ماتھے پہ بوسہ دوکہ ہم کو تِتلیوں کےجُگنوؤں کے دیس جانا ہے”

وہ بہت مُنفرد تھیں۔ اُنہیں دیکھ کر کوئی شخص اندازہ ہی نہیں لگا سکتا تھا کہ وہ گلوکارہ ہوں گی۔ گُمان گزرتا تھا کہ وہ کسی کالج یا یونیورسٹی میں پڑھاتی ہوں گی اور ابھی کسی سنجیدہ موضوع پر گفتگو شروع کر دیں گی۔ انتہائی سادہ لباس، سر پر دوپٹہ، ہلکا سا میک اَپ، سَپَاٹ چہرہ، جُھکی ہوئی نگاہیں اور شخصیت میں بناوٹ کا کوئی شائبہ تک نہیں۔

پھر ساز بجتے اور اُن کے گلے سے ایک مَدھم، شَفّاف اور ٹھہری ہوئی آواز نکلتی—ایسی آواز جو لفظ کے مفہوم کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہوتی تھی۔ فیض احمد فیض کی نظم ‘آج بازار میں پابَجولاں چلو’ کو ایک شُہرت اُن کے قلم سے نکلنے کے بعد ملی اور ایک نئی زندگی اُس وقت ملی، جب اِس سادہ سی گلوکارہ نے اُسے اپنی آواز دے دی۔

پتا نہیں کس دُوراندیش شخص نے اُنہیں ‘بُلبُلِ پاکستان’ کا لقب دیا تھا، مگر یہ لقب اُن پر ایسا جَچا کہ پھر اُن کے نام کا حصّہ بن گیا۔ وہ حقیقتاً ایک بُلبُل تھیں، جو آسام سے اُڑیں اور روشنیوں کے شہر کراچی کے بَنیرے پر آ بیٹھیں۔

یہ نَیّرہ نُور تھیں—بُلبُلِ پاکستان۔ آج، ۲۰ اگست کو، اُن کی چوتھی برسی ہے۔ وہ ۲۰ اگست ۲۰۲۲ ء کو کراچی میں ۷۱ برس کی عُمر میں انتقال کر گئی تھیں۔ چار برس بیت گئے، مگر اُن کی آواز اب بھی اپنے عہد میں مقیّد نہیں ہوئی۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی یادوں سے نکل کر اُن کی غزلیں، نظمیں اور گیت نئی نسل تک پہنچ رہے ہیں، اور شاید یہی کسی گلوکار کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ آواز، آواز دینے والے سے زیادہ عُمر پائے۔

گوہاٹی میں ایک بچّی اور سُروں کی تلاش:

نَیّرہ نُور ۳ نومبر ۱۹۵۰ ء کو بھارتی ریاست آسام کے شہر گوہاٹی میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا خاندان اِس سے پہلے اَمرتسر سے آسام منتقل ہوا تھا۔ اُن کے والد کاروبار سے وابستہ تھے اور مُسلم لیگ کے سرگرم کارکنوں میں شمار ہوتے تھے۔

نَیّرہ کے موسیقی سے تعلق کی ابتدا کسی اُستاد، ساز یا باقاعدہ تربیت سے نہیں ہوئی تھی۔ اِس رشتے کی پہلی ڈور اُن کے بچپن کے گوہاٹی سے جا ملتی ہے۔ وہ بتایا کرتی تھیں کہ اُن کے گھر کے قریب صبح سویرے لڑکیاں گھنٹیاں بجاتے اور بَھجن گاتے ہوئے گزرتیں تو وہ مَسحور ہو جاتیں۔ اُنہیں سنتی رہتیں، یہاں تک کہ وہ نظروں اور سماعت کی حَد سے دُور ہو جاتیں۔

گھر کے اندر بھی اعلیٰ موسیقی سننے کا ماحول تھا۔ بیگم اختر اور کانن دیوی جیسی آوازیں اُنہیں بچپن ہی سے اپنی طرف کھینچتی تھیں۔ وہ گلوکارہ بننے کے خواب نہیں دیکھتی تھیں، البتہ موسیقی سُنتی بہت تھیں اور جو چیز اچھی لگتی، اُسے نقل کرنے کی کوشش کرتیں۔ برسوں بعد اُنہوں نے اپنے بچپن کی اِس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُنہیں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ کسی چیز کی تلاش میں ہیں؛ جہاں کہیں صحیح سُر کان میں پڑتا، وہ وہیں رُک جاتی تھیں۔

۱۹۵۷ ء کے لگ بھگ نَیّرہ اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کے ساتھ پاکستان آ گئیں۔ اُن کے والد کاروباری اور جائیداد کے معاملات کے باعث بھارت ہی میں رہے۔ پاکستان آنے کے بعد لاہور کی علمی و ثقافتی فضا نے اُن کے اندر چُھپی گلوکارہ کو آہستہ آہستہ سامنے لانا شروع کیا۔

کالج کی وہ شام، جس نے راستہ بدل دی:

نَیّرہ نُور کی فَنّی زندگی میں نیشنل کالج آف آرٹس، لاہور کا زمانہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ یہاں باقاعدہ موسیقی سیکھنے نہیں آئی تھیں اور نہ اُس وقت تک اُنہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ گلوکاری کو پیشہ بنائیں گی۔ موسیقی اُن کے لیے ایک گہرا ذاتی شوق تھی۔

کالج میں موسیقی کی محفلیں اور کنسرٹس ہوتے رہتے تھے، جن میں نام وَر اُستاد بھی شریک ہوتے۔ ایسی ہی ایک تقریب میں پروفیسر اسرار احمد کو آنا تھا، مگر اُنہیں پہنچنے میں کچھ دیر ہو گئی۔ انتظار کے دوران نَیّرہ کے ساتھی طلبہ اور اساتذہ نے اُنہیں اسٹیج پر بٹھا دیا کہ جب تک پروفیسر اسرار نہیں پہنچتے، وہ کچھ گا دیں۔

نَیّرہ نے گایا اور جب اسٹیج سے اُتریں تو پروفیسر اسرار سامنے کھڑے تھے۔ اُنہوں نے اپنا تعارف کرایا اور نَیّرہ سے کہا کہ وہ بہت اچھا گاتی ہیں اور اِس فَن کو ضائع نہ کریں۔

یہ چند الفاظ نَیّرہ نُور کی زندگی کا رُخ متعیّن کرنے والے ثابت ہوئے۔

پروفیسر اسرار نے اُن کی حوصلہ افزائی کی، ابتدائی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا اور اُنہیں ریڈیو پاکستان لاہور لے گئے۔ نَیّرہ نُور نے موسیقی کی روایتی معنوں میں باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ اُن کی تربیت کا بڑا حصّہ سُننے، سمجھنے، نقل کرنے اور پھر مسلسل رِیاض سے وجود میں آیا۔ وہ خود کہتی تھیں کہ اُنہوں نے بڑے بڑے اُستادوں کو بہت سُنا، مشکل موسیقی سُنی اور یہی سُننا بھی اُن کے نزدیک ایک طرح کا عِلم تھا۔

۱۹۶۸ ء کے لگ بھگ ریڈیو پاکستان لاہور سے اُن کی باقاعدہ گائیکی کا آغاز ہوا۔ اُن کے بقول پہلی باقاعدہ غزل بھی اُنہوں نے ریڈیو ہی پر گائی۔ جس لڑکی نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ موسیقی اُس کا پیشہ بنے گی، اُس کے لیے اب ریڈیو کے دروازے کُھل چکے تھے۔

ریڈیو پاکستان سے پی ٹی وی تک:

۱۹۷۰ ء کی دہائی کے آغاز میں نَیّرہ نُور پاکستان ٹیلی ویژن تک پہنچیں۔ فیض احمد فیض کی صاحب زادی مُنیزہ ہاشمی نے اُنہیں پی ٹی وی پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پھر نَیّرہ نے ‘ٹال مٹول’، ‘اَکڑ بَکڑ’، ‘گپ شپ’ اور شعیب ہاشمی کے دوسرے پروگراموں کے لیے گانا شروع کیا۔

یہ پی ٹی وی کا وہ زمانہ تھا جب ایک ٹیلی ویژن پروگرام پورے مُلک کی توجّہ حاصل کر سکتا تھا۔ نَیّرہ نُور اسکرین پر آئیں تو اُن کا انداز بھی اُن کی آواز کی طرح دوسروں سے جُدا تھا۔ نہ لباس اور آرائش کے ذریعے نمایاں ہونے کی کوشش، نہ گاتے ہوئے کیمرے سے غیر ضروری تعلق۔ وہ خاموشی سے بیٹھتیں یا کھڑی ہوتیں، ساز شروع ہوتا اور باقی کام اُن کی آواز کرتی۔

شعیب ہاشمی کے معروف پروگرام ‘سچ گپ’ کی ٹیم میں سلیمہ ہاشمی، فاروق قیصر، شاہد طوسی، ارشد محمود اور شہریار زیدی بھی شامل تھے۔ یہی وہ تخلیقی حلقہ تھا جس نے نَیّرہ نُور کی زندگی کے فَنّی ہی نہیں بلکہ ذاتی سفر میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

شہریار زیدی، شادی اور گھر:

اِسی فَنّی ماحول میں نَیّرہ نُور اور شہریار زیدی ایک دوسرے کے قریب آئے اور بعد میں دونوں نے شادی کر لی۔ شہریار زیدی نے موسیقی کے بعد اداکاری کے شعبے میں بھی اپنی الگ شناخت قائم کی۔

نَیّرہ اور شہریار کے دو بیٹے، جعفر زیدی اور نادِ علی، ہوئے۔ جعفر زیدی نے والدین کی موسیقی کی روایت کو آگے بڑھایا اور بعد میں گلوکار اور موسیقار کی حیثیت سے نمایاں ہوئے۔

نَیّرہ نُور کے لیے شُہرت کے باوجود گھر ہمیشہ غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔ وہ خود کہتی تھیں کہ اُن کی ترجیح ہمیشہ گھر اور بچّے رہے۔ شادی اور بچّوں کے بعد گلوکاری جاری رکھنا آسان نہیں تھا۔ کبھی بچّوں اور گھریلو مصروفیات کے باعث رِیاض بھی رہ جاتا، لیکن اُنہیں احساس تھا کہ اگر مشق چُھوٹ گئی تو آواز کا معیار اور گلے کی طاقت برقرار نہیں رہے گی۔

اِسی لیے وہ مصروف گھریلو زندگی میں بھی رِیاض کے لیے وقت نکالتی تھیں۔ ایک دَور میں وہ صبح تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ باقاعدگی سے رِیاض کیا کرتی تھیں۔ اُن کے قریب رہنے والوں کے مطابق اُنہیں اپنے خاندان کے لیے کھانا پکانا بھی بہت پسند تھا۔ یوں اسٹیج اور ٹی وی پر نظر آنے والی معروف گلوکارہ گھر پہنچ کر اپنی شُہرت کو دروازے سے باہر چھوڑ دینے میں شاید زیادہ خوش رہتی تھیں۔

فلمی دُنیا اور پلے بیک گلوکاری:

ریڈیو اور ٹی وی کے بعد فلمی موسیقی نے بھی نَیّرہ نُور کے لیے اپنے دروازے کھولے۔ اُن کے فلمی سفر کا آغاز جنوری ۱۹۷۳ ء میں ریلیز ہونے والی پنجابی فلم ‘ضِدّی’ سے ہوا، جس میں اُن کا گایا ہوا نغمہ ‘چھن چھن پیر وَجدے’ فردوس پر فلمایا گیا تھا۔ اِس کی دُھن ماسٹر عبداللہ نے ترتیب دی تھی۔

اِسی برس اُن کی پہلی اُردو فلم ‘گھرانا’ سامنے آئی۔ ایم اشرف کی موسیقی میں ‘تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا’ نے نَیّرہ نُور کو فلمی موسیقی میں بڑی شناخت دی اور اُنہیں بہترین پلے بیک گلوکارہ کا نگار ایوارڈ بھی ملا۔

اِس کے بعد اُنہوں نے متعدد فلموں کے لیے گایا۔ ‘آس’، ‘بھول’، ‘دو بدن’، ‘شرافت’، ‘دو ساتھی’، ‘آئینہ’، ‘بندش’ اور دوسری فلمیں اُن کے فَنّی سفر کا حصّہ بنیں۔ اُن کی آواز میں سب سے زیادہ گیت اداکارہ شبنم پر فلمائے گئے، تاہم صبیحہ خانم، نیّر سلطانہ، فردوس، زیبا، نشو، سنگیتا، ممتاز اور بابرہ شریف سمیت اپنے وقت کی کئی معروف اداکاراؤں پر اُن کی آواز فلمائی گئی۔

پاکستانی فلمی موسیقی کے تقریباً سبھی بڑے موسیقاروں نے اُن کی آواز سے فائدہ اُٹھایا۔ نثار بزمی، خلیل احمد، ایم اشرف، کمال احمد، ناشاد، نذیر علی، خواجہ خورشید انور اور روبن گھوش جیسے موسیقاروں نے اُن سے گیت گوائے۔ روبن گھوش کے ساتھ اُن کا فَنّی اشتراک خصوصاً یادگار رہا۔ فلم ‘آئینہ’ کا ‘رُوٹھے ہو تم، تم کو کیسے مناؤں پِیا’ آج بھی اُن کے مقبول ترین فلمی گیتوں میں شمار ہوتا ہے۔

خواجہ خورشید انور جیسے بلند پایہ موسیقار نے جب اُنہیں اپنے لیے گانے کے لیے بُلوایا تو نَیّرہ اِسے اپنی زندگی کے قابلِ فخر لمحات میں شمار کرتی تھیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ خواجہ خورشید انور کا بُلانا ہی اُن کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا اور اِس کے بعد اُنہوں نے اپنے اندر زیادہ اعتماد محسوس کیا۔

تاہم فلموں میں کامیابی کے باوجود نَیّرہ نُور فلمی صنعت کے ماحول سے پوری طرح مانوس نہ ہو سکیں۔ وہ خود کہتی تھیں کہ فلمی گیت کے تقاضے الگ ہوتے ہیں اور فلمی دُنیا کے بارے میں جو کچھ سُنا تھا، اُس کے باعث وہ اُس ماحول میں خود کو پوری طرح ایڈجسٹ نہیں کر پائیں۔ شاید اِسی لیے فلم اُن کی شناخت کا ایک حصّہ تو بنی، اُن کی پوری شناخت نہیں۔

غزل اور نظم کی نیرہ نور:

نَیّرہ نُور کی اصل فَنّی وُسعت اُس وقت سامنے آتی ہے جب اُن کی گائی ہوئی اُردو شاعری کو دیکھا جائے۔ اُن کی آواز میں ایک ایسا ضبط اور ٹھہراؤ تھا جو غزل اور خصوصاً نظم کے لیے غیر معمولی طور پر موزوں ثابت ہوا۔

اکبر الٰہ آبادی کی ‘کہوں کس سے قصّۂ درد و غم’، مومن خاں مومن کی ‘اثر اُس کو ذرا نہیں ہوتا’ اور ‘وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا’، بہزاد لکھنوی کی ‘اے جذبۂ دل گر میں چاہوں’ اور اختر شیرانی کی ‘اے عشق ہمیں برباد نہ کر’ جیسے کلام اُن کی آواز میں ایک نئی تاثیر کے ساتھ سامنے آئے۔

ابنِ انشا کا ‘جلے تو جلاؤ گوری’، احمد شمیم کی نظم ‘کبھی ہم خوب صورت تھے’، ن م راشد کی ‘مُجھے وداع کر’ اور ‘زندگی سے ڈرتے ہو’ اور زہرہ نگاہ کی نظموں کو بھی اُنہوں نے اپنے مخصوص انداز میں پیش کیا۔

پی ٹی وی کے اَدبی پروگرام ‘سُخن وَر’ میں اُن کی گائیکی نے کلاسیکی اور جدید اُردو شاعری کو ٹیلی ویژن کے وسیع حلقۂ ناظرین تک پہنچایا۔ ارشد محمود کے ساتھ اُن کا طویل فَنّی اشتراک بھی اِسی سفر کا اہم حصّہ تھا۔ ارشد محمود نے اُن سے نہ صرف بہت سا اہم شعری کلام گوایا بلکہ پی ٹی وی کے دوسرے موسیقی کے پروگراموں اور میوزیکل ڈراموں کے لیے بھی اُن کی آواز میں یادگار گیت ریکارڈ کیے۔

نَیّرہ نُور کا کمال یہ تھا کہ وہ شعر پر اپنی آواز مسلّط نہیں کرتی تھیں۔ لفظ پہلے آتا تھا اور آواز اُس کے پیچھے چلتی تھی۔ شاید اِسی لیے اُن کی گائی ہوئی نظم سُنتے ہوئے سامع کو گلوکارہ کے ساتھ شاعر بھی سُنائی دیتا تھا۔

فیض کے گھر کی محفلوں سے ‘ہم کہ ٹھہرے اجنبی’ تک

اگر نَیّرہ نُور کے پورے فَنّی سفر میں کسی ایک شاعر کے ساتھ اُن کے تعلق کو سب سے نمایاں قرار دیا جائے تو وہ فیض احمد فیض ہیں۔

لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں فیض کا گھر ادیبوں، شاعروں، فنکاروں اور دانش وَروں کی محفلوں کا مرکز تھا۔ نَیّرہ نُور بھی اپنے ساتھی فنکاروں کے ساتھ وہاں جایا کرتی تھیں۔ انہی محفلوں میں اُنہیں صوفی تبسّم، منیر نیازی، احسان دانش، انتظار حسین، منو بھائی اور دوسرے اہلِ قلم سے ملنے کا موقع ملا۔

فیض کی شاعری سے نَیّرہ کا تعلق محض پسندیدگی تک محدود نہ رہا۔ اُن کی آواز فیض کے کلام کی ایک مستقل شناخت بنتی چلی گئی۔

فیض کی پینسٹھویں سالگرہ سے چند ہفتے قبل شعیب ہاشمی نے خیال پیش کیا کہ اُنہیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اُن کے کلام پر مشتمل ایک لانگ پلے تیار کیا جائے۔ نَیّرہ نُور نے اِس کے تمام نغمے گائے۔ شاہد طوسی اور ارشد محمود نے دُھنوں کو ترتیب دیا اور ای ایم آئی پاکستان کے اسٹوڈیو میں ریکارڈنگ ہوئی۔ ایک گیت ‘برکھا برسے چھت پر’ میں شہریار زیدی نے بھی نَیّرہ کا ساتھ دیا۔

۱۳ فروری ۱۹۷۶ ء کو یہ البم ‘نَیّرہ سِنگز فیض’ کے نام سے فیض احمد فیض کو پیش کیا گیا۔

اِسی مجموعے میں فیض کی وہ نظم بھی شامل تھی جو اُنہوں نے ۱۹۷۴ ء میں بنگلہ دیش کے سفر کے بعد لکھی تھی:

‘ہم کہ ٹھہرے اجنبی، اتنی مُداراتوں کے بعد’

نَیّرہ نُور نے اِسے جس رَچاؤ، ضبط اور سوز سے گایا، وہ رفتہ رفتہ اُن کی فَنّی شناخت کا حصّہ بن گیا۔ فیض کا ‘آج بازار میں پابَجولاں چلو’ بھی اُن کی آواز میں بے حد مقبول ہوا۔ محبت، جُدائی، سیاسی کرب اور انسانی دُکھ کی جو تہیں فیض کے لفظوں میں تھیں، نَیّرہ نُور کی آواز اُن تہوں کو چیخے بغیر نمایاں کر دیتی تھی۔

یہی نَیّرہ نُور کی فیض خوانی کا امتیاز تھا۔ وہ فیض کو صرف گاتی نہیں تھیں، اُن کے لفظوں کے لیے اپنی آواز میں جگہ بناتی تھیں۔

‘وطن کی مِٹّی گواہ رہنا’

غزل، نظم اور فلمی گیتوں کے ساتھ نَیّرہ نُور نے قومی نغموں میں بھی اپنی اَن مِٹ شناخت قائم کی۔ فلم ‘فرض اور مامتا’ کے لیے گایا ہوا ‘اِس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں’ اُن کے ابتدائی معروف قومی نغموں میں شامل تھا، جبکہ سہیل رعنا کی موسیقی میں ‘جو نام وہی پہچان، پاکستان پاکستان’ بھی اُن کی یادگار آوازوں میں شمار ہوتا ہے۔

مگر خلیل احمد کی دُھن میں گایا ہوا ‘وطن کی مِٹّی گواہ رہنا’ اُن کی آواز میں ایسا رَچا کہ کئی دہائیوں بعد بھی یومِ آزادی کی موسیقی اِس کے بغیر اَدھوری محسوس ہوتی ہے۔

اِس نغمے میں بھی نَیّرہ نُور کا وہی وصف نمایاں تھا جو اُن کی غزل میں تھا۔ جذبہ موجود تھا مگر آواز جذباتیت میں نہیں بہتی تھی۔ ایک خاص ٹھہراؤ کے ساتھ ادا کیے گئے الفاظ ہی سامع کے دِل تک پہنچتے تھے۔

شُہرت سے کنارہ اور خاموشی کا انتخاب:

نَیّرہ نُور نے اپنے فَنّی سفر کو غیر ضروری طور پر طول دینے کی کوشش نہیں کی۔ ایک وقت آیا تو اُنہوں نے خود موسیقی سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ اُن کا خیال تھا کہ ہر فنکار کو معلوم ہونا چاہیے کہ اُسے کب وقار کے ساتھ رُخصت ہو جانا ہے۔

شاید یہ فیصلہ بھی اُن کی پوری شخصیت کا خلاصہ تھا۔ جس عورت نے شُہرت حاصل کرنے کے لیے کبھی اپنی آواز بلند نہیں کی، اُس نے شُہرت سے الگ ہوتے ہوئے بھی کوئی شور نہیں کیا۔

پاکستانی موسیقی کے لیے اُن کی خدمات کے اعتراف میں اُنہیں نگار ایوارڈ سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا، جبکہ حکومتِ پاکستان نے اُنہیں صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی بھی عطا کیا۔

زندگی کے آخری حصّے میں نَیّرہ نُور بڑی حد تک عوامی زندگی سے دُور ہو گئی تھیں۔ ۲۰ اگست ۲۰۲۲ ء کو کراچی میں اُن کا انتقال ہو گیا۔

آج اُن کی وفات کو چار برس گزر چکے ہیں۔ اِس دوران موسیقی سُننے کے ذرائع بدل گئے، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی وہ دُنیا بھی بدل گئی جس نے نَیّرہ نُور کو گھر گھر پہنچایا، لانگ پلے اور کیسٹ تاریخ کا حصّہ بن گئے اور موسیقی موبائل فون تک آ پہنچی۔ مگر نَیّرہ نُور کی آواز اِس تبدیلی میں کہیں پیچھے نہیں رہ گئی۔

شاید اِس لیے کہ اُن کا فَن کسی ایک زمانے کے فیشن کا محتاج نہیں تھا۔

وہ ایک مَدھم سی آواز لے کر آئی تھیں۔ لفظ کو پوری حُرمت کے ساتھ گایا، شاعری کے مفہوم کو آواز میں سمیٹا اور پھر ایک روز اُسی خاموشی سے منظر سے ہٹ گئیں، جس خاموشی سے کبھی اسٹیج پر آیا کرتی تھیں۔

چار برس بعد بھی ساز بجتے ہیں، احمد شمیم کا کوئی مصرع اُبھرتا ہے اور وہ مانوس، شَفّاف اور ٹھہری ہوئی آواز سُنائی دیتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے اسٹیج پر وہ سادہ سی خاتون ایک بار پھر دوپٹہ سر پر لیے، نگاہیں جُھکائے کھڑی ہیں۔

اور ابھی گانا شروع ہونے والا ہے:

کبھی ہم خوب صُورت تھے

کِتابوں میں بَسی

خُوش بُو کی صُورت

سانس ساکِن تھی

بہت سے اَن کہے لفظوں سے

تصویریں بناتے تھے

پَرندوں کے پَروں پر نظم لکھ کر

دُور کی جھیلوں میں بَسنے والے

لوگوں کو سُناتے تھے

جو ہم سے دُور تھے

لیکن ہمارے پاس رہتے تھے

نئے دِن کی مَسافت

جب کِرن کے ساتھ

آنگن میں اُترتی تھی

تو ہم کہتے تھے

اَمّی، تِتلیوں کے پَر

بہت ہی خوب صُورت ہیں

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو

کہ ہم کو تِتلیوں کے

جُگنوؤں کے دیس جانا ہے

ہمیں رنگوں کے جُگنو

روشنی کی تِتلیاں آواز دیتی ہیں

نئے دِن کی مَسافت

رنگ میں ڈُوبی ہَوا کے ساتھ

کھڑکی سے بُلاتی ہے

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان