Saturday, 22 August 2026, 06:30:14 am
 
عُمدہ بی بی اور نواب عنایت کوٹیا
August 15, 2026

عُمدہ بی بی اور نواب عنایت کوٹیا

پاکستان کے ابتدائی عہد کے دو عظیم عوامی گلوکار، جن کی آوازیں ریڈیو پاکستان کے “آواز خزانہ” میں محفوظ نہ ہو پائیں ۔

دونوں میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی تھی: دونوں ایک ہی عہد کے پنجاب کے لوک گلوکار تھے؛ دونوں نے اپنی گائیکی میں لمبا سُر لگانے کی بدولت غیرمعمولی شہرت حاصل کی؛ دونوں نے لاؤڈ اسپیکر عام ہونے سے پہلے میلوں، ٹھیلوں اور کُھلے میدانوں میں محض اَپنے گلے کے زور پر اُونچی آواز میں گا کر اپنے فن کا لوہا منوایا؛ دونوں کا تعلق کسی باقاعدہ یا موروثی گائیک گھرانے سے نہیں تھا۔

تاہم دیگر دو معاملات میں بھی دونوں یکساں اور بڑی حد تک ’ستم رسیدہ‘ بھی ٹھہرے: دونوں اپنے عہد کی سماجی درجہ بندی میں کم تر سمجھے جانے والے محنت کش خاندانوں سے تعلق رکھنے کے سبب ادنیٰ ناموں سے منسوب اور مشہور ہوئے۔ عمدہ بی بی کو “عُمداں ماچھن” اور نواب عنایت کوٹیا کو “نواب کمہار” کہا گیا ہے۔

عمدہ بی بی نے تو پتا نہیں اِس معاشرتی رویّے پر اپنے کرب کا اظہار کیا یا نہیں، مگر نواب عنایت کوٹیا نے اپنی ایک جگنی میں خود کو ’کمّی‘ کہہ کر ایک منفرد احتجاج ضرور ریکارڈ کروایا۔ اُن کی جُگنی کے بول ہیں:

“نام نواب تے ذات کمّی دی،  جگنی کراں تیار”

(ترجمہ: نام نواب ہے، ذات کمّی کی ہے اور میں جگنی تیار کرتا ہوں۔)

یہ بول محض ایک گلوکار کا تعارف نہیں، بلکہ اُس زمانے کے پنجابی معاشرے کی طبقاتی ساخت پر مختصر مگر معنی خیز تنقید بھی ہیں۔ یہاں ’کمّی‘ سے مراد کوئی کم حیثیت انسان نہیں؛ پنجاب کے قدیم دیہی معاشرتی نظام میں یہ اصطلاح اُن محنت کش اور دست کار خاندانوں کے لیے استعمال ہوتی تھی جو اپنی فنی اور پیشہ ورانہ خدمات کے ذریعے گاؤں کی اجتماعی زندگی میں بنیادی کردار ادا کرتے تھے لیکن بد قسمتی سے عزت و تکریم سے محروم رہتے تھے۔

اور دوسرا یہ کہ اِن دونوں کی آوازیں بوجوہ لاہور ریڈیو کے محفوظ صوتی سرمائے کا حصہ نہ بن سکیں۔ جس زمانے میں لاہور ریڈیو اسٹیشن اپنی ابتدائی نشریاتی زندگی سے گزر رہا تھا، تقریباً اُسی زمانے میں لاہور میں کام کرنے والی گراموفون کمپنیوں نے عُمدہ بی بی اور نواب عنایت کوٹیا کی آوازیں ریکارڈ کرکے اُن کی “تھالیاں” تیار کیں؛ مگر قسمت کا کھیل دیکھیے کہ گراموفون نے جن آوازوں کو محفوظ کرلیا، لاہور ریڈیو بوجوہ اُنہیں اپنے ذخیرۂ صوت “آواز خزانہ” میں محفوظ نہ کرسکا۔

یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ اِس محرومی کا سبب اُن کی شہرت میں کوئی کمی تھی۔ اُس زمانے کی گراموفون کمپنیاں ہر آواز پر سرمایہ صرف نہیں کرتی تھیں۔ اُن کی ترجیح عموماً وہی فن کار بنتے تھے جو میلوں، ٹھیلوں، اکھاڑوں اور عوامی اجتماعات میں اپنی مقبولیت اور گائیکی کا لوہا پہلے ہی منوا چکے ہوتے۔ عُمداں اور نواب عنایت کوٹیا کے گراموفون ریکارڈ اِس اَمر کی گواہی ہیں کہ ریڈیو تک پہنچنے سے پہلے ہی اُن کی آواز پنجاب کے وسیع عوامی حلقوں میں اپنی جگہ بنا چکی تھی۔

عُمدہ بی بی کا تعارف:

عمدہ بی بی سال ۱۹۱۰ء کے آس پاس متحدہ پنجاب کے ضلع فیروزپور کے ایک گاؤں “سُباجکے” (جسے آج کل “پربھات سنگھ والا” کہا جاتا ہے) میں خوشی محمد کے گھر پیدا ہوئیں۔ خوشی محمد مَشک کے ذریعے لوگوں کے گھروں تک پانی ڈھونے کا کام کرتے تھے اور یوں وہ اپنے اِس مخصوص پیشے کی نسبت سے مقامی معاشرت میں ’ماچھی‘ کہلاتے تھے۔ ’ماچھی‘ کا لفظ ’ماشکی‘ (بمعنی ’مَشک والا‘) کا غلطُ العام ہے۔

عمدہ بی بی ابھی تقریباً پانچ برس کی تھیں کہ اُن کے والدین یکے بعد دیگرے وفات پاگئے۔ ترکے میں کوئی زمین یا جائیداد بھی نہ تھی، تو اُنہیں مجبوراً کم عمری ہی میں اپنا پیٹ پالنے کے لیے لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھنے اور دوسرے کام کاج کرنے پڑے۔

تنہائی، غربت اور یتیمی نے عمدہ بی بی کی شخصیت پر بہت گہرا اثر ڈالا۔ وہ رات کو اپنے سُونے گھر میں دُکھی ہوکر بین الاپنے لگتیں۔ یہ بین بالعموم “کَلی” کی شکل میں ظاہر ہوتے تھے۔

“کَلی” پنجاب میں ایک مخصوص لوک نظم کو کہا جاتا ہے، جسے کسی باقاعدہ ساز کے بغیر بلند آواز اور مخصوص جذباتی لَے میں گنگنایا یا گایا جاتا ہے۔

عمدہ بی بی کے گاؤں میں حضرت پیر محمد شاہ کا مزار تھا، جہاں ہر سال میلہ لگتا اور گرد و نواح کے دیہات کے فن کار انعام و اکرام کے لالچ میں اس میں شریک ہوتے۔ عمدہ بی بی بھی پہلی مرتبہ اسی میلے میں، شوق یا حالات کے جبر کے تحت، گانے کے لیے سامنے آئیں۔عمدہ کی آواز میں بے پناہ سوز و درد تھا؛ اُنہوں نے جب اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے کان پر ہاتھ رکھ کر لمبی، درد بھری ہیک لگائی تو کئی سننے والے بے اختیار آبدیدہ ہوگئے۔

“ہیک” ٹھیٹھ پنجابی زبان کا لفظ ہے ۔ ایک طویل آواز ، لمبی پکار یا اونچی سریلی آواز کو “ہیک “ کہا جاتا ہے۔ ۱۸۹۵ء میں لاہور سے شائع ہونے والی ایک پنجابی لغت میں اس لفظ کے معنی یوں درج ملتے ہیں:

“A prolonged sound of the voice in singing; sound; calling.”

(ترجمہ: گاتے ہوئے آواز کو دیر تک کھینچنا، لمبی آواز، طویل پکار۔)

(بحوالہ: بھائی مایا سنگھ، دی پنجابی ڈکشنری، منشی گلاب سنگھ اینڈ سنز، مفیدِ عام پریس، لاہور، ۱۸۹۵ء، ص ۴۴۱۔)عمدہ بی بی کو پہلی مرتبہ گاتے دیکھ کر کسی نے کہا کہ “عُمداں ماچھن”نے کیا خوب گایا ہے! کسی اور نے یہ تبصرہ کرکے کہ ماچھن بہت دُکھی عورت ہے، اُنہیں “دُکھی ماچھن” کا نام دے دیا۔ روایت کے مطابق یہی نام کثرتِ استعمال سے مختصر ہوکر “دُکّی ماچھن” ہوگیا اور وہ اپنی زندگی میں زیادہ تر اِسی نام سے مشہور رہیں۔

لوگوں کی پذیرائی سے حوصلہ پاکر عمدہ بی بی نے خوشی رام نامی ایک ہندو گلوکار کو اپنا اُستاد بنایا اور اُن سے گائیکی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ وہ ’دوہرے‘ اور ’چھند‘ بلند سُر میں گاتیں اور پنجابی لوک کہانیوں، بالخصوص قصۂ ہیر رانجھا، اور ہجریہ گیتوں کو ہیک کے ساتھ اپنے مخصوص انداز میں پیش کرتی تھیں۔

عُمدہ بی بی کی گائیکی کا سب سے نمایاں وصف لمبی ہیک تھی۔ وہ کان پر ہاتھ رکھ کر ہیک لگاتیں تو اُن کی بلند، کھنچی ہوئی اور درد میں ڈوبی آواز کھلے میدان میں دُور تک پہنچتی۔ ایسا محسوس ہوتا جیسے کوئی اپنے دُکھ پر بین کررہا ہو۔

عُمدہ بی بی نے عالمِ شباب میں قدم رکھا تو اُن کی شادی اپنے چچا کے بیٹے سے گاؤں “بگّیکے ہِٹھاڑ” میں کردی گئی، مگر شومئی قسمت، اُن کے دُکھوں کا سلسلہ شادی کے بعد بھی ختم نہ ہوسکا۔ کچھ عرصے بعد اُن کے شوہر کا بھی انتقال ہوگیا ۔ اولاد بھی نہیں تھی؛ تاہم شوہر کی وفات کے بعد اُنہوں نے دوبارہ شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی باقی زندگی گائیکی کے لیے وقف کردی۔

زندگی کے اِن پے در پے صدمات نے عُمدہ بی بی کی آواز کے سوز و گداز کو مزید گہرا کردیا۔ وہ بالخصوص ہجر، فراق اور جدائی کا کلام گاتی تھیں۔ اُن کے ایک گیت کے بول ہیں:

 “وے مینوں سُتّی نوں کیویں دن چڑھ گیا،

وے میں کھیلن جانا دُور۔اَڑیا کلّھ چڑھائیاں وے چوڑیاں، اَجّ ہو گئیاں چکنا چُور”

(ترجمہ: میری آنکھ لگ گئی اور دن چڑھ آیا۔ اِس گہری نیند کا مجھے دُکھ ہوا ہے کہ مجھے تو دُور کا سفر کرنا تھا۔ ارے دوست! تُو نے کل مجھے جو چوڑیاں پہنائی تھیں، دیکھو! وہ آج ٹوٹ کر چکنا چُور ہوگئی ہیں۔)

عمدہ بی بی جب ہجریہ اور فراقیہ کلام گاتیں تو اُن کی اپنی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگتے اور سامعین بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پاتے۔ اُن کی آواز میں محض بلندی نہیں، ایک ایسی داخلی کسک بھی تھی جو غالباً یتیمی، غربت اور بیوگی کے ذاتی تجربات سے پیدا ہوئی تھی۔

حیرت کی بات ہے کہ بٹوارے کے بعد کے دونوں پنجابوں میں عمدہ بی بی کی ذات سے متعدد افسانہ ہائے عامہ (folklore) بھی منسوب ہوئے۔

ایک مشہور افسانۂ عامہ یہ ہے کہ جس زمانے میں لین دین آنے، دو آنے وغیرہ میں ہوتا تھا اور ایک روپیہ بہت بڑی رقم سمجھی جاتی تھی—یہاں تک کہ روایت کے مطابق ایک روپے میں ایک من گندم مل جاتی تھی—عمدہ بی بی کسی محفل میں ایک روپے سے کم کی “ویل” قبول نہیں کرتی تھیں۔

پنجاب کے میلوں اور اکھاڑوں میں کسی پسندیدہ فن کار کی آواز یا ادا سے خوش ہوکر دی جانے والی انعامی رقم کو “ویل” کہا جاتا تھا۔

ایک روپے سے کم ویل قبول نہ کرنے کا مقصد محض زیادہ معاوضہ حاصل کرنا نہیں بتایا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ عمدہ بی بی چاہتی تھیں کہ اگر اُن کے فن کی قدر دانی کے لیے رقم نکلے تو کسی صاحبِ ثروت کی جیب سے نکلے، نہ کہ کسی غریب یا سفید پوش شخص کی محدود آمدنی سے۔ اُنہوں نے خود بچپن میں شدید غربت کا سامنا کیا تھا، اس لیے وہ محنت کشوں اور غریب غرباء کی مجبوریوں سے اچھی طرح واقف تھیں۔

عُمدہ بی بی سے منسوب ایک مشہور لوک کہانی یہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ ضلع حصار کا ایک عمر رسیدہ کسان اُن کے پاس آیا اور فریاد کی کہ اُس کا بیٹا، جو عُمدہ کی آواز کا شیدائی ہے، اپنا بیل فروخت کرکے حاصل ہونے والی تمام رقم اس کی ویلوں پر لٹا بیٹھا ہے۔ بزرگ نے بے بسی سے کہا: ’اب میں کھیت میں ہل کیسے چلاؤں گا؟‘ ۔عمدہ بی بی نے یہ سنا تو اُس بزرگ نے اپنے بیل کی جو رقم بتائی ، وہی کسی کمی بیشی کے بغیر اُس بوڑھے کسان کی ہتھیلی پر رکھ دی۔

عمدہ بی بی کے بارے میں ایک اور مشہور لوک کہانی یہ ہے کہ لاہور کے ایک دولت مند زمیندار یا نواب نے اُنہیں اپنے کسی عزیز کی شادی میں گانے کے لیے مدعو کیا۔ وہ اُن کی آواز اور گائیکی سے اس قدر متاثر ہوا کہ اُنہیں دل دے بیٹھا اور شادی پر اصرار کرنے لگا۔ عمدہ بی بی اپنے شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرچکی تھیں، اس لیے اُنہوں نے صاف انکار کردیا۔ زمیندار نے اُنہیں لاہور کے ایک مکان کے بالائی حصے، یعنی چوبارے، میں قید کردیا، جبکہ مکان کے نچلے حصے میں اُس کے نوکروں کا پہرا رہتا تھا۔

ایک دن ایک فقیر یا مانگنے والا اُس گلی میں آیا تو عمدہ بی بی نے چوبارے کی کھڑکی سے اُس سے مدد کی منت سماجت کی اور اسے اپنے گاؤں کا اتا پتا بتایا۔

لاہور سے فیروزپور کا درمیانی فاصلہ پچاس پچپن میل کا تھا اور فقیر اور جوگی وغیرہ حصولِ معاش کے لیے اتنی مسافت طے کرکے دُور دراز علاقوں تک بالعموم سفر کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ وہ فقیر اُن کا پیغام لے کر سُباجکے پہنچ گیا۔

پیغام ملنے پر گاؤں کے دو نوجوانوں، ایشَر سنگھ اور گوریا سنگھ، نے عمدہ بی بی کو لاہور سے نکالنے کی ذمہ داری قبول کی۔ گوریا سنگھ جوگیوں والی بین بجانا جانتا تھا، اس لیے دونوں نوجوان جوگیوں کا بھیس بدل کر لاہور پہنچے۔ گوریا سنگھ نے چوبارے کے باہر بین بجائی تو عمدہ بی بی نے آواز پہچان لی۔ وہ رات کے وقت رسی کے ذریعے چوبارے سے نیچے اُتریں اور دونوں نوجوانوں کے ساتھ قید سے فرار ہوگئیں۔ جب وہ ستلج کے عین درمیان پہنچے تو نوجوانوں نے عمدہ بی بی سے کہا: “اب وہ زمیندار تمہیں نہیں پکڑ سکتا؛ اب ایک ہیک لگاؤ۔”

عمدہ بی بی نے دریا کے بیچ ایسی بلند اور طویل ہیک لگائی کہ اُن کی آواز ستلج کے دونوں کناروں تک سنی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ جن لوگوں نے اُس رات وہ ہیک سنی، وہ زندگی بھر اُسے فراموش نہ کرسکے۔

یہ واقعہ تاریخی دستاویز سے زیادہ لوک داستان کا رنگ رکھتا ہے، مگر اس سے عمدہ بی بی کی آواز کی غیرمعمولی قوت اور عوام میں اُن کی شہرت کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔

عمدہ بی بی سے وابستہ ایک اور مشہور روایت یہ ہے کہ اُن کی گائیکی سے خوش ہوکر دو مختلف جاگیرداروں نے اُنہیں دو گاؤں جاگیر میں دے دیے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ جلال آباد کے جاگیردار نے اُن کی فرمائش پر جلال آباد سے بگّیکے ہِٹھاڑ تک سڑک بھی تعمیر کروائی۔ بتایا جاتا ہے کہ بٹوارے کے بعد بھی کئی دہائیوں تک یہ دونوں گاؤں مقامی طور پر عمدہ بی بی کے نام سے منسوب رہے؛ تاہم اس روایت کی تصدیق کے لیے باقاعدہ کوئی اراضی ریکارڈ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

عمدہ بی بی کی مقبولیت محض میلوں، ٹھیلوں اور اکھاڑوں تک محدود نہیں رہی۔ ۱۹۳۸ء میں ایک معروف گراموفون کمپنی نے اُن کی آواز ریکارڈ کرنے کے لیے اُن سے رابطہ کیا اور ۱۹۳۹ء میں اُن کا پہلا گراموفون ریکارڈ، جسے اُس زمانے میں عام طور پر “توا” یا “تھالی” کہا جاتا تھا، بازار میں آیا۔ اس ریکارڈ کا نمبر ایف ۔ ۱۲۷۰۶ بتایا جاتا ہے۔ بعد ازاں اُن کے مزید ریکارڈ بھی جاری ہوئے اور اُن کی آواز پنجاب کے اُن علاقوں تک پہنچ گئی جہاں وہ خود جاکر نہیں گا سکتی تھیں۔

اُن کے گراموفون ریکارڈوں کی مقبولیت کا اندازہ اس روایت سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ شادی بیاہ کے لیے لاؤڈ اسپیکر بک کراتے وقت لوگ سب سے پہلے یہ پوچھتے تھے: ’تیرے کول دُکّی دے ریکارڈ ہن؟‘ یعنی تمہارے پاس دُکّی کے ریکارڈ موجود ہیں؟ یہ گراموفون ہی تھا جس نے کھلے میدانوں اور میلوں میں گونجنے والی عمدہ بی بی کی آواز کو وقت اور فاصلے کی قید سے نکال کر پنجاب کے گھروں اور شادی بیاہ کی محفلوں تک پہنچایا۔

تقسیمِ ہند کے موقع پر عمدہ بی بی کو بھی اپنا آبائی گاؤں چھوڑنا پڑا۔ ایک معروف مقامی روایت کے مطابق سُباجکے کے لوگ اُنہیں پاکستان جانے نہیں دینا چاہتے تھے، مگر ۱۹۴۷ء کے پُرآشوب حالات میں اُن کا وہاں بھارت میں رہنا ممکن نہ رہا۔ بالآخر وہی ایشَر سنگھ اور گوریا سنگھ، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُنہوں نے کبھی لاہور کی قید سے اُنہیں نکالا تھا، اُنہیں اپنی حفاظت میں ستلج پار کراکے پاکستان کی جانب چھوڑ گئے۔

پاکستان پہنچ کر عمدہ بی بی پاکپتن میں آباد ہوئیں اور کچھ عرصہ گاتی بھی رہیں۔ یہاں بھی اُن کی آواز کی قدر کی گئی، مگر کہا جاتا ہے کہ ہجرت کے بعد اُن کا دل ماں، باپ اور اپنے شوہر کی قبروں سے دُوری کے سبب پوری طرح نہ لگ سکا۔ آبائی گاؤں اور اپنے بچپن اور جوانی کے دنوں کی سُباجکے سے جُڑی یادوں نے اُنہیں اندر سے توڑ دیا۔ تقسیم کے تقریباً پانچ یا چھ برس بعد اُن کا انتقال ہوگیا۔ اس حساب سے اُن کی وفات ۱۹۵۲ء یا ۱۹۵۳ء کے لگ بھگ بنتی ہے، لیکن وفات کی صحیح تاریخ اور قبر کا مقام ابھی تک دستیاب معلومات میں درج نہیں۔

عمدہ بی بی کی زندگی کے بہت سے واقعات دستاویزی تاریخ کے بجائے عوامی حافظے، مقامی روایتوں اور افسانہ ہائے عامہ کے ذریعے ہم تک پہنچے ہیں۔ اِن روایتوں میں وقت کے ساتھ مبالغہ یا داستانی رنگ شامل ہوجانے کا امکان اپنی جگہ موجود ہے۔

تاہم عُمدہ بی بی کی گراموفون ریکارڈنگ، غیرمعمولی ہیک، ہجریہ کلام اور مشترکہ پنجاب میں بے مثال عوامی مقبولیت ایسے حقائق ہیں جن سے انکار ممکن نہیں۔ آج بھی اُن کی آواز کی نادر و نایاب ریکارڈنگز ’ایمازون میوزک‘ جیسے عالمی شہرت یافتہ پلیٹ فارم پر موجود ہیں، جو اُن کے فن کی بُلندی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

وہ کسی موروثی گائک گھرانے کی تربیت یافتہ فن کار نہیں، بلکہ غربت، یتیمی اور ذاتی صدمات کی آگ سے گزر کر پنجاب کی ایک عظیم عوامی آواز بنی تھیں۔ گراموفون نے اُن کی آواز کے کچھ نقوش محفوظ کرلیے، مگر لاہور ریڈیو کا ذخیرۂ صوت اُن کی جادوئی ہیک سے محروم رہ گیا۔ اس کی وجہ شاید اُن کا پاکپتن کے کسی گاؤں کو اپنا ٹھکانہ بنانا تھا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لاہور میں زمیندار کے ہاتھوں اپنی قید کے دنوں کی تلخ یادوں کے سبب وہ لاہور آنے سے کتراتی رہی ہوں۔

نواب عنایت کوٹیا کا تعارف 

اِن کا اصل نام نواب علی تھا۔ سالِ پیدائش اور والد کا نام صحت کے ساتھ معلوم نہیں۔ اِن کے بارے میں صرف اِس قدر معلومات دستیاب ہیں کہ یہ متحدہ پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ کی تحصیل وزیرآباد کے گاؤں ’کوٹ عنایت خاں‘ کے ایک کُمہار، یعنی مٹّی کے برتن بنانے والے، گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اپنے گاؤں کی نسبت سے ’نواب عنایت کوٹیا‘ اور خاندانی پیشے کی نسبت سے ’نواب کُمہار‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔

اگرچہ نواب عنایت کوٹیا کی پیدائش کے ساتھ ساتھ وفات کی صحیح تاریخیں بھی دستیاب نہیں، تاہم اس گلوکار کی فنّی سرگرمیوں اور گراموفون ریکارڈوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں، بالخصوص ۱۹۲۵ء اور اُس کے بعد، پنجاب کے معروف لوک گلوکاروں میں شمار ہونے لگے تھے۔

نواب عنایت کوٹیا کا تعلق بھی کسی موروثی گائیک گھرانے سے نہیں تھا۔ انہوں نے محض اپنے شوق کے باعث ایک قریبی گاؤں کے لوک گلوکار اللہ دتّہ وڑائچ کو اپنا اُستاد بنایا اور اُن سے قصّہ گائیکی کی تربیت حاصل کی۔ یہ تربیت کلاسیکی موسیقی کی کسی باقاعدہ درس گاہ میں نہیں، بلکہ پنجاب کی زبانی روایت کے مطابق اُستاد اور شاگرد کے باہمی تعلق کے ذریعے ہوئی۔ نواب نے اپنے اُستاد سے لوک داستان کو سُر، لَے، مکالمے اور طویل ہیک کے ساتھ پیش کرنے کا فن سیکھا اور پھر اُسی روایت میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔

نواب عنایت کوٹیا کی گائیکی کا بنیادی وصف ان کی بلند، توانا اور دُور رَس آواز تھی۔ آپ قصّے کے کسی اہم مقام پر سُر کو دیر تک کھینچتے اور ایسی طویل ہیک لگاتے کہ کھلے میدان میں بیٹھے دُور کے سامعین تک آواز پہنچ جاتی۔ لاؤڈ اسپیکر عام ہونے سے پہلے میلوں، ٹھیلوں اور اکھاڑوں میں گلوکار کی کام یابی کا انحصار بڑی حد تک اُس کے گلے کی طاقت، سانس کی طوالت اور مجمعے کو اپنی گرفت میں رکھنے کی صلاحیت پر ہوتا تھا۔ نواب عنایت کوٹیا اِن تینوں اوصاف کے حامل تھے۔

نواب عنایت کوٹیا محض گلوکار نہیں، بلکہ قصّہ گو، نغمہ نگار اور اپنے کلام کے طرز ساز بھی تھے۔ وہ پنجاب کی طویل لوک داستانوں کو چھوٹے چھوٹے گیتوں، مکالموں اور گائے جانے کے قابل واقعات میں تقسیم کرکے پیش کرتے تھے۔ اِس طرز میں وہ کبھی راوی بن جاتے، کبھی داستان کے کسی کردار کی آواز اختیار کرلیتے اور کبھی سوال و جواب کی صورت میں پورا منظر سامعین کے سامنے زندہ کردیتے تھے۔

نواب عنایت کوٹیا کی گائیکی میں عموماً بھاری سازوں کی کثرت نہیں ہوتی تھی۔ ان کی اصل قوّت ان کا گلا، لفظ کی واضح ادائیگی، داستانی مکالمہ اور طویل ہیک تھی۔ دستیاب تذکروں کے مطابق “جَنّا” نامی فن کار ان کے ساتھ ’جوڑی‘ یا اَلغوزہ بجاتا تھا۔ یوں مختصر سازینہ اور طاقت وَر انسانی آواز مل کر اُن کی قصّہ گائیکی کی مخصوص فضا قائم کرتے تھے۔

نواب عنایت کوٹیا کے گائے ہوئے قصّوں اور داستانی موضوعات میں ’ہیر رانجھا‘، ’سَسّی پُنّوں‘، ’مِرزا صاحباں‘، ’سوہنی مہینوال‘، ’پورن بھگت‘، ’دُلّا بھٹّی‘، ’ڈھول شہزادہ سمّی‘، ’شاہ بہرام اور حسن بانو‘ اور ’جنگِ جَیمل فتح‘ خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی محفوظ ریکارڈنگز میں ’ہیر تے قاضی دے سوال جواب‘، ’ہیر دے سوال جواب‘ اور ’سوہنی دا حُسن‘ جیسے عنوانات بھی ملتے ہیں۔ اِن عنوانات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی داستان کو محض بیان نہیں کرتے تھے، بلکہ اُس کے واقعات اور کرداروں کو مکالمے، سُر اور جذباتی ادائیگی کے ذریعے ایک جیتی جاگتی ڈرامائی صورت عطا کردیتے تھے۔

نواب عنایت کوٹیا کی سب سے نمایاں فنّی شناخت ’جُگنی‘ بنی۔ جُگنی پنجابی لوک گائیکی کی وہ صنف یا بیانیہ ترکیب ہے جس میں گلوکار ایک فرضی کردار ’جُگنی‘ کو مختلف شہروں، دیہاتوں، میلوں اور معاشرتی حالات کا مشاہدہ کراتا ہے۔

مثال کے طور پر، اپنے بولوں ’جُگنی ٹُر چلی لاہور‘ یا ’جُگنی جا پہنچی لُدھیانے‘ وغیرہ کے ساتھ، جُگنی جہاں جاتی ہے وہاں کے لوگوں، رسم و رواج، حالات اور معاشرتی تضادات پر کوئی نہ کوئی تبصرہ کرتی ہے۔ اِس صنف میں گلوکار کو حالاتِ حاضرہ، ظرافت، سماجی مشاہدے اور برجستہ شعر گوئی کی خاصی گنجائش ملتی ہے۔

جُگنی کی ابتدا کے بارے میں مختلف روایتیں موجود ہیں، اِس لیے نواب عنایت کوٹیا کو قطعی طور پر جُگنی کا موجد یا پہلا گلوکار کہنا تاریخی احتیاط کے منافی ہوگا۔ البتہ اُنہیں جُگنی کے قدیم ترین معروف اور ریکارڈ شدہ گلوکاروں میں ضرور شمار کیا جاسکتا ہے۔ اُن کی گائی ہوئی جُگنی نے اِس صنف کو میلوں اور اکھاڑوں سے نکال کر گراموفون کی تھالی تک پہنچایا اور بعد کی نسلوں کے لیے ایک قابلِ تقلید طرز قائم کردیا۔

ایک معروف زبانی روایت کے مطابق مشہور لوک گیت ’دَم گُٹکوں، دَم گُٹکوں۔۔۔۔دَم گُٹکوں گُٹکوں کرے سائیں۔۔۔ایہہ تے کلمہ نبیؐ دا پڑھے سائیں‘ بھی سب سے پہلے نواب عنایت کوٹیا نے گایا تھا۔ بعد میں عالم لوہار اور پھر عارف لوہار کی آوازوں نے اِس بند کو غیرمعمولی شہرت بخشی۔

بعض تذکروں میں نام وَر پنجابی لوک گلوکار عالم لوہار کو نواب عنایت کوٹیا کا شاگرد یا اُن کے طرز سے گہرا اثر قبول کرنے والا فن کار بتایا گیا ہے۔ اِس اُستاد شاگرد کے تعلق کی مکمل دستاویزی تفصیل دستیاب نہیں، لیکن دونوں کی جُگنی، قصّہ گائیکی، بلند آواز، طویل ہیک اور عوامی اسلوب میں نمایاں مماثلت ضرور پائی جاتی ہے۔

عالم لوہار نے بعد میں ریڈیو، ٹیلی وژن اور گراموفون کے ذریعے جُگنی کو عالم گیر شہرت دی، مگر اِس طرز کی ابتدائی ریکارڈ شدہ صورت نواب عنایت کوٹیا کے ہاں پہلے سے موجود تھی۔

نواب عنایت کوٹیا کے بیٹے “سرجا” اور “مرزا” بھی گاتے تھے، جبکہ اُن کا بیٹا “بوٹا” ساز پر اُن کا ساتھ دیتا تھا۔ یوں اگرچہ نواب خود کسی موروثی گائیک گھرانے سے نہیں آئے تھے، اُن کے بعد اُن کے خاندان میں قصّہ گائیکی اور ساز نوازی کی روایت کسی حد تک جاری رہی۔ بعد کی نسل میں رفیق کُمہار، لطیف کُمہار اور حنیف کُمہار ٹیڈی نے بھی لوک داستانوں اور ماہیوں کی اِسی روایت کو آگے بڑھایا۔ اِس طرح نواب عنایت کوٹیا کا فن محض اُن کے گراموفون ریکارڈوں تک محدود نہ رہا، بلکہ خاندان، شاگردوں اور بعد کے لوک گلوکاروں کے ذریعے بھی منتقل ہوتا رہا۔

نواب عنایت کوٹیا کی آواز کو اُن کے عہد کی گراموفون کمپنیوں نے ریکارڈ کیا۔ اُن کے متعدد ریکارڈ آج ڈیجیٹل صورت میں “ایپل میوزک” اور “ایمازان میوزک” پر بھی دستیاب ہیں۔ یہ ریکارڈ اِس اَمر کی گواہی ہیں کہ وہ اپنے زمانے کے مقبول عوامی فن کار تھے اور اُن کی آواز تجارتی طور پر ریکارڈ کیے جانے کے قابل سمجھی جاتی تھی۔

کچھ دستیاب تذکروں میں نواب عنایت کوٹیا کے بارے میں بعض متضاد باتیں بھی ملتی ہیں؛ مثلاً یہ کہ وہ ۱۹۳۳ء میں ریڈیو پاکستان لاہور سے مشہور ہوئے، حالانکہ اُس وقت نہ ریڈیو پاکستان وجود میں آیا تھا اور نہ لاہور ریڈیو اسٹیشن نے اپنی باقاعدہ نشریات شروع کی تھیں۔

اب تک دستیاب شواہد یہی بتاتے ہیں کہ نواب عنایت کوٹیا کی شہرت کا اصل میدان ریڈیو اسٹوڈیو نہیں، بلکہ پنجاب کے میلے، ٹھیلے، اکھاڑے اور گراموفون ریکارڈ تھے۔ اُن کی آواز اپنے زمانے میں عوام تک ضرور پہنچی، مگر لاہور ریڈیو کے محفوظ صوتی سرمائے میں اُن کی کوئی یقینی ریکارڈنگ سامنے نہیں آسکی۔ وہ حقیقت میں ریڈیو پاکستان لاہور پر ریکارڈ یا نشر کیوں نہ ہوسکے، یہ معاملہ ابھی صیغۂ راز میں ہے۔ ممکن ہے اُن کی سادہ طبیعت، ناخواندگی یا دیہی ماحول سے وابستگی اُنہیں اِس قومی ادارے سے رابطے سے دُور رکھے رہی ہو۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ ریڈیو کو اُن کی ضرورت تھی، اُنہیں ریڈیو کی نہیں۔

فن اپنی قدر خود منواتا ہے۔ آج بھی بٹوارے کے بعد قائم ہونے والے دونوں پنجابوں میں فنِ موسیقی کے قدر دان عُمدہ بی بی اور نواب عنایت کوٹیا کو نہایت اعلیٰ القاب سے یاد کرتے ہیں۔ عام لوگ آج بھی اُن کی آواز، گائیکی اور غیرمعمولی ہیک سے وابستہ وہ لوک روایتیں، بلکہ بعض دیومالائی قصّے تک، اپنی چوپالوں اور بیٹھکوں میں اپنی نئی نسل کو سُنواتے ہیں، جو اُنہوں نے اپنے دادا پردادا سے سُنے تھے۔

لاہور ریڈیو اسٹیشن کا افتتاح ۱۹۳۷ء میں آل اِنڈیا ریڈیو کے ایک اسٹیشن کی حیثیت سے ہوا۔ ۱۹۴۷ء میں جب یہ آزاد مملکتِ پاکستان کا ریڈیو اسٹیشن بنا تو عُمدہ بی بی اور نواب عنایت کوٹیا، دونوں حیات تھے اور کسی نہ کسی صورت میں اپنے فن کی آبیاری بھی کررہے تھے۔ تاہم نامعلوم وجوہات کی بنا پر ریڈیو پاکستان لاہور اُن دونوں کی آوازوں کو اپنے ذخیرۂ صوت میں محفوظ نہ کرسکا۔ اگر اُن کی آوازیں آج ریڈیو پاکستان کے صوتی بینک ’آواز خزانہ‘ میں موجود ہوتیں تو نہ صرف اُن دونوں کے فن کو بقا ملتی، بلکہ خود اِس قومی صوتی خزانے کی قدر، توقیر اور تاریخی اہمیت میں بھی کہیں زیادہ اضافہ ہوجاتا۔

عُمدہ بی بی اور نواب علی کے زمانے کے بے قدر لوگ اُنہیں اُن کے محنت کش خاندانی پس منظر کی نسبت سے ’ماچھن‘ اور ’کُمہار‘ جیسے نام دے کر اُن کی عظیم فنّی شناخت کو پیشہ ورانہ نسبتوں کے باعث کم تر کرنے کی کوشش کرتے رہے؛ مگر ریڈیو پاکستان جیسے فن شناس اور قدر دان قومی ادارے کے لیے عُمدہ بی بی آج بھی اسمِ بامسمّٰیٰ، ایک ’عمدہ گلوکارہ‘، اور نواب عنایت کوٹیا اپنے فن کے حقیقی ’نوابِ فن‘ ہیں۔

اگرچہ ریڈیو پاکستان کو اِن دونوں عظیم عوامی گلوکاروں کی آوازیں اپنے ذخیرۂ صوت میں محفوظ کرنے کا اعزاز حاصل نہ ہوسکا، لیکن اِس کے باوجود یہ ادارہ اُن کے فن کا معترف ہے۔ اِس اعتراف کا ایک ثبوت یہ تفصیلی مضمون ہے، جسے دنیا بھر میں ہمارے قارئین پڑھ رہے ہیں۔ اِس مضمون کا ایک نسخہ گُرمُکھی رسم الخط میں بھی جلد ہی ریڈیو پاکستان کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ پر شائع کیا جائے گا۔

اُن دونوں کی آوازیں محفوظ نہ رہ سکیں، لیکن پنجاب کے عوامی حافظے میں اُن کی یاد اور اُن کے فن کی گونج آج بھی زندہ ہے—اور ریڈیو پاکستان کے ادارہ جاتی حافظے میں بھی۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان