Saturday, 22 August 2026, 07:54:39 am
 
ایمپریس برج: ستلج پر قائم وہ پل جس نے بہاولپور کو ریلوے کے ذریعے دنیا سے جوڑ دیا
August 11, 2026

۷جون ۱۸۷۸ء کی رات، پورے سوا آٹھ بجے، بائیس ڈبّوں پر مشتمل ایک خصوصی ریل گاڑی لاہور سے آدم واہن (لودھراں) کے لیے روانہ ہوئی۔ اِس میں سوار مہمانوں کی غالب اکثریت یورپی باشندوں پر مشتمل تھی۔

نمایاں مسافروں میں سر اینڈریو کلارک، وائسرائے کی مجلسِ عاملہ کے رُکن اور حکومتِ ہند میں تعمیراتِ عامّہ کے سربراہ؛ اُن کے پرائیویٹ سیکریٹری کیپٹن بریکنبری؛ مغربی نظامِ ریاستی ریلوے کے ڈائریکٹر کرنل ایف۔ ڈبلیو۔ پِیل؛ حکومتِ ہند کے مشاورتی انجینئر مسٹر مولزورتھ؛ لیفٹیننٹ کرنل میڈلی؛ میجر ٹریل؛ میجر فینوک؛ بشپ آف لاہور اور ریورنڈ ڈبلیو۔ ایچ۔ ٹرائب شامل تھے۔

سِنڈ (سندھ)، پنجاب اینڈ دہلی ریلوے کمپنی کے متعدّد افسر بھی اِسی ریل میں سفر کررہے تھے۔

بھاپ کے انجن سے کھنچتی ہوئی یہ خصوصی ریل رات بھر سفر کرنے کے بعد ۸ جون کی صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے ملتان پہنچی، جہاں پلیٹ فارم ہی پر مہمانوں کے لیے ناشتے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تقریباً ایک گھنٹے کے توقّف کے دوران مزید آٹھ ڈبّے ریل کے ساتھ لگائے گئے۔ ملتان کے کمشنر کرنل گراہم، لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کے نمائندے کی حیثیت سے، اِس ریل میں سوار ہوئے۔ ملتان سے متعدّد دیگر انگریز افسر اور خواتین و حضرات بھی نئے لگائے گئے ڈبّوں میں سوار ہوکر قافلے میں شامل ہوگئے۔

اِن تمام مہمانوں نے دریائے ستلج پر تعمیر ہونے والے اُس نئے ریلوے پُل کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنی تھی، جس نے آدم واہن (لودھراں) کو بہاولپور سے ملا دیا تھا۔ تعمیر کے دوران یہ پُل “ستلج برج” کے نام سے مشہور رہا، لیکن چند گھنٹوں بعد اِسے ملکہ وکٹوریہ کے نئے شاہی لقب “قیصرۂ ہند” کی مناسبت سے “دی ایمپریس برج” کا نام دیا جانا تھا۔

ریاستِ بہاولپور کے سولہ سالہ حکمران نواب صادق محمد خان چہارم خصوصی ریل کی آمد سے پہلے آدم واہن پہنچ چکے تھے۔ ریل پلیٹ فارم پر رُکی تو کمشنر ملتان کرنل گراہم نے سرکاری آداب کے مطابق نواب کا تعارف سر اینڈریو کلارک سے کرایا۔ اِس کے بعد میزبان اور مہمان آدم واہن ریلوے اسٹیشن سے “دی ستلج برج” پر پہنچے، جہاں افتتاحی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔

کرنل پِیل نے سر اینڈریو کلارک کے سامنے پُل کی تعمیر کی مختصر تاریخ پیش کی۔ اِس کے بعد بشپ آف لاہور اور ریورنڈ ڈبلیو۔ ایچ۔ ٹرائب نے دعائیہ کلمات پڑھے۔ سر اینڈریو کلارک نے وائسرائے اور ملکہ وکٹوریہ کی جانب سے پُل کی تکمیل پر انجینئروں اور کارکنوں کو مبارک باد دی۔ پھر اُنہوں نے اعلان کیا کہ ملکہ وکٹوریہ نے اپنے شاہی لقب کی مناسبت سے اِس پُل کو “دی ایمپریس برج” کہنے کی اجازت مرحمت کردی ہے۔

اعلان ہوتے ہی پُل کے داخلی راستے پر آویزاں سفید پردہ اُلٹ دیا گیا۔ چند لمحے پہلے اِس پر سُرخ حروف میں “دی ستلج برج” لکھا تھا؛ اب اُس کی دوسری جانب “دی ایمپریس برج” نمایاں ہوگیا۔ ملکہ کے حق میں نعرے لگائے گئے، فوجی بینڈ نے برطانوی قومی ترانہ بجایا اور پھولوں اور جھنڈیوں سے سجا ہوا انجن خصوصی ریل کو لے کر پہلی مرتبہ باقاعدہ طور پر پُل سے گزرا۔

پُل کے آہنی ڈھانچے کے مختلف حصّوں پر جمع ہزاروں مقامی مزدوروں نے نعروں اور خوشی کی آوازوں کے ساتھ پہلی ریل کا خیرمقدم کیا۔ اِنہی مزدوروں نے ساڑھے تین برس تک ستلج کی تہ میں کنویں اُتارے، پتھر ڈھوئے، حفاظتی بند اُٹھائے اور برطانیہ سے آنے والے دیوقامت آہنی شہتیروں کو اپنی جگہ نصب کیا تھا۔ اب وہ اُسی پُل پر کھڑے اُس ریل کو گزرتے دیکھ رہے تھے، جس کے لیے اُنہوں نے دریا کے بدلتے مزاج، وبائی بخار اور تباہ کُن سیلابوں کا سامنا کیا تھا۔ ملیریا کے باعث ایک مرحلے پر تعمیراتی کام عملاً روکنا پڑا تھا، جبکہ معاصر رُوداد کے مطابق اِس منصوبے سے وابستہ بعض افراد اپنی جانوں سے بھی گئے۔

افتتاح کے بعد آدم واہن کے ریلوے کارخانے کو ضیافت گاہ میں تبدیل کردیا گیا، جہاں تقریباً ڈھائی سو مہمانوں کے بیٹھنے کا انتظام تھا۔ انڈس ویلی اسٹیٹ ریلوے کے انجینئر اِن چیف مڈلٹن رَین نے ضیافت کی صدارت کی۔ اُن کے دائیں جانب سر اینڈریو کلارک اور بائیں جانب کمشنر ملتان کرنل گراہم بیٹھے تھے، جبکہ مرکزی میز پر نوابِ بہاولپور، مسٹر مولزورتھ، کرنل پِیل، کرنل میڈلی اور میجر گرے سمیت متعدّد اعلیٰ افسر موجود تھے۔

مڈلٹن رَین نے نوابِ بہاولپور کے اعزاز میں اظہارِ خیرسگالی کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ نواب صادق محمد خان چہارم اور ریاست سے متعلّق برطانوی سیاسی افسروں—پہلے کرنل منچن اور بعد میں میجر گرے—نے پُل کی تعمیر میں گہری دلچسپی لی، ریلوے حکام سے تعاون کیا اور تعمیراتی افسروں کی مہمان نوازی کی۔

کم سِن نواب نے خود خطاب نہیں کیا؛ اُن کی جانب سے میجر گرے نے جواب دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ نواب اپنے خاندان کی تاجِ برطانیہ سے وفاداری کی روایت قائم رکھیں گے، ملکہ وکٹوریہ کو اپنی قیصرہ تسلیم کرتے ہیں اور برطانوی رعایا اور ریاستِ بہاولپور کے باشندوں کی فلاح کے منصوبوں میں تعاون کرتے رہیں گے۔

اعلیٰ مہمانوں کی ضیافت کے علاوہ ماتحت ریلوے کارکنوں کے لیے الگ کھانے کا انتظام کیا گیا، مقامی باشندوں کے لیے دو بڑی دعوتیں منعقد ہوئیں اور پُل کی تعمیر پر مامور مزدوروں میں تین سو مَن شیرینی بانٹی گئی۔

(بحوالہ: “انڈس ویلی ریلوے ایڈمنسٹریشن رپورٹ، ۱۸۷۸ء–۷۹ء”، ضمیمہ-اے، ص: i–viii)

ایک دن میں، ایک ہی مقام پر، شاید ہی برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں اتنی بڑی مقدار میں مٹھائی بانٹی گئی ہو۔ یہ مٹھائی تعمیر میں شریک مزدوروں کو انعام دینے کے ساتھ ایمپریس برج کے افتتاح کو ایک ایسا شاہانہ جشن بنانے کا ذریعہ بھی تھی، جس کی مٹھاس اور ہیبت مدّتوں مقامی حافظے میں محفوظ رہ سکتی تھی۔

اِتنی بڑی تعداد میں یورپیوں اور تاجِ برطانیہ کے افسروں کا “آدم واہن” کے ایک ویران و سُنسان ریلوے اسٹیشن پر پہنچنا “کچھ دو اور کچھ لو” کے اُس اُصول کا عملی مظاہرہ تھا، جسے اب تاجِ برطانیہ اپنی حکمتِ عملی کا حصّہ بنا رہا تھا۔

ہُوا کچھ یوں تھا کہ ۱۸۵۸ء میں (یعنی ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں ہندوستانیوں کی ناکامی کے بعد) ہندوستان کے انتظامی معاملات ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھوں سے نکل کر براہِ راست تاجِ برطانیہ کے ہاتھ میں آگئے تھے۔ کمپنی کے زیرِ اقتدار علاقے اب براہِ راست تاجِ برطانیہ کے ماتحت “برٹش انڈیا” یا “برطانوی ہند” کہلانے لگے تھے، جبکہ بہاولپور جیسی سیکڑوں دیگر شاہی ریاستیں اپنی الگ ریاستی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے تاجِ برطانیہ کی بالادستی تسلیم کرتی تھیں۔

ہندوستان میں اقتدار کی ایسٹ انڈیا کمپنی سے تاجِ برطانیہ کو منتقلی کی اِس اہم تبدیلی نے یہاں کے انتظامی اور سیاسی اُمور، بالخصوص تجارتی معاشیات کو بڑی حد تک متأثر کیا۔ تاہم اِس خطۂ ارضی پر رُونما ہونے والی نمایاں تبدیلیوں میں سے ایک یہ تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی “یک طرفہ مفاد پرستی” والی روش ترک کرکے تاجِ برطانیہ نے “دو طرفہ مفاد” کو پیشِ نظر رکھنا شروع کردیا تھا۔

تاجِ برطانیہ کی جانب سے “دو طرفہ مفاد” کا رُجحان اپنانے کا مقصد ہندوستانیوں کے دلوں میں انگریزوں کے خلاف نفرت کو کم کرنا، شاہی ریاستوں کے مقامی حکمرانوں کا خوش دِلی سے تعاون حاصل کرنا، سلطنت کے سیاسی اثرورُسوخ کو وسعت دینا اور سب سے بڑھ کر اپنے تجارتی راستوں کو مکمل طور پر محفوظ بنانا تھا۔

چنانچہ آدم واہن کو بہاولپور سے ملانے والے “دی ایمپریس برج” کی تعمیر اور پھر ریاستِ بہاولپور میں اِسی پُل سے لیکر “ولہار”(صادق آباد) تک ۲۴۸ میل، یعنی تقریباً ۳۹۹ کلومیٹر طویل ریلوے پٹڑی بچھانے کے پسِ پُشت بھی یہی متذکّرۂ بالا “کچھ دو اور کچھ لو” کا سنہری اُصول کارفرما تھا۔

*تاجِ برطانیہ کا مفاد کیا تھا؟*

“کچھ لو اور کچھ دو” کے معاملے میں تاجِ برطانیہ کے مفاد کا ذِکر “دی ایمپریس برج” کے افتتاح کے موقع پر انگریز مقرّرین نے اپنی تقریروں میں بھی کیا۔ اُن تقریروں سے واضح تھا کہ اِس پُل اور انڈس ویلی ریلوے سے تاجِ برطانیہ کے نہایت اہم تجارتی اور فوجی، یعنی تزویراتی، مفادات وابستہ تھے۔

تفصیل اِس کی کچھ یوں ہے کہ اُنیسویں صدی کا ہندوستان دُنیا کی سب سے بڑی تجارتی منڈیوں میں سے ایک تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے زمانے میں اِس تجارت کا یورپی مرکز بنیادی طور پر لندن تھا۔ مانچسٹر اور لنکاشائر کے سُوتی کپڑے، لیڈز اور بریڈفورڈ کی اُونی مصنوعات، برمنگھم کا لوہے اور پیتل کا سامان، شیفیلڈ کا فولاد اور کٹلری، اسٹافورڈشائر کے برتن، گلاسگو اور پیزلی کے کپڑے اور یورپ کی منڈیوں سے آنے والی شراب، شیشہ، اَدویات، کاغذ، گھڑیاں اور دوسری مصنوعات پہلے لندن کے گوداموں اور ایسٹ انڈیا ڈاکس میں پہنچتی تھیں۔ وہاں سے اُنہیں بڑے بحری جہازوں میں لاد کر افریقہ کے جنوبی سِرے کا چکّر کاٹتے ہوئے ہندوستان بھیجا جاتا تھا۔

اِبتدا میں سُورت اور اُس کی ساحلی لنگرگاہ سُوالی، ہندوستان کے ساتھ ہونے والی تجارت کے بڑے دروازے تھے؛ بعد میں بمبئی، مدراس اور کلکتہ اِس کے بنیادی بندرگاہی مراکز بن گئے۔ ۱۸۴۳ء میں سِندھ پر انگریزوں کے قبضے کے بعد کراچی بھی اِس تجارتی نظام میں شامل ہوگیا اور رفتہ رفتہ پنجاب، بہاولپور، سِندھ اور شمال مغربی ہندوستان کے لیے قریب ترین سمندری دروازے کی حیثیت اختیار کرنے لگا۔

انگریز ہندوستان میں صرف اپنا مال فروخت نہیں کررہے تھے، بلکہ یہاں سے نِیل، کپاس، ریشم، چاول، گندم، چائے، شکر، اَفیون، گرم مصالحے، کالی مرچ، شورہ، لاکھ، چمڑا اور دوسری زرعی و دست کاری کی مصنوعات نسبتاً کم قیمت پر خرید کر برطانیہ، یورپ، افریقہ، چین اور دُنیا کی دوسری منڈیوں میں فروخت بھی کرتے تھے۔

تجارت خوب ہورہی تھی، لیکن اُس کی رفتار انگریزوں کے تجارتی مفادات کے مطابق نہیں تھی۔

بحری جہاز بمبئی، مدراس، کلکتہ اور بعد میں کراچی پہنچ جاتے، مگر وہاں سے سامان اندرونِ ہندوستان بھیجنے کے لیے دریاؤں میں اِسٹیمر چلانے، اور جہاں دریائی راستہ میسّر نہ ہوتا، وہاں بیل گاڑیوں، اُونٹ گاڑیوں اور دُشوار گزار کچّے راستوں پر اِنحصار کرنا پڑتا تھا۔ جو فاصلہ ریل ایک دن میں طے کرسکتی تھی، وہی فاصلہ بیل گاڑی کو طے کرنے میں کئی ہفتے لگ جاتے تھے؛ اِس دوران کرایہ بڑھتا، سامان خراب ہوتا، موسمی رُکاوٹیں پیدا ہوتیں اور منڈی تک مال پہنچنے میں غیرمعمولی تاخیر ہوجاتی تھی۔

اِسی تجارتی رُکاوٹ کو دُور کرنے کے لیے انگریزوں نے ہندوستان میں مختلف ریلوے کمپنیوں—جن میں “ایسٹ انڈین ریلوے کمپنی”، “گریٹ انڈین پیننسولا ریلوے کمپنی”، “مدراس ریلوے کمپنی”، “بمبئی، بڑودہ اینڈ سینٹرل انڈیا ریلوے کمپنی”، “ایسٹرن بنگال ریلوے کمپنی”، “اَودھ اینڈ روہیل کھنڈ ریلوے کمپنی”، “گریٹ سدرن آف انڈیا ریلوے کمپنی”، “کارنیٹک ریلوے کمپنی”، “سِنڈ ریلوے کمپنی”، “پنجاب ریلوے کمپنی” اور “دہلی ریلوے کمپنی” نمایاں تھیں—کے ذریعے بندرگاہوں کو اندرونِ ملک کی منڈیوں سے ملانا شروع کیا۔

بعد ازاں ۱۸۶۹ء–۷۰ء سے حکومتِ ہند نے نجی ضمانتی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ سرکاری سرمائے سے ریلوے پٹڑیاں تعمیر کرنے کی پالیسی بھی اختیار کرلی۔ اِس کے تحت حکومت کی براہِ راست نگرانی میں تعمیر اور چلائی جانے والی مختلف لائنیں مجموعی طور پر “اسٹیٹ ریلویز” کہلاتی تھیں؛ “انڈین اسٹیٹ ریلوے” کسی ایک ہمہ گیر ریلوے کمپنی کا باقاعدہ نام نہیں تھا۔

کراچی سے چلنے والی ریلوے کو پہلے کوٹری تک پہنچایا گیا، جبکہ لاہور اور ملتان کی سِمت سے آنے والا ریلوے نظام آدم واہن میں دریائے ستلج کے کنارے آکر رُک گیا۔

اِن دونوں ریلوے پٹڑیوں کے درمیان ریاستِ بہاولپور اور اُس سے آگے ریاستِ خیرپور واقع تھیں، جبکہ ستلج اور سِندھ جیسے بڑے دریا بھی اِس پٹڑی کی راہ میں حائل تھے۔

انگریزوں کو کراچی سے لاہور، دہلی اور شمالی ہندوستان تک ایسا براہِ راست ریلوے راستہ درکار تھا، جس کے ذریعے یورپ سے آنے والا مال چند دنوں میں اندرونی منڈیوں تک پہنچایا جاسکے اور ہندوستان سے حاصل ہونے والی کپاس، گندم، چاول، کھار اور دوسری اَجناس بھی اِسی رفتار سے کراچی کی بندرگاہ تک پہنچا کر بحری جہازوں میں لادی جاسکیں۔

چنانچہ “دی ایمپریس برج” محض ستلج عبور کرنے کا ذریعہ نہیں تھا؛ یہ کراچی کی بندرگاہ کو پنجاب اور شمالی ہندوستان کے وسیع تجارتی نظام سے ملانے والی اُس مسلسل آہنی زنجیر کی ایک نہایت اہم کڑی تھا، جس کے بغیر انگریزوں کا تجارتی منصوبہ آدم واہن کے کنارے آکر اَدھورا رہ جاتا۔

*ریاستِ بہاولپور کا مفاد کیا تھا ؟*

ریاستِ بہاولپور کا مفاد بھی کسی طور سے معمولی نہ تھا۔ ریاست کا بیشتر علاقہ صحرائے چولستان—جسے عام زبان میں “روہی” کہا جاتا تھا—پر مشتمل تھا۔ زمین کی فراوانی کے باوجود ریاست کے اندر آب پاشی، پختہ شاہراہوں اور تیز رفتار نقل و حمل کا نظام محدود تھا۔

ریاست کی آمدنی کے بنیادی ذرائع مالیۂ اراضی، نہری آب پاشی، چراگاہوں اور جنگلات کے محصولات، مال مویشی، کسٹم اور راہداری، عدالتی فیس، اِسٹامپ، مختلف ٹھیکے اور قدرتی پیداوار تھے۔

بیسویں صدی کے آغاز میں ریاست کی مجموعی سالانہ آمدنی تقریباً ۲۲ لاکھ روپے کے لگ بھگ تھی؛ لیکن اِس مجموعی آمدنی میں صحرائے چولستان سے حاصل ہونے والا “بریلہ” ایک منفرد ذریعہ تھا، کیونکہ اُس کی پیداوار کے لیے ریاست کو نہ نہری پانی مہیا کرنا پڑتا تھا، نہ زمین تیار کرنی پڑتی تھی اور نہ باقاعدہ کاشت پر سرمایہ لگانا پڑتا تھا۔

چولستان کے وسیع و عریض ویرانے میں کھار کا پودا قدرتی طور پر اُگتا تھا۔ اُسے کاٹ کر خشک کیا جاتا، پھر جلا کر اُس کی راکھ اور ڈیلوں سے ایک قسم کا خام اَلکلی مادّہ حاصل کیا جاتا تھا، جسے تجارتی زبان میں “بریلہ” کہا جاتا تھا۔ مصنوعی سوڈا ایش اور جدید ڈٹرجنٹ پاؤڈر کی عام دستیابی سے پہلے یہی اَلکلی کپڑا دھونے، صابن سازی، شیشہ سازی اور بعض دوسرے صنعتی کاموں میں استعمال ہوتی تھی؛ اِس لیے ہندوستان کی دُور دراز منڈیوں میں اُس کی مستقل طلب موجود تھی۔

ریاستی ضابطے کے تحت جمع ہونے والے بریلے کا ایک تہائی حصّہ ریاستِ بہاولپور وصول کرتی تھی، جبکہ باقی دو تہائی حصّہ اُسے جمع اور تیار کرنے والوں یا متعلقہ ٹھیکے داروں کے پاس رہتا تھا۔

ریلوے کے وسیع تر تجارتی نظام سے منسلک ہونے کے بعد بریلے سے ریاست کی سالانہ آمدنی تقریباً ۳۸ ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ آج کے قاری کو ۳۸ ہزار روپے معمولی رقم محسوس ہوسکتی ہے، لیکن اُس زمانے میں سونے کی قیمت تقریباً ۱۲ روپے فی تولہ تھی۔ اِس لحاظ سے ۳۸ ہزار روپے سے تقریباً ۳,۱۶۷ تولے سونا خریدا جاسکتا تھا۔ اگر خالص سونے کی قیمت ۴ لاکھ ۲۸ ہزار ۵۰۰ روپے فی تولہ فرض کی جائے تو اِس آمدنی کی سونے کے اعتبار سے موجودہ تقابلی مالیت تقریباً ایک ارب ۳۵ کروڑ ۷۰ لاکھ روپے بنتی ہے۔

۱۹۰۱ء کی مردم شماری کے مطابق پوری ریاستِ بہاولپور کی کُل آبادی ۷ لاکھ ۲۰ ہزار ۸۷۷ افراد تھی۔ اِس تناظر میں بریلے سے سالانہ ۳۸ ہزار روپے کا ریاستی خزانے میں شامل ہونا معمولی اَمر نہیں تھا۔ آج کی مذکورہ سونے کی قیمت کے اعتبار سے اِس رقم کی تقابلی مالیت پوری ریاست کی اُس وقت کی آبادی پر تقسیم کی جائے تو تقریباً ۱,۸۸۲ موجودہ روپے فی فرد بنتی ہے۔ اپنی نہایت کم پیداواری لاگت کے سبب بریلہ ریاست کے لیے ایک غیرمعمولی طور پر نفع بخش قدرتی وسیلہ تھا۔

ریاست کا اصل مسئلہ بریلے کی پیداوار نہیں، بلکہ اُسے چولستان سے نکال کر بڑی منڈیوں تک پہنچانا تھا۔ پختہ شاہراہوں اور ریل کی عدم موجودگی میں اُونٹ اور بیل گاڑیاں محدود مقدار ہی میں یہ مال بہاولپور یا زیادہ سے زیادہ ملتان کی منڈی تک پہنچا سکتی تھیں۔

ریل کی پٹڑی بچھنے اور لیاقت پور، فیروزہ، خانپور اور چولستان کے کنارے قائم دوسرے ریلوے اسٹیشنوں کے ذریعے پہلی مرتبہ بریلہ بڑی مقدار میں مال گاڑیوں پر لادا جانے لگا۔ ایک سِمت یہ لاہور، دہلی اور شمالی ہندوستان کی منڈیوں تک پہنچ سکتا تھا اور دوسری سِمت سِندھ سے گزر کر کراچی کی بندرگاہ تک۔

دریائے سِندھ پر ریلوے رابطہ مکمل ہونے کے بعد بریلے سے حاصل ہونے والی ریاستی آمدنی تقریباً ۱۱ ہزار روپے سے بڑھ کر ۳۸ ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ یوں اصل آمدنی کے مقابلے میں تقریباً ۲۴۵ فی صد—یعنی قریب قریب ڈھائی سو فی صد—اضافہ ہوا۔ یہ غیرمعمولی اضافہ اِس اَمر کا عملی ثبوت تھا کہ “ایمپریس برج” اور ریاست کے اندر بچھنے والی ریلوے پٹڑی محض سفری سہولت نہیں، بلکہ چولستان کی قدرتی دولت کو نقد آمدنی میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی تھی۔

*“کچھ لو اور کچھ دو” کا پہلا مظاہرہ *

تاجِ برطانیہ اور ریاستِ بہاولپور کے مابین “ کچھ لو اور کچھ دو” کا پہلا مُظاہرہ “دی ایمپریس برج” کی تعمیر کے چار سالوں میں دیکھنے میں آیا ۔

تاجِ برطانیہ نے پُل کا نقشہ، انجینئرنگ کا علم، بھاپ سے چلنے والی مشینیں، ریلوے انجن، پٹڑی، آہنی شہتیر، پیچ، کیلیں، رِوِٹ اور دوسرے صنعتی آلات مہیا کیے؛ جبکہ ریاستِ بہاولپور نے اپنی زمین، مقامی رَسَد، انتظامی تعاون اور اپنی حدود اور ملحقہ علاقوں سے افرادی قوت حاصل کرنے کی سہولت اِس منصوبے کے لیے فراہم کی۔

انگریز انجینئر الیگزینڈر میڈوز رینڈل نے پُل کا بنیادی نقشہ تیار کیا، ولیم سینٹ جان گیلوی نے اُس کی بنیادوں اور تعمیر کی نگرانی کی، ہیو لیون منک اُن کے معاون انجینئر رہے، جبکہ تعمیر کے آخری مرحلے میں مسٹر جیمز رچرڈ بیل نے کام کی نگرانی کی۔ یوں صنعتی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ انجینئرنگ برطانیہ کی تھی، مگر اُسے ستلج کی تہ میں اُتارنے، پتھر اور لکڑی ڈھونے، اینٹیں پکانے، بند اُٹھانے، کنویں کھودنے اور آہنی شہتیروں کو جوڑنے والے ہاتھ بڑی حد تک بہاولپور اور آس پاس کے مقامی باشندوں کے تھے۔

پُل کی مجموعی لمبائی ۴,۲۲۴ فٹ تھی۔ ہر پائے اور دونوں کناروں کے پشتوں کے نیچے ایک قطار میں اینٹوں کے تین دیوقامت کنویں اُتارے گئے۔ ہر کنویں کا قطر ۱۸ فٹ ۹ انچ تھا اور اُنہیں خشک موسم میں پانی کی سطح سے تقریباً ۱۰۰ فٹ نیچے تک ستلج کی تہ میں پہنچایا گیا۔ کنویں اُتارنے کے لیے ہندوستان میں صدیوں سے رائج مقامی تکنیک سے کام لیا گیا، البتہ بھاپ سے چلنے والے آلات کے ساتھ فرانسیسی انجینئر مسٹر گیٹمیل کی ایجاد کردہ ایک مخصوص مشین بھی استعمال کی گئی، جو تہ میں آنے والی سخت اور گانٹھ دار مٹی کو نکالنے میں مدد دیتی تھی۔ اِس پورے عمل میں مقامی مزدوروں، غوطہ خوروں، اینٹ چننے والوں اور کنویں کھودنے کے روایتی ماہرین نے بنیادی کردار ادا کیا۔

اِس بے پناہ تعمیراتی سامان کو آدم واہن تک پہنچانا بذاتِ خود ایک الگ ریلوے منصوبہ تھا۔ ۱۸۷۴ء میں پُل کے لیے عارضی میٹر گیج ٹرام وے بنائی گئی، جسے ۱۸۷۵ء میں بڑھا کر تقریباً ۶۳ میل، یعنی ۱۰۰ کلومیٹر طویل کردیا گیا۔ ابتدا میں اُس پر تین چھوٹے بھاپ کے ٹینک انجن اور صرف دس مال بردار ڈبے چلتے تھے؛ بعد میں انجنوں کی تعداد پانچ اور فوری طور پر استعمال ہونے والے ڈبوں کی تعداد ستّر تک پہنچ گئی، جبکہ مزید ۱۵۰ ڈبے آدم واہن کے مقامی کارخانے میں تیار کیے گئے۔

سرکاری تعمیراتی روداد کے مطابق ۱۸۷۶ء تک اِس ٹرام وے نے پُل کے لیے ۵۰ ہزار ٹن پتھر، ۴,۶۰۰ ٹن آہنی پٹڑی اور اُس سے متعلق ریلوے سامان، ۶ ہزار ٹن لکڑی کے سلیپر، ۲۰ ہزار ٹن بجری اور ۱۵ ہزار ٹن متفرق تعمیراتی سامان منتقل کیا۔ صرف اِن درج شدہ اشیا کا مجموعی وزن ۹۵ ہزار ۶۰۰ ٹن بنتا ہے۔

دریا کے اندر زیرِ تعمیر پایوں تک سامان پہنچانے کے لیے ایک عارضی لکڑی کا پُل بھی بنایا جاتا تھا، جسے ہر سیلابی موسم سے پہلے اُتارنا اور پانی اُترنے پر دوبارہ کھڑا کرنا پڑتا تھا۔ اُسے نصب کرنے میں تقریباً تیس دن لگتے تھے۔

۱۲فروری ۱۸۷۷ء کو بے موسم آنے والا ایک اچانک سیلاب اِس عارضی پُل کو بہا لے گیا؛ مگر مزدوروں اور انجینئروں نے اُسے صرف دس دن میں دوبارہ قابلِ استعمال بنادیا۔ سرکاری روداد کے مطابق تعمیر کے ایک ہی موسم میں اِس عارضی پُل کے ذریعے دو لاکھ ٹن سے زیادہ پتھر زیرِ تعمیر حصوں تک پہنچایا گیا۔

پُل کے ۱۶ دیوقامت آہنی دھانوں کا ٹھیکہ انگلستان کی دو کمپنیوں کو دیا گیا تھا۔ شہتیر اور اُن کے ہزاروں آہنی اجزا برطانیہ کے کارخانوں میں مقررہ سانچوں کے مطابق تیار کیے گئے، اُن پر شناختی نمبر ڈالے گئے اور پھر اُنہیں بحری جہازوں میں ہندوستان روانہ کیا گیا۔ آہنی سامان کی پہلی بڑی کھیپ دسمبر ۱۸۷۶ء میں آدم واہن پہنچی۔

دریائے سِندھ میں چلنے والے سامان بردار بیڑے کو مشکلات پیش آئیں تو بعض دھانوں کے اجزا کو بمبئی اور کلکتہ کی بندرگاہوں پر اُتار کر ریل کے ذریعے آدم واہن لایا گیا۔

مارچ ۱۸۷۸ء تک ۱۳ دھانوں کا آہنی سامان پہنچا کر نصب کیا جاچکا تھا۔ ہر دھان کے سیکڑوں بھاری اجزا کو زمین پر جوڑنے، گرم رِوِٹ ٹھونکنے اور پھر اُسے پایوں پر بٹھانے کا بیشتر عملی کام مقامی مستریوں، لوہاروں، رِوِٹ لگانے والوں اور مزدوروں نے برطانوی نگرانوں کے زیرِ انتظام کیا۔

تعمیر کے مختلف مراحل میں آدم واہن کے مقام پر پانچ سے چھ ہزار تک مزدور کام کرتے رہے۔ اِن میں زمین کھودنے والے، اینٹیں بنانے اور چننے والے، پتھر توڑنے اور ڈھونے والے، اُونٹ اور بیل گاڑی بان، ملّاح، بڑھئی، لوہار، رِوِٹ لگانے والے اور کنویں اُتارنے کے ماہر شامل تھے۔ یہ افرادی قوت تاجِ برطانیہ اپنے ملک سے نہیں لایا تھا؛ مزدوروں کی غالب اکثریت ریاستِ بہاولپور اور اُس کے ملحقہ علاقوں سے بھرتی کی گئی تھی۔

اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو “دی ایمپریس برج” صرف برطانوی لوہے اور انگریز انجینئروں کی تخلیق نہیں تھا۔ برطانیہ سے آنے والے نقشے، مشینیں، پٹڑی اور آہنی شہتیر نکال دیے جائیں تو پُل تعمیر نہیں ہوسکتا تھا؛ اور اگر ریاستِ بہاولپور کی زمین، مقامی رَسَد، انتظامی تعاون اور ہزاروں محنت کش ہاتھ نکال دیے جائیں تو وہی برطانوی لوہا آدم واہن کی ریت پر بے مصرف پڑا رہتا۔

چنانچہ یہی وہ مقام تھا جہاں “کچھ لو اور کچھ دو” کا اُصول لوہے، اینٹ، پتھر اور انسانی محنت کی صورت میں مجسم ہوکر دریائے ستلج پر کھڑا ہوگیا۔

*“ریل گُزرے تو ہم ہاتھ کیوں ہلاتے ہیں ؟”*

“دی ایمپریس برج” چار برس تک زیرِ تعمیر رہا۔ مقامی روایات کے مطابق، اِس دوران یہاں کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں میں سے بہت سوں نے اپنی مزدوری کی رقم سے آدم واہن اور اِس پُل کے گردوپیش کی آبادیوں میں اقامت اختیار کی ۔

ان سادہ لوگوں نے رہنے کے لیے چھوٹے چھوٹے مکانات بنوائے، کسی قدر قابلِ کاشت زمین خریدی اور مستقل طور پر یہیں آباد ہوگئے۔مقامی لوگ کہتے ہیں کہ پُل کی تعمیر کے ان چار سالوں کے دوران اُنہیں اس ویرانے سے عشق لاحق ہوگیا تھا ۔

تقریباً ڈیڑھ صدی گزر چکی ہے۔ وہ سبھی محنت کش کب کے اس دنیا سے رُخصت ہوچکے اور آدم واہن اور اس پُل کے اطراف کے مختلف دیہات اور گوٹھوں کے قبرستانوں میں آسودۂ خاک ہیں۔ لیکن اُن کے پڑپوتوں اور بعد کی نسلوں سے تعلق رکھنے والے چھوٹے بچے آج بھی اِس پُل پر سے کوئی ریل گزرتی دیکھتے ہیں تو بے اختیار اُس کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلانے لگتے ہیں۔ اُنہیں قطعاً علم نہیں کہ یہ پُل اُن کے اَجداد کی محنت سے ایستادہ ہوا تھا۔

تاہم اُنہیں ہاتھ ہلاتا دیکھ کر ایسا گمان گزرتا ہے جیسے وہ اپنے معصوم ہاتھوں سے، اشاروں کی زبان میں، تہذیب حافی کا یہ شعر دُہرا رہے ہوں:

کوئی تمھارا سفر پر گیا تو پوچھیں گے۔۔۔

کہ ریل گزرے تو ہم ہاتھ کیوں ہلاتے ہیں

(نوٹ :- اس تحریر کیلئے حوالہ جات درج ذیل ماخذات سے لئے گئے ہیں :

۱۔ ایڈمنسٹریشن رپورٹ آن دی کنسٹرکشن آف دی انڈس ویلی ریلوے فرام اِٹس کمینسمنٹ ٹو دی کلوز آف دی فنانشل ایئر ۱۸۷۸ء–۱۸۷۹ء، تھامسن سول انجینئرنگ کالج پریس، روڑکی، ۱۸۷۹ء۔

۲۔ جیمز رچرڈ بیل، دی ایمپریس برج اوور دی ستلج، منٹس آف دی پروسیڈنگز آف دی انسٹی ٹیوشن آف سول انجینئرز، جلد ۶۵، مقالہ نمبر ۱۶۸۲، لندن، ۱۸۸۱ء۔

۳۔ دی ایمپریس برج، روزنامہ دی پائنیر، ۱۲ جون ۱۸۷۸ء؛ منقولہ ضمیمہ “الف”، ایڈمنسٹریشن رپورٹ آن دی کنسٹرکشن آف دی انڈس ویلی ریلوے۔

۴۔ ملک محمد دین، گزیٹیئر آف دی بہاولپور اسٹیٹ وِد میپ، ۱۹۰۴ء، پنجاب گورنمنٹ پریس؛ باز اشاعت: سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور۔

۵۔ سینسس آف انڈیا، ۱۹۰۱ء، والیوم سیونٹین: پنجاب، پارٹ وَن—رپورٹ، دفترِ ناظمِ مردم شماری، حکومتِ ہند، ۱۹۰۲ء۔

۶۔ دی امپیریل گزیٹیئر آف انڈیا، والیوم سِکس، آکسفرڈ، کلیرنڈن پریس، ۱۹۰۸ء۔

۷۔ ایف۔ آر۔ اَپکاٹ، ایڈمنسٹریشن رپورٹ آن دی ریلویز اِن انڈیا فار ۱۸۹۹ء–۱۹۰۰ء، حکومتِ ہند، کلکتہ، ۱۹۰۰ء۔

۸۔ ہوریس بیل، ریلوے پالیسی آف انڈیا: وِد میپ آف انڈین ریلوے سسٹم، رِونگٹن، پرسیول اینڈ کمپنی، لندن، ۱۸۹۴ء۔

۹۔ ایئن جے۔ کر، بلڈنگ دی ریلویز آف دی راج، ۱۸۵۰ء–۱۹۰۰ء، آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، دہلی، ۱۹۹۵ء۔

۱۰۔ عائشہ پامیلا راجرز اور غلام مصطفیٰ بلوچ، دی ویلیوز اینڈ سگنیفیکنس آف دی کلونیل اسٹیل ریلوے برجز آف پاکستان، بلٹ ہیریٹیج، جلد اوّل، شمارہ چہارم، ۲۰۱۷ء)