Saturday, 22 August 2026, 07:52:06 am
 
چودہ اگست ۱۹۴۷ء کو نشر ہونے والے مِلّی اور قومی نغمے
August 14, 2026

۱۴اگست ۱۹۴۷ء کو نشر ہونے والے مِلّی اور قومی نغمے

جب لاہور، پشاور اور ڈھاکہ نے نئی مملکت کا خیرمقدم سُر اور موسیقی کے ساتھ کیا

۱۹۴۷ء میں ہندوستان کے بٹوارے کے وقت آل اِنڈیا ریڈیو کے نو باقاعدہ اسٹیشن کام کررہے تھے۔ اِن میں سے لاہور، پشاور اور ڈھاکہ کے تین مراکز پاکستان کے حصّے میں آئے، جبکہ دہلی، بمبئی، کلکتہ، مدراس، لکھنؤ اور تریچناپلی کے چھ اسٹیشن بھارت کو ملے۔

پاکستان کو ورثے میں ملنے والے تینوں مراکز محدود طاقت کے میڈیم ویو اسٹیشن تھے۔ لاہور اور ڈھاکہ میں پانچ پانچ کلوواٹ، جبکہ پشاور میں دس کلوواٹ کا ٹرانسمیٹر نصب تھا۔ پاکستان کے حصّے میں کوئی ہائی پاور شارٹ ویو اسٹیشن نہیں آیا تھا؛ اِس لیے لاہور، پشاور اور ڈھاکہ کے درمیان ایسا قومی نشریاتی رابطہ بھی موجود نہیں تھا، جس پر ایک ہی پروگرام بیک وقت پورے ملک میں نشر کیا جاسکتا (بحوالہ: نہال احمد، “اے ہسٹری آف ریڈیو پاکستان”، آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، ۲۰۰۵ء، ص ۱۳–۱۴)۔

ہندوستان کی تقسیم بنیادی طور پر ایک سیاسی، دستوری اور انتظامی عمل تھا۔ تاہم جونہی ۳جون ۱۹۴۷ء کے منصوبے کے اعلان کے بعد پاکستان کا قیام نوشتۂ دیوار بنا لاہور، پشاور اور ڈھاکہ کے ریڈیو کارکنوں کے سامنے ایک غیرمعمولی سوال کھڑا ہوگیا کہ جس لمحے نئی مملکت وجود میں آئے گی، اُس لمحے اِن اسٹیشنوں سے کیا نشر ہوگا؟

آل اِنڈیا ریڈیو کی اِنتظامی تقسیم سرکاری سطح پر ہورہی تھی، مگر پاکستان کے حصّے میں آنے والے مراکز کے مسلمان براڈکاسٹر، شاعر، موسیقار، صداکار، گلوکار اور پروڈیوسر اپنے طور پر اُس تاریخی لمحے کی فنی تیاری بھی کررہے تھے۔ اُنہیں صرف قیامِ پاکستان کا اعلان نہیں کرنا تھا؛ اُنہیں نئی مملکت کا خیرمقدم تلاوتِ قرآن، مِلّی شاعری، موسیقی اور قومی نغموں سے بھی کرنا تھا۔

تینوں اسٹیشنوں کی تیاری اور پیشکش یکساں نہیں تھی۔ بعض نغمے قیامِ پاکستان سے پہلے ہی گراموفون ریکارڈوں پر محفوظ کیے جاچکے تھے۔ بعض پہلے سے معروف مِلّی کلام پر مبنی تھے، جبکہ بعض پاکستان کے قیام کے لیے ریڈیو اسٹیشن کے اندر خاص طور پر لکھے، مرتب اور تیار کیے گئے تھے۔

اُس زمانے میں مقناطیسی ٹیپ عام نہیں تھی، لیکن ریڈیو اسٹوڈیوز سے براہِ راست گائیکی اور سازوں کی پیشکش معمول کی بات تھی۔ فن کار مائیکروفون کے سامنے گاتے، آواز کنٹرول روم سے گزر کر ٹرانسمیٹر تک پہنچتی اور اُسی لمحے نشر ہوجاتی۔ کسی نغمے کو مستقل طور پر محفوظ کرنا مشکل تھا، مگر اُسے براہِ راست نشر کرنے کے لیے پہلے ریکارڈ کرنا ضروری نہیں تھا۔

گراموفون ریکارڈ نشر کرنے کا طریقہ بھی گھریلو گراموفون سے مختلف تھا۔ ریڈیو اسٹیشن میں گراموفون کے سامنے مائیکروفون نہیں رکھا جاتا تھا۔ ریکارڈ پلیئر کی سوئی اور برقی پِک اَپ سے پیدا ہونے والا صوتی سگنل براہِ راست کنٹرول کنسول میں جاتا، جہاں سے اُسے ایمپلی فائر اور پھر ٹرانسمیٹر کو بھیج دیا جاتا تھا۔ پروڈیوسر یا کنٹرول روم کا اہل کار مقررہ لمحے پر فَیڈر کھولتا اور گراموفون ریکارڈ نشریات کا حصّہ بن جاتا۔

یوں ۱۳ اور ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کی درمیانی رات لاہور، پشاور اور ڈھاکہ نے کوئی ایک مرکزی پروگرام ریلے نہیں کیا۔ ہر اسٹیشن نے اپنے فن کاروں، دستیاب ریکارڈوں، مقامی زبانوں اور فنی وسائل کے مطابق الگ پروگرام تیار کیا۔

لاہور: اقبال کے “ترانۂ مِلّی” سے آغاز

ریڈیو پاکستان کی اِدارہ جاتی تاریخ کے مطابق قیامِ پاکستان کے فوراً بعد لاہور سے نشر ہونے والے خصوصی پروگرام “طلوعِ صبحِ آزادی” میں علامہ محمد اقبال کا “ترانۂ مِلّی” شامل تھا:

“چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا

مُسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا”

اقبال یہ کلام قیامِ پاکستان سے کئی دہائیاں پہلے لکھ چکے تھے۔ نئی مملکت کے لیے اِسے تازہ طور پر تحریر نہیں کیا گیا تھا، مگر پاکستان کی پہلی رات اِس کے معنی یکسر بدل چکے تھے۔ جو ترانہ پہلے برِصغیر کے مسلمانوں کے مِلّی تشخُّص، توحید، حرم اور اسلامی تاریخ کی وسعت بیان کرتا تھا، اب ایک آزاد مسلم مملکت کی پہلی نشریاتی رات کا حصّہ بن گیا تھا۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ اِسے گراموفون ریکارڈ سے بجایا گیا یا لاہور کے فن کاروں نے اسٹوڈیو میں براہِ راست پیش کیا (بحوالہ: نہال احمد، “اے ہسٹری آف ریڈیو پاکستان”، آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، ۲۰۰۵ء، ص ۱۲–۱۳؛ علامہ محمد اقبال، “بانگِ درا”، نظم: “ترانۂ مِلّی”)۔

لاہور سے شوکت تھانوی کا تحریر کردہ مِلّی نغمہ “چاند روشن، چمکتا ستارہ رہے” بھی اِبتدائی آزادی نشریات سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اِس کی دُھن قادر فریدی سے اور اِبتدائی آواز منور سلطانہ یا دلشاد بیگم سے منسوب کی گئی ہے۔ تاہم پہلی رات کی اصل کیو شیٹ دستیاب نہ ہونے کے باعث اِسے “طلوعِ صبحِ آزادی” کا یقینی حصّہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

پشاور: احمد ندیم قاسمی کے تازہ لکھے ہوئے نغمے

پشاور اسٹیشن سے قیامِ پاکستان کے اعلانات کے بعد احمد ندیم قاسمی کے تحریر کردہ دو خصوصی قومی نغمے نشر ہوئے۔ اُن نغموں کی موسیقائی ترتیب اور پروڈکشن پشاور اسٹیشن کے ڈائریکٹر سجاد سرور نیازی نے کی تھی۔ پہلے نغمے کا اِبتدائی مصرع تھا:

“پاکستان بنانے والے، پاکستان مبارک ہو”

یہ پاکستان کے قیام کے بعد نشر ہونے والے اوّلین پاکستانی قومی نغموں میں شمار ہوتا ہے۔ اِس کی اہمیت صرف الفاظ میں نہیں، وقتِ نشر میں بھی پوشیدہ تھی۔ نئی مملکت کے وجود میں آنے کا اعلان ہوا اور چند لمحوں بعد پشاور کے مائکروفون سے اُن لوگوں کو مبارک باد دی گئی، جن کی جدوجہد سے پاکستان قائم ہوا تھا (بحوالہ: نہال احمد، “اے ہسٹری آف ریڈیو پاکستان”، ص ۱۲–۱۳)۔

دوسرے نغمے کا اِبتدائی مصرع بعض سوانحی حوالوں میں یوں محفوظ ہے:

“ہم مسلمان ہیں، ہم مسلمان ہیں”

نہال احمد اِنہی دو نغموں کا ذکر کرتے ہیں، جبکہ ریڈیو سے وابستہ ادیب خاطر غزنوی کے مطابق پاکستان کی پہلی رات پشاور سے احمد ندیم قاسمی کے تین ترانے نشر ہوئے تھے۔ تیسرے نغمے کا عنوان یا متن فی الحال سامنے نہیں آیا (بحوالہ: “احمد ندیم قاسمی—اِبتدائی سفرِ حیات”، سوانحی ویب گاہ احمد ندیم قاسمی؛ نوید صادق، “احمد ندیم قاسمی کی برسی پر خصوصی تحریر”)۔

احمد ندیم قاسمی نے اپنی یادداشت “چند یادیں” میں اُس رات کا ایک زندہ منظر بھی محفوظ کیا ہے۔ وہ اُن دنوں پشاور ریڈیو اسٹیشن میں پاکستان کے لیے نغمے لکھ رہے تھے۔ اُن کے مطابق نصف شب ہوئی تو ایک پروگرام اسسٹنٹ اسٹیشن کی چھت پر چڑھ گیا، خوشی میں ریوالور سے ہوائی فائر کیے اور اسٹیشن ڈائریکٹر نے سبز پرچم کھول دیا (بحوالہ: احمد ندیم قاسمی، “چند یادیں”؛ نقل شدہ در “اِبتدائی سفرِ حیات”، سوانحی ویب گاہ احمد ندیم قاسمی)۔

پشاور کے نغمے براہِ راست پیش کیے گئے یا پہلے کسی ریکارڈ پر محفوظ کیے گئے—دستیاب اِدارہ جاتی تاریخ اِس کی وضاحت نہیں کرتی۔ البتہ احمد ندیم قاسمی کا اسٹیشن کے اندر نغمے لکھنا اور سجاد سرور نیازی کا اُنہیں مرتب اور پروڈیوس کرنا ظاہر کرتا ہے کہ پشاور کی خصوصی نشریات مقامی سطح پر باقاعدہ تیار کی گئی تھیں۔

*ڈھاکہ: گراموفون پر محفوظ بنگالی اور اُردو نغمے*

ڈھاکہ کی کہانی لاہور اور پشاور سے مختلف ہے۔ یہاں پاکستان کے خیرمقدم میں نشر ہونے والے بعض نغمے قیامِ پاکستان سے پہلے ہی کلکتہ میں گراموفون ریکارڈوں پر محفوظ کیے جاچکے تھے۔ اِن میں نمایاں بنگالی نغمہ شاعر غلام مصطفیٰ کا تحریر کردہ تھا:

“شوکول دیشیر چَیے پیارا”

اِس کے اِبتدائی الفاظ کا مفہوم تھا: سب ملکوں سے پیارا، دُنیا میں وہ کون سا مقام ہے؟ پاکستان، وہ پاکستان ہے۔

یہ نغمہ عباس الدین احمد، غلام مصطفیٰ، بیدار الدین اور ایک خاتون فن کار کی اجتماعی آواز میں ریکارڈ کیا گیا۔ بعض بنگالی ہندو سازندوں نے اُس وقت کی فرقہ وارانہ کشیدگی کے باعث پاکستانی نغمے کی ریکارڈنگ میں شرکت سے اِنکار کردیا، لیکن گراموفون کمپنی نے دوسرے اِنتظامات کرکے ریکارڈنگ مکمل کرائی۔

بنگالی ماخذ کے مطابق یہ ریکارڈ ۱۴ اگست سے ایک دو روز پہلے ہی بازار میں آگیا تھا اور سینماؤں، ریستورانوں اور چائے خانوں میں بجنے لگا تھا۔ عباس الدین احمد سے منسوب روایت کے مطابق پاکستان کی پہلی نشریاتی رات ڈھاکہ ریڈیو سے پیش کیا جانے والا پہلا پاکستانی نغمہ بھی یہی تھا (بحوالہ: عباس الدین احمد کی خودنوشت؛ غلام مصطفیٰ کے سوانحی تذکرے میں منقول ریکارڈنگ کا احوال)۔

اِسی ریکارڈنگ سلسلے میں فیاض ہاشمی کا تحریر کردہ اُردو نغمہ بھی شامل تھا:

“زمیں فردوس، پاکستان کی ہوگی زمانے میں”

اِسے عباس الدین احمد نے گایا تھا۔ یہ نغمہ ۱۹۴۶ء میں مسلم لیگ کی سیاسی اور اِنتخابی مہم کے پس منظر میں ریکارڈ کیا گیا اور قیامِ پاکستان سے پہلے ہی مقبول ہوچکا تھا۔ عباس الدین احمد کی خودنوشت کے انگریزی ترجمے پر مبنی جدید تحقیق کے مطابق یہ نغمہ ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کی مناسبت سے ڈھاکہ ریڈیو سے بھی نشر ہوا۔ اِس تاریخی گراموفون ریکارڈ کی آواز محفوظ ہونے کا سراغ بھی ملتا ہے (بحوالہ: عباس الدین احمد کی خودنوشت؛ انگریزی ترجمہ: ناشید کمال؛ “سنگنگ پاکستان اِن کلکتہ—عباس الدین احمد”، ساؤنڈنگ بورڈ)۔

ڈھاکہ کی نشریات اِس لحاظ سے منفرد تھیں کہ وہاں نئی مملکت کا خیرمقدم بنگالی اور اُردو، دونوں زبانوں کے نغموں سے ہوا۔ مغربی اور مشرقی پاکستان ایک دوسرے سے سینکڑوں میل دُور تھے، لیکن پاکستان کا تصوُّر دونوں حصّوں میں اپنی اپنی زبان اور موسیقی کے ذریعے بیان ہورہا تھا۔

تین اسٹیشن، مختلف نغمے، ایک نئی مملکت

پاکستان کی پہلی رات کوئی ایک مرکزی اسٹیشن پورے ملک سے مخاطب نہیں تھا۔ لاہور، پشاور اور ڈھاکہ کے کم طاقت وَر ٹرانسمیٹر اپنے اپنے محدود خطّوں کے سامعین تک پہنچ رہے تھے۔ اِسی لیے ہر اسٹیشن نے نئی مملکت کا خیرمقدم اپنے مقامی فنی وسائل، فن کاروں اور زبانوں کے ذریعے کیا۔

لاہور نے اقبال کا ترانۂ مِلّی نشر کیا۔ پشاور نے احمد ندیم قاسمی کے تازہ تحریر کردہ نغموں سے پاکستان بنانے والوں کو مبارک باد دی۔ ڈھاکہ نے غلام مصطفیٰ کے بنگالی اور فیاض ہاشمی کے اُردو نغموں سے مشرقی پاکستان کے سامعین کو نئی مملکت کی آمد کا احساس دلایا۔

پاکستان کا جغرافیائی نقشہ سیاسی رہنماؤں، قانون دانوں اور منتظمین نے تشکیل دیا، مگر اُس کی پہلی رات کے جذبات کو شاعروں، موسیقاروں، گلوکاروں، پروڈیوسروں اور ریڈیو کے مائیکروفونوں نے آواز دی۔

۱۳اور ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کی درمیانی رات صرف ایک نئی ریاست کے اعلان کی رات نہیں تھی؛ یہ پاکستان کی قومی موسیقی کی بھی پہلی رات تھی۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان