Saturday, 22 August 2026, 06:32:46 am
 
“من بندہ آن روی کہ دیدن نگذارند” اُستاد نصرت فتح علی خان کی ۲۹ ویں برسی کی مناسبت سے ریڈیو پاکستان کا انہیں خراج تحسین
August 16, 2026

اُستاد نصرت فتح علی خان کی ۲۹ ویں برسی کی مناسبت سے ریڈیو پاکستان کا انہیں خراج تحسین

اَحمد عَقیل رُوبی مرحوم نے اَگست ۱۹۹۲ء میں مَنظرِ عام پر آنے والی اپنی کتاب “نُصرت فتح علیخاں” میں اِس نابغۂ موسیقی کا تعارف کروانے کے لیے ایک نہایت دِل نشیں تمثیل باندھتے ہوئے “مَنکہ مُسمّیٰ نُصرت فتح علی خاں” کے عنوان کے تحت ایک پُرتاثیر تحریر لکھی۔

اَحمد عَقیل رُوبی کی اِس اَچھوتی اور دِل کو لُبھا لینے والی تحریر جیسی شاید ہی کوئی دوسری لِکھت اِس شہنشاہِ قوّالی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اَب تک صَفَحاتِ شُہود پر ظاہر ہوئی ہو اور اِس کے مقابلے پر اُتر سکے۔ نُصرت فتح علی خاں کو اپنے اَکھروں اور شَبدوں سے خراجِ عقیدت تو بہت سوں نے پیش کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے، لیکن رُوبی مرحوم جیسا مُنفرد تمثیلی خراج عقیدت شاید ہی کسی اور کے حصّے میں آیا ہو۔

نُصرت فتح علی خاں نے اپنے ایک اِنٹرویو میں بتایا تھا کہ مَیں نے موسیقی کا باقاعدہ آغاز ۲۳ مارچ ۱۹۶۵ء کو ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا تھا۔ یہ میری زندگی کی پہلی قوّالی تھی اور یہ اَمیر خُسرو کی فارسی قوّالی تھی:

“مَن بَندۂ آن رُوی کہ دِیدن نَگُذارَند۔

آج اُنہی اُستاد نُصرت فتح علی خاں کی ۲۹ویں بَرسی ہے۔ وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا ، اور اُنہیں اپنے چاہنے والوں اور مداحوں سے بچھڑے اُنتیس سال بھی گزر گئے ۔

نُصرت فتح علی خاں نے شُہرت کی بے اِنتہا بُلندیوں پر پہنچ کر بھی ہمیشہ ریڈیو پاکستان کو یاد رکھا۔ بلاشبہ آج، اُن کی بَرسی کے دن، ریڈیو پاکستان کا بھی یہ حق بنتا ہے کہ وہ اِس نابغۂ موسیقی کے فن و شخصیت پر کوئی شاندار، جان دار اور بھرپور مضمون باندھے، لیکن اَحمد عَقیل رُوبی کی تحریر کی تاثیر، دِل نشینی اور جامعیت کے سبب ریڈیو پاکستان نے یہ مناسب سمجھا ہے کہ آج “مَنکہ مُسمّیٰ نُصرت فتح علی خاں” کی اشاعت ہی پر اِکتفا کیا جائے۔

تاہم ہم اپنے قارئین کو یہ بھی باور کراتے چلیں کہ اَحمد عَقیل رُوبی کا یہ بے مثال تمثیلی خراجِ عقیدت بھی اُستاد نُصرت فتح علی خاں کے فن و شخصیت کا کماحقہٗ اِحاطہ کرنے سے قاصر ہی ٹھہرتا ہے اور بس ایک طرح کا “خُلاصہ” ہے۔ بقول حَسیبُ الحسن:

“تِرے وُجود سے آتی ہوئی مَہک کی قَسم

یہ دیوی لفظ تِرے حُسن کا خُلاصہ ہے”

ہم سمجھتے ہیں کہ اُستاد نصرت فتح علیخان فنِ موسیقی کے “دیوتا” تھے اور احمد عقیل رُوبی کی تحریر بس اُس دیوتا کے محاسن کا “خلاصہ” ہے ۔

مَنکہ مُسمّیٰ نُصرت فتح علی خان

“مَنکہ مُسمّیٰ نُصرت فتح علی خان ولد اُستاد فتح علی خان مرحوم۔۔۔۔۔۔ ایک بندۂ حقیر، اللہ کا فقیر، نبیؐ کا قصیدہ خواں، علیؑ کے در کا غلام ہوں۔ اُن کے ناموں کا وِرد میرا ایمان اور اُن کی غلامی میری پہچان ہے۔ اُن کے نام ہونٹوں پر سجا کر ملک ملک گھومتا ہوں۔ مَستی میں گاتا ہوں اور جھومتا ہوں۔ میری خواہش ہے، جہاں تک زمین پھیلی ہے، جہاں تک ہوائی سواری جاتی ہے، مَیں اللہ کا وِرد کرتا وہاں تک پہنچ جاؤں۔ اللہ، نبیؐ اور علیؑ کے قصیدے گاؤں اور خُوشبو، وَحدت اور اَمن کا پیغام سناؤں!

مَنکہ مُسمّیٰ نُصرت فتح علی خان، اُستاد فتح علی خان کا بیٹا ہوں، جو فقیر تھا۔ ساری زندگی دِل کی بِین پر حق کا نغمہ گاتا رہا۔ ہندوستان کی سرزمین پر ہر بُزرگ کے مزار پر حاضری دی۔ اَولیائے اللہ کے در کی دھول سونا سمجھ کر جھولی میں بھری۔ اور مرتے وقت یہ سونا وہ میری جھولی میں ڈال گئے، جسے مَیں دن رات دِل میں سجاتا ہوں اور آنکھوں سے چومتا ہوں۔ نہ مجھے کوئی غم ہے، نہ گِلہ۔ سب اُس کا کرم ہے، جو چیونٹی کو پتھر میں رِزق دیتا ہے۔ اُس کی عنایت ہے، جو محبوبِ خدا ہے۔ اُس کی محبت ہے، جو شیرِ خدا ہے۔ اُن بُزرگوں کی دُعائیں ہیں، جو اللہ کے پیارے ہیں، جن کے مزاروں پر لاکھوں اِنسان حاضری دے کر تسکینِ قلب حاصل کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ سب میرے محافظ ہیں، ورنہ مَیں کیا ہوں؟ ایک ناچیز، حقیر بندہ، جس کی اہمیت دو ٹکے سے زیادہ نہیں۔

مَنکہ مُسمّیٰ نُصرت فتح علی خان، ایک گناہ گار اِنسان ہوں۔ دِل کی چادر میلی ہے۔ دِل کی میل کو اللہ کا وِرد دُور کرتا ہے۔ اِسی کو اپنا مشغلہ بنایا ہے۔ کبھی تو دِل کی میل دُور ہوگی۔ یہی وِرد میرا کام، یہی میرا آرام ہے، اور اِسی سے میرا نام ہے۔ اللہ کا فقیر ہوں۔ گلی گلی صدا دیتا پھرتا ہوں کہ اُسے دُکھ میں ہی نہ پکارو، سُکھ میں بھی وِرد کرو، دُکھ دُور ہو جائیں گے:

دُکھ میں سب سُمرن کریں، سُکھ میں کرے نہ کوئے

سُکھ میں جو سُمرن کریں، دُکھ کاہے کو ہوئے۔۔۔

دِین اَمن کا پیغام ہے۔ اندھیرے میں روشنی ہے۔ زخم کے لیے مرہم ہے۔ دُکھ کی موت ہے۔۔۔۔۔۔ مَیں بنجارہ ہوں۔ گاؤں گاؤں، شہر شہر، ملک ملک اَمن کا یہی پیغام لے کر گھومتا ہوں۔ آرزو ہے، اِسی میں عُمر گزر جائے۔ منزل پر پہنچوں تو اللہ، نبیؐ اور علیؑ کی غلامی کا زیور ماتھے پر ستارہ بن کر چمک رہا ہو۔

مَنکہ مُسمّیٰ نُصرت فتح علی خان نے موسیقی کو عبادت سمجھ کر سیکھا ہے۔ اُس کے سُروں میں اللہ، نبیؐ اور علیؑ کے ناموں کی خُوشبو نے شامل ہوکر سُروں کی عظمت اور زندگی کو اَمر بنا دیا ہے۔ یہ موسیقی رُوحانی سازینہ ہے۔ جب یہ فضا میں پھیلتا ہے تو سُننے والے عقیدت کی دہلیز پر دِل رکھ دیتے ہیں۔ یہ سب ذِکرِ الٰہی کی تاثیر ہے۔ سات سُروں کا کوئی کمال نہیں۔

مَنکہ مُسمّیٰ نُصرت فتح علی خان، ہرکارہ ہوں۔ سُروں کی چِٹّھیوں پر اللہ کا نام اور پیغام لکھ کر دِلوں کے لیٹر باکس میں ڈالتا ہوں۔ آواز کے پَروں پر اَمن کی تصویریں بنا کر فضا میں سجاتا ہوں۔ میرا مَولا مجھ پر کرم کرتا ہے۔ اَوقات سے زیادہ دیتا ہے۔ شُہرت و عِزّت سے جھولی بھر دیتا ہے۔ اور میری پلکیں شُکرانے کے آنسوؤں سے بھیگ جاتی ہیں۔

مَنکہ مُسمّیٰ نُصرت فتح علی خان کی یہی خواہش ہے کہ مَیں دِلوں کے لیٹر باکس میں چِٹّھیاں ڈالتا رہوں، آواز کے پَروں پر اَمن کی تصویریں بناتا رہوں، مَولا کرم کرتا رہے اور میری پلکیں تشکّر کے آنسوؤں سے بھیگتی رہیں۔۔۔۔۔۔!”

(اَحمد عَقیل رُوبی پاکستان کے مشہور شاعر، ناول نگار، سوانح نگار، نقّاد، مترجم، ڈراما نویس، فلمی نغمہ نگار اور اُستادِ اَدب ہو گزرے ہیں۔ اُنہوں نے ایف سی کالج لاہور کے شعبۂ اُردو کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ عالمی اَدب، بالخصوص یونانی اَدب و اَساطیر، کے ساتھ ساتھ اُنہیں موسیقی کے اَسرار و رُموز سے بھی غیرمعمولی واقفیت تھی۔ اُن کی تقریباً تیس تصانیف میں “نُصرت فتح علیخاں”، “یونان کا اَدبی ورثہ”، “عِلم و دانش کے معمار”، “قتیل کہانی” اور ناصر کاظمی کے بارے میں لکھی گئی “مجھے تو حیران کر گیا وہ” نمایاں ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے اُن کی اَدبی خدمات کے اعتراف میں اُنہیں تمغۂ اِمتیاز سے بھی نوازا۔۲۰۱۴ ء میں انتقال ہوا۔ لاہور میں مدفون ہیں۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان