نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو منصفانہ طور پر مختص پانی سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش علاقائی امن اور سلامتی کے لیے گہرے اثرات مرتب کرے گی۔
وہ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے زیر اہتمام ''سندھ طاس معاہدہ: جنوبی ایشیا کی سلامتی دوراہے پر'' کے موضوع پر ایک سیمینار سے ورچوئل خطاب کر رہے تھے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تصفیہ طلب معاملات کے پُرامن حل کے لیے پُرعزم ہے کیونکہ پائیدار امن صرف خودمختار برابری، باہمی احترام اور بین الاقوامی ذمہ داریوں پر مکمل عمل درآمد کی بنیاد پر قائم ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کی اہمیت کو جس سنجیدگی سے لیتا ہے، اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے گا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اپریل دو ہزار پچیس میں سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا فیصلہ بے بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے میں کسی بھی فریق کو یکطرفہ طور پر اسے معطل کرنے کی اجازت دینے والی کوئی شق موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف نہایت واضح رہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مؤثر اور مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس پاکستان کے پچیس کروڑ سے زائد عوام کے لیے زندگی کی ضمانت ہے۔ ہماری زراعت، غذائی تحفظ، توانائی کی پیداوار، روزگار اور معاشی ترقی سندھ طاس کے نظام پر منحصر ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے لیے آبی تحفظ اور معاشی، غذائی و قومی سلامتی لازم و ملزوم ہیں۔