مودی کی انتہاپسندانہ اور نفرت پر مبنی پالیسیوں نے پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مودی سرکار کی ناکام پالیسیوں کے باعث منی پور، ناگا لینڈ کے بعد اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش میں بھی حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔
بھارت کے اخبار "دی ہندو" نے مودی سرکار کی نااہلی اور بھارت کے ابتر اندرونی حالات کو اجاگر کیا ہے۔ اتراکھنڈ کی سرحد پر صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، جہاں نہنگ سکھوں نے سرحدی رکاوٹیں توڑ کر اپنے مقدس مقام ہیم کنڈ صاحب کی جانب مارچ شروع کر دیا۔
دی ہندو کے مطابق سکھ مظاہرین نے کرن پریاگ واقعے میں گرفتار 4 نہنگ سکھوں کی رہائی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کی سرحد پر اس وقت حالات مزید کشیدہ ہو گئے، جب نہنگ سکھوں اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔
دی ہندو کے مطابق سکھ مظاہرین نے دونوں ریاستوں کے سنگم پر واقع کلہال چیک پوسٹ پر رکاوٹیں توڑ کر اپنا مارچ آگے بڑھایا۔
ماہرین کے مطابق سکھوں کے خلاف مذہبی پابندیاں اور مودی سرکار کا رویہ بھارتی سکھوں میں احساسِ محرومی اور نفرت کو مزید ہوا دے رہا ہے۔
بھارت میں روز بروز بڑھتے فسادات اور تحریکیں ظاہر کرتی ہیں کہ مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔
جین زی تحریک سے لے کر سکھوں کے حالیہ احتجاج تک، یہ ابھرتی ہوئی نئی لہریں بھارت کے لیے بڑے بحران کا پیش خیمہ ہیں۔