Sunday, 26 July 2026, 02:56:37 am
 
حریت کانفرنس کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی کریک ڈاؤن کی مذمت
July 25, 2026

بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے جاری بھارتی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تین ہزار سے زائد کشمیریوں کی گرفتاری اور مکانات کی مسماری کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین شکل قرار دیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سری نگر میں ایک بیان میں کہا کہ نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں ایک پولیس کانسٹیبل کے قتل کے بعد پوری وادیٔ کشمیر میں وسیع پیمانے پر شروع کیا گیا کریک ڈاؤن انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

حریت کانفرنس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کی استعماری پالیسیوں اور توسیع پسندانہ عزائم کا نوٹس لے اور مقبوضہ علاقے میں اپنے ظالمانہ اقدامات بند کرنے اور تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کی راہ ہموار کرنے کے لیے اس پر دباؤ ڈالے۔

ادھر بھارتی فورسز نے جموں کے سامبا اور کٹھوعہ اضلاع میں تلاشی کی کارروائیاں شروع کیں۔

ایک اور پیش رفت میں، بھارتی پولیس نے سری نگر میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی عدالت میں سولہ سال پرانے من گھڑت مقدمے میں فردِ جرم عائد کی۔

یہ مقدمہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے غیر قانونی طور پر زیرِ حراست سابق صدر میاں عبدالقیوم، سابق نائب صدر ایڈووکیٹ اعجاز بیدار، ایڈووکیٹ جی این شاہین اور مرحوم ایڈووکیٹ بلال احمد بٹ کے خلاف تھا۔ ان پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ اور انڈین پینل کوڈ کے سخت ترین قوانین کے تحت الزامات عائد کیے گئے۔

عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور بارہمولہ سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن انجینئر رشید نے لوک سبھا میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور مکانات کی مسماری کے خلاف شدید احتجاج کیا اور جاری جبر و استبداد کے خلاف نعرے لگائے۔