صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قدرتی آفات کے خطرات میں کمی اور معاشرے کے کمزور طبقات کے تحفظ کی قومی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔
آج (بدھ) منائے جانے والے قومی یوم استقامت کے موقع پر اپنے الگ الگ بیانات میں انہوں نے8 اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزلے سے ہمت اور اتحاد کے ساتھ دوبارہ کھڑا ہونے پر پوری قوم کو خراج تحسین پیش کیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران، پاکستان کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ فریم ورک نے جدید ترین نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے ساتھ اہم پیش رفت کی ہے اور ابتدائی وارننگ اور خطرے کی جلد تشخیص کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی حکومتوں، مسلح افواج، ریسکیو سروسز، انسانی ہمدردی کے شراکت داروں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے ذریعے ہم تمام قومی وسائل کو بروئے کار لائے۔
انہوں نے شہری مراکز سے لے کر دیہی علاقوں تک تمام شہریوں پر زور دیا کہ وہ آفات کے اثرات سے نمٹنے کے اقدامات میں حصہ لیں۔
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے یوم استقامت کے موقع پراپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ 8 اکتوبر ہمیں 2005 کے زلزلے اور دیگر آفات کی یاد دلاتا ہے ۔
اس دن کا مقصد آفات سے نمٹنے کی قومی صلاحیت اور عزم کو اجاگر کرنا ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے تمام رضا کاروں اور اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قوم نے ہر آفت میں یکجہتی اور مدد کے جذبے سے ثابت کیا کہ ہم مضبوط قوم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کا پیشگی آگاہی نظام عالمی معیار کے مطابق ہے،اب آفات سے متعلق معلومات بروقت عوام اور متعلقہ اداروں تک پہنچ رہی ہیں۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ پاکستان آفات سے نمٹنے کے لیے ایک نیشنل ریسورس نیٹ ورک قائم کر رہا ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے آفات سے متعلق تجربات کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیا۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے افواجِ پاکستان، فلاحی اداروں اور رضا کاروں کا شکریہ ادا کیا۔
تقریب میں وزراء، ماہرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔