چھ ستمبر 1965 کی شام پاک فضائیہ بھارتی پٹھانکوٹ ائربیس پر قہر بن کر ٹوٹ پڑی۔
پاک فضائیہ کے اسکواڈرن نمبر 19 نے صرف 23 منٹ میں بھارتی فضائیہ کے اسکواڈرن نمبر 23 کو خاکستر کر ڈالا۔
پاک فضائیہ کے سابق ونگ کمانڈر غلام تواب کے مطابق پشاور ائیر بیس سے 257 کلومیٹر دور پٹھانکوٹ ایئربیس پر حملہ بہت بڑا چیلنج تھا، شام ساڑھے پانچ بجے حملہ شروع ہوا، چھ بجے پٹھانکوٹ ایئربیس راکھ کا ڈھیر تھی۔
فضائی معرکے میں پاک فضائیہ نے رن وے پر کھڑے کھڑے سات مگ ۔ 21 سمیت 13 بھارتی جنگی جہاز تباہ کر ڈالے۔ پاک فضائیہ نے بغیر کسی نقصان کے پٹھانکوٹ ائیر بیس کو پوری جنگ کیلئے ناکارہ بنا دیا اور برق رفتار حملے کی وجہ سے کوئی بھارتی جنگی جہاز اڑان ہی نہ بھر پایا۔
سابق بھارتی ائیر مارشل راگھوندرن کا کہنا تھا کہ بھارتی پائلٹ جہاز اڑانے کی بجائے پاک فضائیہ کے حملے سے چھپتے رہے ۔ حملہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ ہمیں خندقوں میں چھپ کر جان بچانی پڑی اور پاک فضائیہ کے طیارے شدید اینٹی ایئر کرافٹ فائر کے باوجود بلا خوف و خطر ہمارے پرخچے اڑاتے رہے۔