وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ملک کو برآمدات اور پیداوار کے ذریعے پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
انہوں نے آج (ہفتہ) اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجموعی برآمدات میں گاڑیوں کے شعبے کی کارکردگی پر اطمینان ظاہر کیا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف پر انحصار ختم کرنے کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات کر رہی ہے۔
ٹیکسیشن کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ مجموعی ملکی پیداوار کی شرح پر ٹیکس رواں مالی سال کے آخر تک دس اعشاریہ چھ فیصد تک پہنچ جائے گا جو ایک سال میں ایک اعشاریہ آٹھ فیصد اضافہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجموعی ملکی پیداوار پر ٹیکس کی شرح کو ساڑھے تیرہ فیصد تک لے جایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی طرف سے ریونیو وصولی میں بھی اس سال ساڑھے بتیس فیصد تک اضافہ ہوگا۔
وزیر خزانہ کہا کہ نئے ٹیکس دہندگان سے بھی ایک سوپانچ ارب روپے وصول کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ نجکاری کا عمل تیز کیا جائے گا۔
بیرونی محاذ کے حوالے سے وزیر خزانہ نے یقین ظاہر کیا کہ ترسیلات زر رواں مالی سال ریکارڈ چھتیس ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔
نئی امریکی تجارتی پالیسی کے جواب میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان طویل مدتی تزویراتی شراکت داری سے اپنی وابستگی کے اظہار کے لئے اعلیٰ سطح کا ایک وفد واشنگٹن بھیجے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت تعمیری انداز میں ایک پیکیج پر کام کررہی ہے اور حتمی شکل دینے کے بعدامریکی انتظامیہ سے اس پر بات چیت کی جائے گی۔
انہوں نے کہا پاکستان دونوں ملکوں کے لئے طویل مدتی سازگار صورتحال کا خواہشمند ہے۔