Friday, 15 November 2019, 08:16:28 am
وزیراعظم کاکرتارپورراہداری کاافتتاح
November 09, 2019

وزیراعظم عمران خان نےکرتارپورراہداری کاافتتاح کردیا۔انہوں نے ایک سال پہلے پاکستان اوربھارت کے درمیان اس راہداری کی تعمیرکامنصوبہ پیش کیاتھا جس کامقصد بھارت سے پاکستان کے ضلع نارووال میں کرتارپورکے مقام پرگوردوارہ ڈیرہ صاحب آنیوالے سکھ یاتریوں کو سہولت فراہم کرناہے۔راہداری باباگرونانک دیوجی کے پانچ سوپچاسویں جنم دن کی تقریبات کے موقع پرکھولی جارہی ہے جو منگل سے شروع ہورہی ہیں۔اس راہداری کو زیروپوائنٹ کانام دیاگیاہے اوریہ دونوں ملکوں کے درمیان بہنے والے دریائے راوی پرایک کلومیٹرطویل پل پرمشتمل ہے۔کرتارپورراہداری کاافتتاح پاکستان کے قومی شاعر اورمشہورفلسفی علامہ ڈاکٹرمحمداقبال کے یوم پیدائش کے موقع پرکیاجارہاہے جنہوں نے اپنے مجموعہ کلام بانگ درا میں تحریرکردہ نظم''نانک'' میں سکھوں کے روحانی پیشوا کواُن کے وحدانیت کے عقائد پرنہایت عزت واحترام کے ساتھ پیش کیاہے۔یہ شاندارمنصوبہ خطے میں قیام امن اوربین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لئے عمران خان کی ہدایات پرشروع کیاگیا اوراس کے لئے فنڈز مکمل طورپر پاکستان نے فراہم کئے ہیں اوریہ سکھ برادری کے لئے تحفہ ہے۔وزیراعظم عمران خان نے راہداری کے افتتاح اورگروجی کے جنم دن کے موقع پرپاکستان آنیوالے سکھ یاتریوں کو ہرممکن سہولت کی فراہمی کے لئے پاسپورٹ اورفیس کی شرائط ختم کردی ہیں۔آج راہداری کے افتتاح کے موقع پرتقریباً سات عشروں بعددس ہزارسکھ یاتریوں کا پہلا گروپ گوردوارہ ڈیرہ صاحب میں اپنی مذہبی رسومات ادا کرے گا جس کے بعد یومیہ پانچ ہزارسکھ یاتریوں کی آمدمتوقع ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ کرتارپورراہداری کاافتتاح علاقائی امن کے قیام کے حوالے سے پاکستان کے پختہ عزم کامنہ بولتاثبوت ہے۔انہوں نے کرتارپورراہداری کھولنے کے موقع پراپنے پیغام میں کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ خطے کی خوشحالی اورآنے والی نسلوں کاروشن مستقبل امن میں مضمرہے۔سرحد کے آرپاراوردنیابھرمیں مقیم سکھ برادری کواس تاریخی دن پرمبارکباددیتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ باباگورونانک دیوجی کے پانچ سوپچاسویں جنم دن کے موقع پر سکھ برادری کیلئے راہداری کے افتتاح کی اہمیت مسلمان اپنے مذہبی مقامات کے تقدس کے حوالے سے بخوبی سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کرتارپورراہداری کاافتتاح اس حقیقت کامظہرہے کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے لئے ہمارے دل ہمیشہ کھلے ہیں جس کاحکم ہمیں ہمارے عظیم مذہب نے دیا ہے اور جس کاتصوربابائے قوم نے پیش کیاتھا۔وزیراعظم نے کہاکہ آج ہم محض سرحدہی نہیں بلکہ سکھ برادری کے لئے اپنے دلوں کو بھی کھول رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان کے اس شاندارجذبہ خیرسگالی سے باباگورونانک دیوجی اور سکھ برادری کے مذہبی جذبات کے لئے اس کے احترام کی عکاسی ہوتی ہے۔عمران خان نے کہاکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی اورپُرامن بقائے باہمی سے برصغیرکے لوگوں کے وسیع ترمفادات کے لئے کام کرنے کاموقع فراہم ہوگا۔

ادھر آج صبح سکھ یاتریوں کاپہلاگروپ کرتارپورراہداری کے زیروپوائنٹ پہنچا جہاں امیگریشن کاعمل خوش اسلوبی سے مکمل کیاگیا۔کرتارپورسے ریڈیوپاکستان کے نمائندے بلال احمدمحسودنے اطلاع دی ہے کہ سکھ یاتریوں کو گوردوارہ ڈیرہ صاحب لے جایاگیا۔سکھ یاتریوں نے اقلیتوں کے مذہبی مقامات کے تحفظ اورانہیں مساوی آئینی حقوق کی فراہمی پر حکومت پاکستان کے اقدامات کوسراہا۔کینیڈا سے تعلق رکھنے والے سکھ رہنماسردارچرن سنگھ نے ایک بیان میں کہاکہ وزیراعظم عمران خان کوسکھ یاتریوں کے لئے ان کے اقدامات پرنوبل انعام دیناچاہیے۔سکھ یاتری سردارگورمیت سنگھ نے کہاکہ بھارت میں رہنے والی اقلیتیں ایسی آزادی کاتصور بھی نہیں کرسکتیں جو پاکستان میں غیرمسلموں کوحاصل ہے۔(این این آر،نصیرقریشی ، وہاج بشیر)