بھارت میں امتحانی بدانتظامی اور پیپر لیکس کے خلاف نوجوانوں کی احتجاجی تحریک مودی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پیپر لیکس اور امتحانی بدانتظامی کے واقعات بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کی کمزور انتظامی گرفت کو نمایاں کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طویل عرصہ اقتدار میں رہنے کے باوجود مودی حکومت عوامی مسائل کے مثر حل میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔
بھارتی صحافی نیہا پونیا کے مطابق مودی حکومت کے دور میں 152 امتحانی پرچے لیک ہوئے، جن سے تقریبا ساڑھے سات کروڑطلبہ متاثر ہوئے۔
عالمی جریدے الجزیرہ کے مطابق بی جے پی کا گزشتہ بارہ برس سے سوشل میڈیا پر قائم بیانیہ اب نوجوانوں کی حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روایتی میڈیا میں مناسب توجہ نہ ملنے پر نوجوانوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اپنی آواز بلند کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
بھارتی جریدے دی وائرکے بانی سدھارتھ وردراجن کے مطابق بھارتی میڈیا کا ایک بڑا حصہ حکومتی موقف کو نمایاں کرتا ہے، جبکہ نوجوانوں کے مسائل کو خاطر خواہ کوریج نہیں دی جا رہی۔
دریں اثنا، کانگریس رہنما راہول گاندھی نے احتجاجی مظاہروں کے دوران پیلٹ گنز کے استعمال پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسے ہتھکنڈوں سے انکار کرتی رہی، تاہم متاثرہ طلبہ نے زمینی حقائق سامنے لا دیے۔