Sunday, 26 July 2026, 02:59:41 am
 
افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیاں جاری، طالبان رجیم کی ناکامی پر امریکی محکمہ خارجہ کا دوٹوک موقف
July 25, 2026

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ افغان طالبان دوحہ معاہدے کے تحت دہشت گردی کے خلاف کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں اور افغانستان انتہا پسند دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔

وائس آف امریکہ کو موصول ہونے والی ایک سرکاری ای میل کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ افغان طالبان انسدادِ دہشت گردی کے اپنے وعدوں پر عمل درآمد میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث دہشت گرد تنظیمیں افغانستان کو محفوظ پناہ گاہ اور خطے میں حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔

محکمہ خارجہ کے مطابق طالبان کی ناکامی نے تشدد کو مزید ہوا دی ہے، جس سے خطے کے امن و استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

یہ ردِعمل روس اور اقوام متحدہ کی جانب سے افغانستان میں داعش اور القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کی بڑھتی سرگرمیوں پر اظہارِ تشویش کے بعد سامنے آیا ہے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے حال ہی میں خبردار کیا کہ داعش خراسان افغانستان کو اپنا مرکز بنا کر وسطی ایشیا تک اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

دریں اثنا، روسی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر پیوٹر ایلیچیف نے انسدادِ دہشت گردی کے 19ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کے تقریبا 23 ہزار جنگجو سرگرم ہیں۔

ادھر، اقوام متحدہ بھی متعدد رپورٹس میں افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان(فتنہ الخوارج)، کی موجودگی کی نشاندہی کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 4 فروری 2026 کی رپورٹ کے مطابق افغان سرزمین پر تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد بدستور سرگرم ہیں اور انہیں سازگار ماحول میسر ہے۔