وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کرنسی کے غیر قانونی کاروبار کے خلاف پاکستان کی کارروائی کی تعریف کی ہے جس سے کرنسی کے مصنوعی عدم استحکام کو ختم کرنے میں مدد ملی۔
انہوں نے نیویارک میں پی ٹی وی نیوز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ نگران حکومت کے اصلاحات ایجنڈے میں ٹیکس کے دائرے کو بڑھانا اور نجکاری اور بجلی کے شعبے میں نقصانات کو کم کرنا شامل ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف معاشرے کے غیر مراعات یافتہ طبقات کو اعانت فراہم کرنے کے حوالے سے یکساں موقف رکھتے ہیں۔
پاکستان کو امداد کے وعدوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ملک میں سیلاب کے بعد تقریبا دس ارب ڈالر کے وعدے کئے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان وعدوں کو ٹھوس وسائل میں بدلنے کو یقینی بنایا جائیگا اور ان فنڈز کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کیلئے استعمال کیا جائیگا۔
انوار الحق کاکڑ نے کہاکہ پاکستان کے امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں سے متنوع تعلقات کے ساتھ چین سے بھی گہرے تعلقات ہیں۔
بھارت اور کینیڈا کے درمیان کشیدگی سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد معروضی موقف کے حوالے سے بھارت کا تشخص ختم ہو کر رہ گیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی میں ملو ث ہے۔
تحریک طالبان پاکستان اور داعش کی سرگرمیاں دوبارہ ابھرنے سے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کامیابی سے دہشت گردوں کا ڈھانچہ ختم کر دیاہے اور اس امر پر اطمینان ظاہرکیا۔
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ نگران حکومت کی توجہ الیکشن کمیشن کو مدد فراہم کرنے پر مرکوزہوگی تاکہ آزادانہ،منصفانہ اور شفاف انتخابات کرائے جائیں اور اس مقصد کے لئے بھرپور اقدامات کیے جاسکیں۔
وزیراعظم نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔