پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن ، جو ریڈیو پاکستان کے نام سے معروف ہے، پنشنرز کی ڈیجیٹل تصدیق کے لیے نادرا کی ایپ سے منسلک ہونے والی پہلی سرکاری کارپوریشن اور پہلا سرکاری ملکیتی ادارہ (ایس او ای) بن گیا ہے۔ اس سہولت کے ذریعے ریڈیو پاکستان کے موجودہ 3,681 پنشنرز اب گھر بیٹھے اپنی بائیومیٹرک تصدیق کر سکتے ہیں۔
اس سے قبل، 2025ء میں ریڈیو پاکستان اپنے پنشن مینجمنٹ سسٹم کو ڈیجیٹل بنانے والی پہلی سرکاری کارپوریشن بنا تھا۔ اس ڈیجیٹائزیشن نے نہ صرف کارپوریشن کے مینوئل سسٹم کے اندر چُھپے گھوسٹ پنشنرز کو باہر نکالنے میں معاونت کی بلکہ یہ پنشن ڈیٹا کو محض ایک کلک کی دُوری تک محدود کرنے میں بھی مددگار بنا ہے ۔
پنشن نظام کی یہ ڈیجیٹلائزیشن وزیر اطلاعات و نشریات جناب عطاء اللہ تارڑ کی سرپرستی اور نگرانی میں کی گئی۔ پی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل سعید احمد شیخ نے ادارے کی اپنی آئی ٹی ٹیم کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ مکمل کیا۔ اس اقدام میں پی بی سی کی اپنی تکنیکی مہارت استعمال کرتے ہوئے پنشن کے انتظامی امور کو جدید بنایا گیا اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے طریقہ کار آسان کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے 20 اگست 2026ء کو اسلام آباد میں نادرا کے قومی ’’پروف آف لائف‘‘ یعنی تصدیقِ حیات کے نظام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بائیومیٹرک اور چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق کی سہولت کو ’’انسانیت کی خدمت‘‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس ڈیجیٹل نظام اور ایپ سے ملک بھر کے لاکھوں پنشنرز مستفید ہوں گے۔
پی بی سی نے چند ماہ قبل ہی اپنے نظام کو نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے نظام سے منسلک کر لیا تھا۔ اس پیشگی رابطہ کاری کے باعث ایپ کے فعال ہوتے ہی ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو تصدیق کی نئی سہولت تک رسائی حاصل ہو گئی۔
ایپ فعال ہونے کے بعد ریڈیو پاکستان کے پنشنرز گھر بیٹھے تصدیق کی سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں، جس سے انہیں اس مقصد کے لیے معمول کے مطابق بینکوں یا سرکاری دفاتر جانے کی ضرورت نہیں رہی۔
توقع ہے کہ اس سہولت سے خصوصاً معمر پنشنرز اور تصدیقی کارروائی مکمل کرنے کے لیے سفر میں دشواری کا سامنا کرنے والے افراد کو سہولت ملے گی۔ اس نظام کا مقصد پنشن ریکارڈ درست رکھنا، پنشن کے جعلی یا دہرے دعووں کی روک تھام اور تصدیق میں تاخیر کے باعث ادائیگیوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو کم کرنا بھی ہے۔