وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان قیام امن کیلئے پاکستان کی کوششوں سے عالمی سطح پر ملک کے وقار اور مثبت تشخص میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے آج (منگل) قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی اربوں روپے خرچ کر کے بھی حاصل نہیں کی جا سکتی تھی۔
وزیراعظم نے یقین ظاہر کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت آئندہ ساٹھ روز میں ایک دیرپا معاہدے کی شکل اختیار کر لے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں سہولت کاری کے لیے ایک اہم اور تاریخی کردار ادا کیا۔
انہوں نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے کے لیے مخلصانہ اور انتھک کوششیں کیں۔
انہوں نے کہا دن رات جاری رہنے والے تفصیلی مذاکرات کے بعد مشترکہ بیان کو حتمی شکل دی گئی۔
وزیراعظم نے قائد حزب اختلاف کے نکات کا جواب دیتے ہوئے ایک بار پھر تمام صوبوں کی ترقی کے حوالے سے اپنے موقف کا اعادہ کیا۔
اس سے پہلے قائد حزب اختلاف کے بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے سپیکر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان، اس کی مسلح افواج اور عدلیہ کے خلاف تقاریر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ حکومت عوام کو مزید ریلیف فراہم کرنے کیلئے آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری رکھے گی۔
انہوں نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن اراکین کی جانب سے اٹھائے گئے نکات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ کامیاب مذاکرات کر کے معاہدوں پر نظر ثانی کی جس سے مستقبل کی ادائیگیوں میں مجموعی طور پر تقریباً 35 کھرب روپے کی بچت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کیے گئے تاہم کوئی نمایاں پیشرفت نہیں ہوئی تھی۔