Wednesday, 16 October 2019, 06:50:25 am
مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی مقبوضہ کشمیر بارے بھارتی فیصلے کی شدید مذمت
August 08, 2019

مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز رہنمائوں نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل کرنے کے فیصلے کی شدیدمذمت کی ہے۔

ریڈیوپاکستان کے خبروں اورحالات حاضرہ چینل کے نمائندوں کے ساتھ اپنے اپنے خصوصی انٹرویوز میں تحریک انصاف کے رہنماصداقت عباسی نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کے حل اوربھارت کے غیرقانونی اقدام کے معاملے پرپاکستانی قوم اور سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ کا بیانیہ متفقہ اوریکساں ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کسی ملک کے ساتھ کشیدگی کاخواہاں نہیں ہے تاہم کسی بھی بھارتی جارحیت کامنہ توڑ جواب دیاجائے گا۔

تحریک انصاف کے ایک اوررہنماعلی شیرارباب نے کہاکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے عالمی برادری کو یہ پیغام پہنچادیاگیاہے کہ موجودہ صورتحال سے دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے اوربھارت کی یہ خام خیالی ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کاسامناہے۔پاکستان تحریک انصاف کی رہنماڈاکٹرنوشین حمیدنے کہاکہ جنگ کسی مسئلے کاحل نہیں ہے اور پاکستان بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے کے لئے سفارتی کوششیں کرے گا۔

پیپلزپارٹی کی رہنما شاہدہ رحمانی نے کہاکہ اقوام متحدہ ، اسلامی تعاون تنظیم اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیرمیں نام نہادسیکولرملک بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کانوٹس لیناچاہیے۔

پیپلزپارٹی کے ایک اورسینیٹرگیان چند نے کہاکہ پاکستان کاہمیشہ ایک ہی موقف رہاہے کہ تنازعہ کشمیرکوکشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی حل کیاجاناچاہیے۔

پیپلزپارٹی کی رہنما ڈاکٹرDarshan Punshi نے کہاکہ اگر ہم پرجنگ مسلط کی گئی تو ہم ہرگزپیچھے نہیں ہٹیں گے اور ہماری سیکیورٹی فورسز کسی بھی بھارتی جارحیت کاجواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

گرینڈڈیموکریٹک الائنس کے رہنماغوث بخش مہرنے کہاکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کامیابی کے ساتھ درست سمت میں گامزن ہے۔