پاکستان نے مملکت سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں آج ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان وسیع تر خطے میں بھی امن اور استحکام کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی جاری رکھے گا۔
مکہ دفاعی اتحاد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد علاقائی امن اور استحکام کو مضبوط بنانا ہے اور یہ معاہدہ بنیادی طور پر تینوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے موجود تعلقات اور دوطرفہ تعاون کے متعدد پہلوؤں کو باضابطہ شکل دیتا اور مزید مضبوط بناتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی مقاصد کے لیے ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان کسی بھی جغرافیائی سیاسی صف آرائی کا حصہ نہیں بننا چاہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ بھی اپنے تعلقات بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ملک کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوسرے ملک کے تناظر میں نہیں دیکھتا۔
سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو کی حمایت کی اور اس پر فعال طور پر عملدرآمد کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان چین اور دیگر تمام ممالک کے ساتھ مل کر اس اقدام پر عملدرآمد میں مزید وسیع اور ٹھوس پیش رفت کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
ترجمان نے ممتاز حریت رہنما یاسین ملک پر بھارت کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کی بھی شدید مذمت کی۔
انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے اداروں پر زور دیا کہ وہ یاسین ملک کی حالت، ان کی صحت اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بنیادی حقوق کی منظم خلاف ورزی کا نوٹس لیں۔
سجاد حیدر خان نے کہا کہ یاسین ملک کی بگڑتی ہوئی صحت انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ عالمی برادری کو بھارتی حکومت کو یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر پر اپنے جابرانہ قبضے کو برقرار رکھنے کیلئے یاسین ملک کی زندگی اور صحت کو داؤ پر لگائے۔
انیس سو نوے سے متعلق من گھڑت الزام کے سلسلے میں حریت رہنما یاسین ملک کی جانب سے جمع کرائے گئے حلف نامے کے بارے میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ان کا موقف بھارتی عدالتی نظام پر مذمت آمیز فرد جرم ہے، جس نے کشمیری عوام کو دبانے اور انہیں انصاف کے حصول کے کسی بھی راستے سے محروم کرنے کے لیے بھارتی حکومت کے ہاتھوں ایک آسان آلے کے طور پر کام کیا ہے۔