جنوبی پنجاب کے عوام نے انتظامی بہتری، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بہتر حکمرانی کیلئے نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔
ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے شہریوں نے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے اور مثر انتظامی ڈھانچے کو عوامی مسائل کے بروقت حل کیلئے ضروری قرار دیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ عوامی مسائل کا بروقت حل اسی وقت ممکن ہے جب اختیارات اور وسائل نئے صوبوں کی شکل میں نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ مضبوط بلدیاتی نظام، اختیارات کی حقیقی منتقلی اور بہتر انتظامی ڈھانچہ متوازن ترقی کی ضمانت ہے۔
شہریوں کے مطابق نئے صوبے بننے سے عام آدمی کے مسائل کے حل اور سرکاری سہولیات تک رسائی میں بہتری آئے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے روزگار، صحت، تعلیم، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات عوام کو ان کی دہلیز پر میسر آسکیں گی۔
شہریوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے انتظامی فاصلے کم، پسماندہ علاقوں کی نمائندگی مثر اور ترقیاتی عمل تیز ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کا مقصد صرف نئی حد بندیاں نہیں بلکہ اختیارات، وسائل اور ترقی کے مواقع عوام کے قریب لانا ہے۔
شہریوں کے مطابق چھوٹے صوبوں کے قیام سے تمام علاقوں میں تعلیم، صحت اور کاروبار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔